ایران کے صدر مسعود پیزشکیان۔
تہران: ایران میں پرتشدد احتجاج کو تین دن گزرنے کے بعد صدر مسعود پیزشکیان نے سخت لہجے میں بیان دیتے ہوئے اُن عناصر کی مذمت کی ہے جو ’فسادیوں اور دہشت گردوں‘ کی آڑ میں ایرانی معاشرے میں بدامنی پھیلانا چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بیرون ملک سے دہشت گرد ایران میں آئے، انہوں نے مساجد کو آگ لگا دی۔ انہوں نے لوگوں کو آگ لگا دی، کچھ کے سر قلم کر دیے۔ وہ جائے وقوعہ پر بے گناہ لوگوں کو مار رہے ہیں، آگ لگا رہے ہیں۔ یہ ایسی چیز نہیں ہے جسے قبول کیا جا سکے۔ یہ لوگ اس ملک سے تعلق نہیں رکھتے۔ اگر کوئی اس ملک کا ہے تو وہ احتجاج کرے، ہم ان کا احتجاج سنیں گے، سنیں گے اور حل کریں گے۔
صدر پیزشکیان نے کہا کہ امریکہ اور اسرائیل فسادات کو ہوا دے کر ایران میں افراتفری اور انتشار پھیلانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ امریکہ اور اسرائیل وہیں بیٹھے ہیں، مظاہرین کو یہ سکھا رہے ہیں، ’آگے بڑھو، ہم بھی یہاں ہیں۔‘ انہوں نے امریکہ اور اسرائیل کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے کہا کہ یہ وہی لوگ جنہوں نے اس ملک پر حملہ کیا اور ہمارے نوجوانوں اور بچوں کو مارا، اب ان لوگوں کو یہ کام کرنے کا حکم دے رہے ہیں… ’ہم یہاں ہیں، تم تباہ ہو جاؤ، ہم تمہارے پیچھے آئیں گے۔‘
صدر مسعود پیزشکیان نے ایرانی عوام سے اپیل کی کہ وہ ’فسادیوں اور دہشت گردوں‘ سے خود کو الگ رکھیں۔ اتوار (11 جنوری) کو قوم سے خطاب کرتے ہوئے پیزشکیان نے عوام کو یقین دلایا کہ حکومت ان کے مطالبات اور خدشات پر توجہ دے گی۔ انہوں نے خبردار کیا کہ فسادیوں کو معاشرے میں بدامنی پھیلانے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
لوگ فکرمند ہیں، اور ہمیں اس کا احساس
ایرانی سرکاری ٹیلی ویژن کو دیے گئے ایک انٹرویو میں صدر پیزشکیان نے کہا، ’’ایرانیوں کو فسادیوں کو معاشرے میں انتشار پھیلانے کی اجازت نہیں دینی چاہیے۔ عوام کو یہ سمجھنا ہوگا کہ حکومت انصاف چاہتی ہے۔‘‘ انہوں نے مزید کہا، ’’لوگ فکرمند ہیں، اور ہمیں اس کا احساس ہے۔‘‘
ایرانی میں 100 سے زائد افراد کی ہلاکت
ایرانی حکومت کی کارروائیوں کے دوران مبینہ طور پر 100 سے زائد افراد کی ہلاکت کی اطلاعات ہیں۔ احتجاج کے آغاز کے بعد پہلی بار صدر پیزشکیان نے عوام کو کچھ راحت دینے کے لیے ایک معاشی منصوبہ بھی پیش کیا ہے۔ پابندیوں کی زد میں آیا ملک اب بھی شدید معاشی مشکلات سے دوچار ہے۔
مسلسل چودھویں دن بھی مظاہرے جاری
یہ احتجاج، جو ابتدا میں تہران میں بڑھتی مہنگائی اور معاشی دباؤ کے خلاف چھوٹے مظاہروں کی صورت میں شروع ہوئے تھے، اب سخت سکیورٹی اقدامات اور ملک بھر میں انٹرنیٹ بلیک آؤٹ کے باوجود مسلسل چودھویں دن میں داخل ہو چکے ہیں۔
مظاہرین سے احتجاج جاری رکھنے کی اپیل
مظاہرین سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی قیادت والی حکومت کو ہٹانے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ تہران کی سڑکوں پر عوام حکومت کے خلاف احتجاج کر رہے ہیں، جبکہ ایران کے جلاوطن ولی عہد شہزادہ رضا پہلوی نے واپسی کے اشارے دیتے ہوئے مظاہرین سے احتجاج جاری رکھنے کی اپیل کی ہے۔
بھارت ایکسپریس۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔


