Muslims Unity: ’’ایک ہو جاؤ، ورنہ مٹا دیے جاؤ گے‘‘، ایرانی سپریم لیڈر خامنہ ای نے مسلمانوں کو اتحاد کی کیوں کی نصیحت؟
اسلامی اتحاد ہفتہ کے موقع پر جاری اپنے پیغام میں ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ سید مجتبیٰ خامنہ ای نے کہا کہ مسلم ممالک کے درمیان اتحاد، باہمی تعاون اور ایک دوسرے کا دفاع ضروری ہے۔ ان کے مطابق جو بھی مسلمانوں کے درمیان اختلاف پیدا کرتا ہے، وہ جان بوجھ کر یا نادانستہ طور پر اسلام کے دشمنوں کے مفاد کو تقویت پہنچاتا ہے۔
Ali Khamenei State Funeral: آیت اللہ علی خامنہ ای کا جنازہ مشہد پہنچا، امام رضا کے روضے میں کیا جائے گا سپرد خاک، بینر کے ذریعہ امریکی صدر کو ’’خوفناک پیغام‘‘
ایرانی سرکاری نشریاتی ادارے اسلامک ریپبلک آف ایران براڈکاسٹنگ (IRIB) کے مطابق دانِش چوراہے سے روضۂ امام رضا تک غیر معمولی ہجوم کے باعث آیت اللہ خامنہ ای کی میت کو فضائی راستے سے مزار تک منتقل کیا گیا۔ سرکاری ٹیلی ویژن نے جنازے کے جلوس کے مناظر نشر کیے، جن میں سڑکوں کے دونوں جانب بڑی تعداد میں سوگوار سابق ایرانی رہنما کو آخری خراجِ عقیدت پیش کرتے دکھائی دیے۔
Ali Khamenei Funeral: عراق میں حضرت امام علی کے روضے پر پہنچا سابق سپریم لیڈر علی خامنہ ای کا جنازہ، نجف اور کربلا میں لاکھوں سوگواروں کی شرکت، جمعرات کو مشہد میں ہوگی تدفین
نگل کی شب نجف کے بین الاقوامی ہوائی اڈے پر ایران کے صدر مسعود پزشکیان اور آیت اللہ خامنہ ای کے بڑے صاحبزادے مصطفیٰ حسینی خامنہ ای نے جسدِ خاکی وصول کیا، جس کے بعد جنازے کا جلوس نجف میں داخل ہوا۔ عراقی حکومت نے ان جنازہ تقریبات کے موقع پر بدھ کو عام تعطیل کا اعلان کیا۔ ایرانی پرچم میں لپٹے تابوت کو نجف کی سڑکوں سے گزارا گیا، جہاں ہزاروں افراد جلوس میں شریک ہوئے۔
Ali Khamenei’s State Funeral: ایران نے سابق سپریم لیڈرعلی خامنہ ای کی آخری رسومات میں شرکت کے لیے وزیراعظم مودی کودی دعوت
ذرائع کے مطابق 4 جولائی سے آغاز ہونے والی کئی روزہ تقریبات 9 جولائی کو مشہد میں تدفین پر اختتام پذیر ہوں گی۔ آخری رسومات اور تدفین کی تقریب میں متعدد عالمی رہنماؤں کی شرکت متوقع ہے۔
Neither War Nor Peace Policy: ملک کے مفاد میں نہیں ہے جنگ لیکن دباؤ میں کبھی نہیں جھکے گا ایران، نہ جنگ، نہ امن کی پالیسی سے ہمیں نکلنا ہوگا باہر: صدر مسعود پزشکیان
ایرانی صدر نے گزشتہ 100 دنوں کے دوران ایرانی خواتین کے کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ ان کی سرگرم موجودگی نے ایران کے دشمنوں کے تمام اندازے غلط ثابت کر دیے۔ انہوں نے کہا کہ مخالفین یہ سمجھ رہے تھے کہ ان کے اقدامات سے ایرانی انقلاب کمزور ہو جائے گا، لیکن خواتین کی فعال شرکت نے ان کی تمام امیدوں پر پانی پھیر دیا۔
Iran’s Warning: ’’امریکہ کی ’سمندری ڈکیتی اور غنڈہ گردی‘ جلد انوکھے فوجی کارروائی کا کرے گی سامنا…‘‘، ایران کی سخت وارننگ
امریکہ نے آبنائے ہرمز میں یہ ناکہ بندی اس وقت نافذ کی جب 11 اور 12 اپریل کو اسلام آباد میں ایران کے ساتھ ہونے والی بات چیت کے بعد کوئی معاہدہ طے نہیں پا سکا۔
Iran Postpones Funeral For Khamenei: امریکہ۔اسرائیل حملوں کے درمیان ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی آخری رسومات کی تقریب ملتوی
ایران کی دارالحکومت تہران میں سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی آخری رسومات کے سلسلے میں بدھ کی شب منعقد ہونے والی تقریب کو ملتوی کر دیا گیا ہے۔ ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق امام خمینی پریئر ہال میں 4 مارچ 2026 کی شام سے شروع ہونے والی تین روزہ تعزیتی تقریب فی الحال مؤخر کر دی گئی ہے۔
Hina Khan Supports PM Modi: ایران۔اسرائیل کشیدگی کے دوران حنا خان نے وزیر اعظم مودی کی حمایت کی، ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی موت پر سوشل میڈیا پر ہوئیں ٹرول
معروف ٹی وی اداکارہ حنا خان نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک پوسٹ شیئر کرتے ہوئے وزیر اعظم مودی کی حمایت کا اظہار کیا۔ حنا خان نے ایک بچے کی تصویر شیئر کی جس میں وہ سڑک پر ٹائر کو ڈنڈے سے چلاتے ہوئے دوڑتا دکھائی دے رہا ہے۔ تصویر کے ساتھ انہوں نے لکھا کہ جو لوگ خود کچھ ٹھیک سے نہیں چلا سکتے، وہ اس شخص پر سوال اٹھا رہے ہیں جو اتنے بڑے ملک کو چلا رہا ہے۔
India on High Alert: علی خامنہ ای کی موت کے بعد بھارت میں ہائی الرٹ، قانون کی خلاف ورزی پر سخت کارروائی کا انتباہ
پولیس کی جانب سے جاری اپیل میں کہا گیا ہے کہ لوگ توڑ پھوڑ، ہنگامہ آرائی، پتھراؤ یا کسی بھی قسم کی بدامنی کا حصہ نہ بنیں۔ اس طرح کے اقدامات نہ صرف قانون کے خلاف ہیں بلکہ عام شہریوں، تاجروں، طلبہ اور یومیہ مزدوروں کے لیے بھی شدید مشکلات کا باعث بنتے ہیں۔
Ayatollah Ali Khamenei Death: دوست، دشمن یا شراکت دار؟ بھارت کے لیے کیا تھے ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای؟
امریکی اور اسرائیلی حملوں کے بعد خامنہ ای کی موت کی تصدیق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے کیے گئے بیان کے بعد عالمی سطح پر زیر بحث آئی، جس کے بعد ایران میں 40 روزہ قومی سوگ کا اعلان کیا گیا۔ تاہم اس واقعے نے بھارت میں ایک اہم سوال کو جنم دیا کہ آیا خامنہ ای بھارت کے دوست تھے، دشمن یا صرف ایک شراکت دار۔





