دنیا کی سیاست میں ایک طاقتور باب اس وقت بند ہوتا دکھائی دیا جب ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی ہلاکت کی خبر سامنے آئی۔ ایران کے سپریم لیڈر کی موت نے عالمی سفارتکاری، مشرق وسطیٰ کی سیاست اور جنوبی ایشیا کے تزویراتی توازن کو گہرے اثرات سے دوچار کر دیا ہے۔ خاص طور پر بھارت میں اس خبر کی بازگشت غیر معمولی رہی، جہاں خامنہ ای کی شخصیت کو مختلف زاویوں سے دیکھا جاتا رہا۔ امریکی اور اسرائیلی حملوں کے بعد خامنہ ای کی موت کی تصدیق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے کیے گئے بیان کے بعد عالمی سطح پر زیر بحث آئی، جس کے بعد ایران میں 40 روزہ قومی سوگ کا اعلان کیا گیا۔ تاہم اس واقعے نے بھارت میں ایک اہم سوال کو جنم دیا کہ آیا خامنہ ای بھارت کے دوست تھے، دشمن یا صرف ایک شراکت دار۔ خامنہ ای کی وفات کی خبر سامنے آتے ہی جموں و کشمیر کے کئی علاقوں، خصوصاً شیعہ آبادی والے خطوں میں سوگ کا ماحول دیکھا گیا۔ مقامی مذہبی تنظیموں اور سماجی حلقوں نے انہیں اسلامی دنیا کا اہم رہنما قرار دیتے ہوئے تعزیت کا اظہار کیا۔ خطے کے ایک طبقے کے لیے وہ محض سیاسی رہنما نہیں بلکہ مذہبی و روحانی شخصیت بھی سمجھے جاتے تھے۔
بھارتی عوامی رائے اگر دیکھی جائے تو خامنہ ای کی شخصیت ہمیشہ دو متضاد نظریات کے درمیان گھری رہی۔ ایک طبقہ انہیں سخت گیر مذہبی حکمران اور قدامت پسندی کی علامت سمجھتا تھا۔ انسانی حقوق، خواتین کی آزادی اور نوجوانوں کے احتجاجی مظاہروں کے دوران ایرانی حکومت کے سخت اقدامات نے بھارت کے لبرل حلقوں میں ان کی شبیہ کو آمرانہ حکمران کے طور پر مضبوط کیا۔ دوسری جانب بھارت کے شیعہ مسلمانوں اور مغرب مخالف سیاسی سوچ رکھنے والے حلقوں میں خامنہ ای کو ایک مضبوط مزاحمتی رہنما کے طور پر دیکھا جاتا تھا۔ ان کے حامیوں کا ماننا تھا کہ انہوں نے امریکہ اور اسرائیل کے دباؤ کے باوجود فلسطین اور خطے کے دیگر معاملات پر مستقل مؤقف اختیار کیا اور خودمختاری کی سیاست کو فروغ دیا۔
بھارت کی سرکاری پالیسی تاہم ہمیشہ متوازن رہی۔ نئی دہلی نے شخصیات کے بجائے قومی مفادات کو ترجیح دی۔ خامنہ ای کے دور میں ہی بھارت اور ایران کے درمیان اسٹریٹجک تعاون کو نئی سمت ملی، جس کی سب سے نمایاں مثال چاہ بہار بندرگاہ منصوبہ ہے۔ یہ بندرگاہ بھارت کو پاکستان کو بائی پاس کرتے ہوئے افغانستان اور وسطی ایشیا تک تجارتی رسائی فراہم کرتی ہے، جسے بھارتی خارجہ پالیسی کی بڑی کامیابی تصور کیا جاتا ہے۔ امریکی پابندیوں کے باوجود بھارت نے ایران کے ساتھ توانائی تعاون برقرار رکھنے کی کوشش کی۔ خام تیل، زرعی مصنوعات اور تجارتی روابط دونوں ممالک کی اقتصادی شراکت داری کا اہم حصہ رہے۔ یہی وجہ تھی کہ سیاسی اختلافات کے باوجود تعلقات مکمل طور پر منقطع نہیں ہوئے۔ تاہم تعلقات ہمیشہ ہموار نہیں رہے۔ متعدد مواقع پر خامنہ ای کے بیانات نے نئی دہلی کو ناراض بھی کیا۔ خاص طور پر کشمیر کے مسئلے اور بھارت میں اقلیتوں کی صورتحال پر ان کے تبصروں کو بھارتی حکومت نے داخلی معاملات میں مداخلت قرار دیا اور سفارتی سطح پر احتجاج بھی ریکارڈ کرایا۔
ماہرین کے مطابق خامنہ ای کی قیادت میں بھارت اور ایران کے تعلقات حقیقت پسندی پر مبنی رہے، جہاں نظریاتی اختلافات کے باوجود اقتصادی اور تزویراتی مفادات غالب رہے۔ ان کی موت کے بعد سب سے بڑا سوال یہی ہے کہ آیا نئی ایرانی قیادت بھارت کے ساتھ اسی توازن کو برقرار رکھ سکے گی یا خطے کی بدلتی سیاست تعلقات کو نئی سمت دے گی۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ خامنہ ای نہ مکمل دوست تھے، نہ کھلے دشمن، بلکہ بھارت کے لیے ایک ایسے شراکت دار تھے جن کے ساتھ تعلقات مفادات، احتیاط اور سفارتی توازن کے درمیان قائم رہے۔ آنے والے برس طے کریں گے کہ یہ پیچیدہ رشتہ کس سمت آگے بڑھتا ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔


