Bharat Express DD Free Dish

Reza Pahlavi

ایران میں موجودہ غیر یقینی صورتحال کے دوران عالمی میڈیا اور سیاسی حلقوں میں یہ سوال شدت سے زیر بحث ہے کہ اگر ملک میں اقتدار کی تبدیلی یا ممکنہ تختہ الٹ ہوتا ہے تو کیا رضا پہلوی دوبارہ اقتدار میں آ سکتے ہیں۔ حالیہ بیانات، علاقائی کشیدگی اور عالمی طاقتوں کی سرگرمیوں نے اس بحث کو مزید تقویت دی ہے۔

رضا پہلوی ایران کے آخری شاہ کے صاحبزادے ہیں اور گزشتہ کئی دہائیوں سے امریکہ میں جلاوطنی کی زندگی گزار رہے ہیں۔ حالیہ برسوں میں وہ بیرونِ ملک سے ایران میں حکومت مخالف احتجاجی تحریکوں کی حمایت کرتے رہے ہیں اور عندیہ دے چکے ہیں کہ موقع ملنے پر وہ تہران واپس آ کر عبوری قیادت کے ذریعے ملک کو جمہوری نظام کی جانب لے جانا چاہتے ہیں۔

رضا پہلوی نے الزام لگایا کہ حالیہ پرتشدد کارروائیوں اور مبینہ قتلِ عام کے بعد عوام اور موجودہ حکومت کے درمیان “خون کا ساگر” بہہ چکا ہے۔ ان کے مطابق اب تک 2400 سے زائد افراد اپنی جانیں گنوا چکے ہیں۔ انہوں نے مظاہرین سے یہ بھی کہا کہ وہ ان افراد کے نام اور تفصیلات محفوظ کریں جو مبینہ جرائم میں ملوث ہیں، تاکہ مستقبل میں انہیں ان کے اعمال کی سزا دی جا سکے۔

مظاہرین سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی قیادت والی حکومت کو ہٹانے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ تہران کی سڑکوں پر عوام حکومت کے خلاف احتجاج کر رہے ہیں، جبکہ ایران کے جلاوطن ولی عہد شہزادہ رضا پہلوی نے واپسی کے اشارے دیتے ہوئے مظاہرین سے احتجاج جاری رکھنے کی اپیل کی ہے۔

ایران میں آیت اللہ خامنہ ای کی قیادت والی حکومت کے خلاف عوام سڑکوں پر ہیں۔ یہ احتجاج بڑھتی مہنگائی، خراب معاشی حالات اور سکیورٹی فورسز کی سخت گیر کارروائیوں کے خلاف ہو رہا ہے۔ ایران کے جلا وطن ولی عہد شہزادہ رضا پہلوی نے جمعرات اور جمعہ کے روز مقامی وقت کے مطابق رات 8 بجے احتجاج کی اپیل کی تھی۔