Bharat Express DD Free Dish

Abbas Araqchi

مصر کی وزارت خارجہ کے مطابق، دونوں لیڈران نے اس بات پر اتفاق کیا کہ مذاکرات کے دوسرے دور کے امکانات تلاش کیے جائیں تاکہ دونوں فریقوں کے درمیان پائیدار جنگ بندی، کشیدگی میں کمی اور جاری تنازع کے خاتمے کے لیے سازگار ماحول بنایا جا سکے۔

امریکہ اورایران کے درمیان 14 دنوں کی جنگ بندی پربھلے ہی رضا مندی بن گئی ہو، لیکن مشرق وسطیٰ میں کشیدگی ابھی بھی برقرارہے۔ اسی درمیان اسرائیل نے حزب اللہ سربراہ نعیم قاسم کے بھتیجے کو ہلاک کرنے کا بڑا دعویٰ کیا ہے۔

دوسری جانب ایران کے وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے بھی اس پیش رفت میں پاکستان کے کردار کو سراہا۔ انہوں نے اپنے بیان میں کہا کہ ایران پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کی کوششوں کو قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے،

عراقچی نے کہا کہ گزشتہ 37 دنوں کے دوران امریکہ اور اسرائیل نے ایران کے عوام کے خلاف متعدد حملے کیے ہیں، جن میں صنعتی ڈھانچے، فیکٹریاں، اسپتال، اسکول، رہائشی علاقے اور جوہری تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا۔

ایران نے مذاکرات کی ممکنہ صورتحال پر ملے جلے اشارے دیے ہیں، جب یہ خبریں آئیں کہ ٹرمپ انتظامیہ نے اس ہفتے کی شروعات میں پاکستان کے ذریعے تہران کو 15 نکاتی جنگ بندی منصوبہ پیش کیا تھا۔ عوامی سطح پر، ایرانی سرکاری میڈیا نے بتایا کہ تہران نے اس پیشکش کو مسترد کر دیا ہے۔

عراقچی نے ایران کے دشمنوں پر الزام عائد کیا کہ وہ اپنی پوری طاقت استعمال کر کے ایران کو ’بغیر کسی شرط کے ہتھیار ڈالنے‘ پر مجبور کرنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دو ہفتوں سے زائد عرصہ گزرنے کے بعد اب ایران کے مخالفین انہی ممالک سے مدد مانگ رہے ہیں جنہیں وہ پہلے دشمن سمجھتے تھے۔

اسرائیل اور ایران کے درمیان کئی دنوں تک حملے جاری رہے جس سے دونوں ممالک کے انفراسٹرکچر کو بھی کافی نقصان پہنچا۔ اس کے ساتھ ہی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے خبردار کیا ہے کہ اگر ایران نے دوبارہ اپنے جوہری پروگرام کو آگے بڑھایا تو امریکہ زیادہ سوچے سمجھے بغیر دوبارہ ایران پر بمباری کرے گا۔

بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی (IAEA) کے ساتھ تعاون ختم نہیں ہوا بلکہ اسے نئی شکل میں جاری رکھا گیا ہے۔ اب ایران کا جوہری تعاون براہ راست سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل کی نگرانی میں ہوگا، جو سیکورٹی اور قومی مفاد کو مدنظر رکھ کر فیصلے کرے گی۔