تہران: ایران میں سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی موت کے بعد پیدا ہونے والے سیاسی خلا نے ایک ایسے نام کو دوبارہ عالمی منظرنامے پر لا کھڑا کیا ہے جو گزشتہ چار دہائیوں سے جلاوطنی کی زندگی گزار رہا ہے۔ یہ نام ہے رضا پہلوی، جو ایران کے آخری بادشاہ کے بیٹے اور سابق شاہی خاندان کے وارث ہیں۔ ایران میں موجودہ غیر یقینی صورتحال کے دوران عالمی میڈیا اور سیاسی حلقوں میں یہ سوال شدت سے زیر بحث ہے کہ اگر ملک میں اقتدار کی تبدیلی یا ممکنہ تختہ الٹ ہوتا ہے تو کیا رضا پہلوی دوبارہ اقتدار میں آ سکتے ہیں۔ حالیہ بیانات، علاقائی کشیدگی اور عالمی طاقتوں کی سرگرمیوں نے اس بحث کو مزید تقویت دی ہے۔ رضا پہلوی دراصل ایران کے آخری بادشاہ محمد رضا شاہ پہلوی کے صاحبزادے ہیں جن کی حکومت 1979 کے اسلامی انقلاب کے دوران ختم ہو گئی تھی۔ اس انقلاب کی قیادت آیت اللہ روح اللہ خمینی نے کی تھی جس کے بعد شاہی نظام کا خاتمہ ہوا اور ایران میں اسلامی جمہوریہ قائم ہوئی۔ اسی انقلاب کے بعد پہلوی خاندان کو ملک چھوڑنا پڑا اور رضا پہلوی امریکہ میں مقیم ہو گئے۔
گزشتہ کئی برسوں سے رضا پہلوی خود کو ایران میں جمہوری تبدیلی کی آواز کے طور پر پیش کرتے رہے ہیں۔ وہ مسلسل ایرانی عوام سے موجودہ مذہبی نظام کے خلاف احتجاج کرنے اور سیاسی اصلاحات لانے کی اپیل کرتے رہے ہیں۔ مبصرین کے مطابق انہیں مغربی ممالک خصوصاً امریکہ کے بعض حلقوں کی ہمدردی حاصل رہی ہے۔ حال ہی میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ایک بیان نے سیاسی قیاس آرائیوں کو مزید ہوا دی، جس میں انہوں نے اشارہ دیا کہ ایران کی قیادت کے مستقبل کے حوالے سے ان کے پاس واضح منصوبہ موجود ہے۔ سیاسی تجزیہ کاروں نے اس بیان کو ممکنہ طور پر رضا پہلوی کی واپسی کے اشارے کے طور پر دیکھا۔
خامنہ ای کی موت کی خبریں سامنے آنے کے فوراً بعد رضا پہلوی نے سوشل میڈیا پر سخت پیغام جاری کرتے ہوئے ایرانی نظام حکومت پر شدید تنقید کی۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ حکمران ڈھانچہ کمزور ہو چکا ہے اور ایرانی عوام کو اب اپنے مستقبل کا فیصلہ خود کرنا ہوگا۔ ان کا مؤقف ہے کہ کسی نئے مذہبی جانشین کی تقرری عوامی خواہشات کی نمائندگی نہیں کرے گی۔ رضا پہلوی نے ایرانی فوج اور سکیورٹی اداروں سے بھی براہ راست اپیل کرتے ہوئے کہا کہ وہ ریاستی طاقت کے بجائے عوام کے ساتھ کھڑے ہوں۔ انہوں نے سکیورٹی فورسز کو خبردار کیا کہ بدلتے حالات میں قومی مفاد کو ترجیح دینا ہی ملک کے استحکام کی ضمانت بن سکتا ہے۔
ماہرین کا ماننا ہے کہ اگر ایران میں سیاسی تبدیلی آتی ہے اور مغرب نواز قیادت قائم ہوتی ہے تو اس کے اثرات عالمی سیاست اور توانائی منڈیوں پر گہرے ہو سکتے ہیں۔ ایران دنیا کے اہم تیل پیدا کرنے والے ممالک میں شامل ہے، اس لیے کسی بھی سیاسی تبدیلی کا اثر عالمی معیشت تک پہنچ سکتا ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق اصل فیصلہ ایرانی عوام، فوجی اسٹیبلشمنٹ اور عالمی طاقتوں کی حکمت عملی کے درمیان طے ہوگا۔ اگر ملک میں بڑے پیمانے پر عوامی احتجاج شروع ہوتا ہے اور ریاستی اداروں کی حمایت تبدیل ہوتی ہے تو چار دہائیوں بعد ایران کی سیاسی تاریخ ایک نئے دور میں داخل ہو سکتی ہے۔ اب سوال یہی ہے کہ کیا رضا پہلوی جلاوطن شہزادے سے ایران کے ممکنہ حکمران بن سکیں گے یا یہ بحث صرف سیاسی قیاس آرائیوں تک محدود رہے گی۔ آنے والے دن اس تاریخی سوال کا جواب طے کریں گے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔


