Bharat Express DD Free Dish

Ali Khamenei

ایران میں موجودہ غیر یقینی صورتحال کے دوران عالمی میڈیا اور سیاسی حلقوں میں یہ سوال شدت سے زیر بحث ہے کہ اگر ملک میں اقتدار کی تبدیلی یا ممکنہ تختہ الٹ ہوتا ہے تو کیا رضا پہلوی دوبارہ اقتدار میں آ سکتے ہیں۔ حالیہ بیانات، علاقائی کشیدگی اور عالمی طاقتوں کی سرگرمیوں نے اس بحث کو مزید تقویت دی ہے۔

ایران کی سیاست میں ایک اہم اور غیر معمولی موڑ اس وقت سامنے آیا جب سابق سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی مبینہ ہلاکت کے بعد ان کے صاحبزادے مجتبیٰ خامنہ ای کو ملک کا نیا سپریم لیڈر مقرر کر دیا گیا۔ اس فیصلے نے نہ صرف ایران بلکہ عالمی سیاسی حلقوں میں بھی نئی بحث چھیڑ دی ہے کیونکہ پہلی مرتبہ اقتدار براہ راست خاندانی دائرے میں منتقل ہونے کا تاثر پیدا ہوا ہے۔

مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی جنگی کشیدگی کے درمیان ایران نے اپنی عسکری قیادت میں بڑا فیصلہ کرتے ہوئے احمد واحدی کو اسلامی انقلابی گارڈ کور کا نیا کمانڈر اِن چیف مقرر کر دیا ہے۔ یہ فیصلہ مبینہ طور پر سابق سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی ہلاکت کے بعد کیا گیا، جس کے نتیجے میں خطے کی سیاسی و فوجی صورتحال مزید حساس ہو گئی ہے۔

اسرائیل اور امریکہ کے حملوں کے بعد سیاسی و مذہبی حلقوں میں بحث تیز ہوگئی ہے، مختلف لیڈروں کے بیانات سامنے آگئے ہیں۔ جانئے بھارت میں کس نے کیا کہا؟

صدر پزشکیان نے انتظامی کوتاہیوں اور خامیوں پر قوم سے معذرت کرتے ہوئے کہا کہ ان کی حکومت مسائل کے حل کے لیے سنجیدگی اور عزم کے ساتھ کام کر رہی ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ اللہ کی مدد اور انقلاب کے رہبر آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی دانشمندانہ رہنمائی سے کامیابی حاصل ہوگی۔

ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی ایک بار پھر خطرناک مرحلے میں داخل ہوتی نظر آ رہی ہے۔ دونوں ممالک کی جانب سے سخت بیانات اور کھلی دھمکیوں کے تبادلے نے مشرقِ وسطیٰ میں بے چینی بڑھا دی ہے۔ ایک طرف امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ یہ دعویٰ کر رہے ہیں کہ امریکہ ہر ممکن طریقے سے ایران سے نمٹنے کے لیے تیار ہے، تاہم وہ بات چیت کو ترجیح دیتے ہیں، جبکہ دوسری جانب ایران مسلسل خبردار کر رہا ہے کہ کسی بھی حملے کا بھرپور اور سخت جواب دیا جائے گا۔

ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای نے اتوار کے روز امریکہ کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ اس بار جنگ آسانی سے ختم نہیں ہوگی۔ اگر امریکہ نے حملہ کیا تو یہ علاقائی جنگ میں بدل جائے گی۔

ادھر اسرائیل نے بھی اپنی تشویش ظاہر کی ہے۔ اسرائیلی خفیہ ادارے کے سربراہ ڈیوڈ برنیا ایران سے متعلق بات چیت کے لیے واشنگٹن پہنچے، جہاں انہوں نے امریکی حکام سے ملاقاتیں کیں۔ وائٹ ہاؤس نے اس سے قبل کہا تھا کہ اگر ایران میں مزید خونریزی ہوئی تو اس کے ’’سنگین نتائج‘‘ ہوں گے۔