Bharat Express DD Free Dish

Supreme Leader

ایران کی نیم سرکاری خبر رساں ایجنسی مہر نیوز نے ایک بغیر تاریخ کی ویڈیو جاری کی ہے، جس میں مجتبیٰ خامنہ ای بظاہر صحت مند نظر آرہے ہیں۔ ویڈیو کے اجرا کو مجتبیٰ خامنہ ای کی صحت اور موجودہ مقام سے متعلق بڑھتی ہوئی قیاس آرائیوں کو مسترد کرنے کی کوشش کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

رپورٹس کے مطابق ابتدا میں تکنیکی نگرانی اور سگنل انٹیلی جنس پر انحصار کیا جا رہا تھا، تاہم مجتبیٰ خامنہ ای کی مسلسل غیر موجودگی کے باعث اب انسانی ذرائع (ہیومن انٹیلی جنس) کے ذریعے معلومات حاصل کرنے کی کوششیں تیز کر دی گئی ہیں۔ ماہرین کے مطابق یہ طریقہ زیادہ پیچیدہ، سست اور خطرات سے بھرپور سمجھا جاتا ہے۔

ایرانی سرکاری نشریاتی ادارے اسلامک ریپبلک آف ایران براڈکاسٹنگ (IRIB) کے مطابق دانِش چوراہے سے روضۂ امام رضا تک غیر معمولی ہجوم کے باعث آیت اللہ خامنہ ای کی میت کو فضائی راستے سے مزار تک منتقل کیا گیا۔ سرکاری ٹیلی ویژن نے جنازے کے جلوس کے مناظر نشر کیے، جن میں سڑکوں کے دونوں جانب بڑی تعداد میں سوگوار سابق ایرانی رہنما کو آخری خراجِ عقیدت پیش کرتے دکھائی دیے۔

امریکی صدر نے پھر سے دھمکی دیتے ہوئے کہا کہ وہ ایک ہی حملے میں ایران کی پوری قیادت کو ختم کر سکتے تھے، لیکن پھر مذاکرات کے لیے کوئی باقی نہ رہتا۔ آخری رسومات میں اعلیٰ قیادت اور عوام کے غم کا مذاق اڑاتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ انہیں حیرت ہوئی کیونکہ ان کے خیال میں ایرانی عوام خامنہ ای کو پسند نہیں کرتے تھے۔

ایران کی مذہبی مجلس اسمبلی آف ایکسپرٹس نے اتوار کے روز اعلان کیا کہ 56 سالہ عالم دین مجتبیٰ خامنہ ای کو اسلامی جمہوریہ ایران کا نیا سپریم لیڈر مقرر کیا گیا ہے۔ اس تقرری کے ساتھ ہی مجتبیٰ خامنہ ای ایران کی تاریخ میں اسلامی جمہوریہ کے تیسرے سپریم لیڈر بن گئے ہیں۔

4 مارچ کو جب مجتبیٰ کا نام سامنے آیا، تو امریکہ اور اسرائیل نے اعتراض کیا۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے یہاں تک کہا کہ اگلے لیڈر کے انتخاب میں ان کا کردار ہونا چاہیے اور انہوں نے مجتبیٰ کو مسترد کرتے ہوئے انہیں ہلکے وزن کا امیدوار قرار دیا تھا۔

مشرق وسطیٰ میں جاری تنازع اب پانچویں روز میں داخل ہو چکا ہے۔ امریکی اور اسرائیلی حملوں میں سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای سمیت اہم شخصیات کی ہلاکت کے بعد تہران نے خطے میں امریکی فوجی اڈوں اور اسرائیلی اہداف پر جوابی کارروائیاں شروع کر رکھی ہیں، جس سے خطے میں کشیدگی بدستور برقرار ہے۔