نئی دہلی: جنگ بندی سے متعلق اپنے مؤقف کو واضح کرنے کے بعد ایران کے وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے اب ہمسایہ ممالک کو سخت پیغام دیا ہے۔ عراقچی نے کہا کہ وہ ہمسایہ ممالک جو ایران پر حملوں کی اجازت دے رہے ہیں، دراصل نسل کشی کو فروغ دے رہے ہیں۔ ان کے مطابق ان حملوں میں 200 سے زائد بچے شامل ہیں جبکہ سینکڑوں عام شہری بھی مارے جا چکے ہیں۔
امریکہ کے اتحادیوں سے وضاحت کا مطالبہ
انہوں نے کہا کہ جو ممالک امریکہ کے ساتھ مل کر ان حملوں میں معاونت کر رہے ہیں، انہیں چاہیے کہ وہ جلد از جلد اپنا مؤقف واضح کریں۔ عراقچی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر ایک پوسٹ میں کہا، ’’اسرائیل اور امریکہ کی بمباری میں سینکڑوں ایرانی شہری ہلاک ہو چکے ہیں، جن میں 200 سے زائد بچے بھی شامل ہیں۔ بعض رپورٹس کے مطابق کچھ ہمسایہ ممالک، جہاں امریکی افواج موجود ہیں، ایران پر حملوں کی اجازت دے کر اس نسل کشی میں سرگرم کردار ادا کر رہے ہیں۔ انہیں فوری طور پر اپنی پوزیشن واضح کرنی چاہیے۔‘‘
عراقچی نے ٹرمپ کے دعوے کو کیا مسترد
اس سے قبل ایران کے وزیر خارجہ نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس دعوے کو یکسر مسترد کر دیا تھا جس میں کہا گیا تھا کہ ایران امریکہ کے ساتھ کسی معاہدے کی کوشش کر رہا ہے۔ عراقچی نے ان دعوؤں کو ’گمراہ کن‘ قرار دیا۔
ایران کا جنگ کے خاتمے سے متعلق مؤقف
انہوں نے کہا کہ ایران کی مسلح افواج اس وقت تک لڑتی رہیں گی جب تک امریکی صدر یہ تسلیم نہیں کر لیتے کہ وہ ایک غیر قانونی جنگ مسلط کر رہے ہیں، جو نہ صرف ایرانیوں بلکہ امریکی عوام کے لیے بھی نقصان دہ ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ ’’جب ہم کہتے ہیں کہ ہم جنگ بندی نہیں چاہتے، اس کا مطلب یہ نہیں کہ ہم جنگ جاری رکھنا چاہتے ہیں، بلکہ ہم چاہتے ہیں کہ اس جنگ کا انجام ایسا ہو کہ دشمن دوبارہ حملے کی ہمت نہ کرے۔‘‘
عراقچی نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ پر کیا طنز
ژنہوا نیوز ایجنسی کے مطابق، عراقچی نے ایران کے دشمنوں پر الزام عائد کیا کہ وہ اپنی پوری طاقت استعمال کر کے ایران کو ’بغیر کسی شرط کے ہتھیار ڈالنے‘ پر مجبور کرنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دو ہفتوں سے زائد عرصہ گزرنے کے بعد اب ایران کے مخالفین انہی ممالک سے مدد مانگ رہے ہیں جنہیں وہ پہلے دشمن سمجھتے تھے۔
ایران نے آبنائے ہرمز پر واضح کیا مؤقف
عراقچی نے مزید کہا کہ ایران صرف اپنے دشمنوں اور ان کے اتحادیوں کے لیے ہی آمد و رفت کو محدود کرتا ہے، جبکہ آبنائے ہرمز میں جہازوں کی حفاظت کے لیے بین الاقوامی مدد طلب کی جا رہی ہے۔
بھارت ایکسپریس۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔


