ایرانی سفارت خانے نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا: ’’امریکی منصوبے پر ایران کے جواب کی تفصیلات، جسے امریکی صدر نے ‘ناقابلِ قبول’ قرار دیا۔ امریکہ کے منصوبے کے جواب میں پیش کیا گیا ایرانی مسودہ، ایرانی قوم کے بنیادی حقوق پر زور دیتا ہے۔ ایران نے امریکی منصوبے کو مسترد کر دیا ہے۔ اگر ایران اس تجویز کو قبول کر لیتا تو اس کا مطلب ہوتا کہ تہران، ٹرمپ کے حد سے زیادہ مطالبات کے سامنے جھک گیا ہے۔‘‘
ایرانی سفارت خانے نے کیا کہا؟
’’ایران کے منصوبے میں اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ امریکہ جنگی نقصانات کا معاوضہ ادا کرے اور آبنائے ہرمز پر ایران کی خودمختاری کو یقینی بنایا جائے۔ ایران نے پابندیاں ختم کرنے اور ملک کے ضبط شدہ اثاثے اور جائیداد واپس کرنے کی ضرورت پر بھی زور دیا ہے۔‘‘دوسری جانب گھانا میں ایرانی سفارت خانے نے ٹرمپ کے ایک بیان پر طنز کرتے ہوئے کہا کہ امریکی صدر دعویٰ کرتے ہیں کہ انہوں نے کچھ ’پڑھا‘ ہے، جبکہ حقیقت یہ ہے کہ اس مواد کا اصل مفہوم اب بھی ان کے لیے ایک معمہ بنا ہوا ہے۔ اس کے باوجود وہ اس بات پر پُراعتماد ہیں کہ انہیں وہ پسند نہیں آیا۔ایرانی سفارت خانے نے مزید طنزیہ انداز میں کہا کہ ٹرمپ صرف عالمی توجہ حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ وائٹ ہاؤس کے اندرونی ذرائع کے حوالے سے یہ بھی کہا گیا کہ ان کی پوری صدارت دراصل ایک ’ملٹی بلین ڈالر تھیراپی سیشن‘ کے سوا کچھ نہیں، ایسا علاج جو انہیں بچپن میں کبھی نہیں مل سکا۔
ٹرمپ کی ٹروتھ سوشل پر پوسٹ
دراصل، ایران کی جانب سے بھیجے گئے نئے مسودے پر ردِعمل دیتے ہوئے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ٹروتھ سوشل پر پوسٹ کیا تھا:’’میں نے ابھی ایران کے نام نہاد ’نمائندوں‘ کا جواب پڑھا ہے۔ مجھے یہ بالکل پسند نہیں آیا، ہرگز قابلِ قبول نہیں!‘‘ایران کے سرکاری نشریاتی ادارے آئی آر آئی بی نے اپنے ٹیلیگرام چینل پر کہا کہ امریکی منصوبے کا مطلب ایران کا’’ٹرمپ کی لالچ کے سامنے ہتھیار ڈالنا‘‘ تھا، جبکہ تہران کا جواب ایران کے بنیادی حقوق پر زور دیتا ہے۔ایران کے نئے مسودے میں امریکہ سے جنگی معاوضے، آبنائے ہرمز پر ایرانی خودمختاری، پابندیوں کے خاتمے اور ضبط شدہ ایرانی اثاثوں اور سرمائے کی واپسی کا مطالبہ بھی شامل ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔




