Bharat Express DD Free Dish

Why did the US back down from attacking Iran?: کیا خامنہ ای کی اسلامی حکومت رہے گی برقرار؟ ٹرمپ کے نرم ہوتے تیور اور بدلتی عالمی حکمت عملی

ادھر اسرائیل نے بھی اپنی تشویش ظاہر کی ہے۔ اسرائیلی خفیہ ادارے کے سربراہ ڈیوڈ برنیا ایران سے متعلق بات چیت کے لیے واشنگٹن پہنچے، جہاں انہوں نے امریکی حکام سے ملاقاتیں کیں۔ وائٹ ہاؤس نے اس سے قبل کہا تھا کہ اگر ایران میں مزید خونریزی ہوئی تو اس کے ’’سنگین نتائج‘‘ ہوں گے۔

ایران کے معاملے پر امریکہ کا سخت مؤقف اب نرم پڑتا دکھائی دے رہا ہے۔ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ، جو کچھ عرصہ قبل تک ایرانی حکومت کو سخت دھمکیاں دے رہے تھے، ٹرمپ نے اب ایران کی قیادت کا شکریہ ادا کیا۔ ٹرمپ نے کہا کہ تہران نے ملک گیر کریک ڈاؤن کے دوران گرفتار کیے گئے سینکڑوں مظاہرین کو دی جانے والی سزائے موت منسوخ کر دی ہیں، جس کے بعد براہِ راست امریکی فوجی کارروائی کے امکانات کم ہوتے نظر آ رہے ہیں۔ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’’ٹروتھ سوشل‘‘ پر لکھا کہ ایرانی حکام نے ایک دن قبل طے شدہ 800 سے زائد پھانسیوں کو منسوخ کر دیا ہے۔ انہوں نے پوسٹ میں کہا، ’’میں ایران کی قیادت کی جانب سے کل ہونے والی تمام طے شدہ پھانسیوں کو منسوخ کرنے پر احترام کے ساتھ شکریہ ادا کرتا ہوں۔‘‘ اس بیان کے بعد واضح اشارہ ملا کہ واشنگٹن فی الحال ایران کے خلاف فوجی اقدام سے گریز کرنا چاہتا ہے۔
धमकी की जगह धन्यवाद दे रहे

اس ہفتے کے آغاز میں ٹرمپ نے یہ بھی کہا تھا کہ ایران میں ہلاکتوں کی تعداد میں کمی آ رہی ہے، جس کے بعد امریکہ کی براہ راست مداخلت کے امکانات مزید کم ہو گئے۔ تاہم خطے میں امریکی فوجی اڈوں کی موجودگی اور ممکنہ نقل و حرکت صورتحال کو بدستور حساس بنائے ہوئے ہے۔جب ٹرمپ سے پوچھا گیا کہ آیا امریکہ اب بھی ایران میں مداخلت کرے گا تو انہوں نے محتاط جواب دیتے ہوئے کہا کہ ’’دیکھتے ہیں آگے کیا ہوتا ہے‘‘۔ اس سوال پر کہ کیا عرب یا اسرائیلی حکام نے انہیں ایران پر حملہ نہ کرنے کے لیے راضی کیا، ٹرمپ نے کہا کہ کسی نے انہیں نہیں روکا، بلکہ انہوں نے خود ہی یہ فیصلہ کیا ہے۔

پردے کے پیچھے خلیجی ممالک نے کشیدگی کم کرنے کے لیے سفارتی کوششیں تیز کر دی ہیں۔ ایک خلیجی عہدیدار کے مطابق سعودی عرب اور قطر نے امریکہ کو خبردار کیا ہے کہ ایران پر حملہ پورے خطے کو عدم استحکام سے دوچار کر سکتا ہے، جس کے منفی اثرات خود امریکہ تک پہنچ سکتے ہیں۔

ادھر اسرائیل نے بھی اپنی تشویش ظاہر کی ہے۔ اسرائیلی خفیہ ادارے کے سربراہ ڈیوڈ برنیا ایران سے متعلق بات چیت کے لیے واشنگٹن پہنچے، جہاں انہوں نے امریکی حکام سے ملاقاتیں کیں۔ وائٹ ہاؤس نے اس سے قبل کہا تھا کہ اگر ایران میں مزید خونریزی ہوئی تو اس کے ’’سنگین نتائج‘‘ ہوں گے۔ قابل ذکر ہے کہ ایران میں 28 دسمبر کو معاشی مشکلات کے خلاف احتجاج شروع ہوا، جو بعد میں وسیع مظاہروں میں بدل گیا۔ ان مظاہروں میں مذہبی حکومت کے خاتمے کا مطالبہ کیا گیا اور حالات رفتہ رفتہ پرتشدد ہو گئے۔ اپوزیشن گروپوں اور ایرانی حکام کے مطابق، 1979 کے اسلامی انقلاب کے بعد یہ سب سے شدید اندرونی بدامنی ہے، جس میں اب تک 2,000 سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

بھارت ایکسپریس اردو



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read