Iran-US-Israel Conflict: ایران-اسرائیل جنگ سے عالمی معیشت پر خطرے کے بادل، کیا 2027 تک مہنگائی اور کساد بازاری کا نیا طوفان آئے گا، جانئے ورلڈ بینک نے کیا وارننگ دی؟
اقتصادی تجزیہ کاروں کے مطابق فروری 2026 کے آخر میں شروع ہونے والی کشیدگی اب 100 دن سے زیادہ کا عرصہ طے کر چکی ہے۔ اگرچہ مختلف مواقع پر جنگ بندی اور سفارتی مذاکرات کی امیدیں پیدا ہوئیں، تاہم ایران اور اسرائیل کے درمیان دوبارہ شروع ہونے والی فوجی کارروائیوں نے صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔
Iran-US Deal Final: ایران اور امریکہ کے درمیان اہم پیش رفت، تین نکات پر اتفاق، جنگ کے خاتمے کا اعلان جلد متوقع
ذرائع کے مطابق آئندہ 48 گھنٹوں کے اندر دونوں ممالک کے درمیان ایک باضابطہ معاہدے پر دستخط کیے جانے کا امکان ہے، جس کے بعد جنگ کے خاتمے کا باضابطہ اعلان کیا جا سکتا ہے۔ سفارتی حلقوں میں اس پیش رفت کو غیر معمولی قرار دیا جا رہا ہے۔
Iran-US War Energy Crisis: ایران-امریکہ جنگ کے بعد عالمی توانائی بحران سنگین، آبنائے ہرمز کھلنے کے باوجود اب سستا تیل ملنا مشکل
جنگ سے قبل عالمی سطح پر تیل اور گیس کی فراہمی نسبتاً مستحکم تھی اور قیمتیں بھی قابو میں تھیں، جس کے باعث کاروباری سرگرمیاں تیزی سے جاری تھیں اور معیشت ترقی کر رہی تھی۔ تاہم موجودہ صورتحال نے اس توازن کو بگاڑ دیا ہے اور عالمی منڈی میں بے یقینی بڑھ گئی ہے۔ ماہرین کے مطابق اب وہ حالات دوبارہ بحال کرنا آسان نہیں رہے۔
Donald Trump Hormuz Strait Blockade Threat: اسلام آباد مذاکرات ناکام، ٹرمپ کا سخت ردعمل، آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہاز روکنے کی دھمکی
امریکی صدر نے دعویٰ کیا کہ فوری طور پر امریکی بحریہ کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ آبنائے ہرمز میں داخل ہونے یا وہاں سے نکلنے کی کوشش کرنے والے کسی بھی جہاز کو روکنے کے اقدامات شروع کرے۔ انہوں نے کہا کہ یہ قدم عالمی تجارت کے تحفظ اور غیر قانونی دباؤ کو ختم کرنے کے لیے ضروری ہے۔
Defence Expert PK Sehgal On Hormuz Strait: آبنائے ہرمز کھلے یا نہ کھلے، سب سے زیادہ نقصان بھارت کو ہوگا: دفاعی ماہر پی کے سہگل
پی کے سہگل نے کہا کہ چاہے آبنائے ہرمز کھلی رہے یا بند ہو جائے، آنے والا وقت پوری دنیا کے لیے انتہائی مشکل ثابت ہو سکتا ہے، تاہم بھارت کو طویل مدت میں سب سے زیادہ نقصان اٹھانا پڑے گا۔ ان کے مطابق ایران میں حالیہ تنازعات کے باعث بنیادی ڈھانچہ شدید متاثر ہوا ہے، جہاں ریفائنریاں، پائپ لائنیں اور بندرگاہیں تباہی کا شکار ہو چکی ہیں۔
Israel Hezbollah Conflict 2026: لاشوں کے ڈھیر پر کھڑا سیزفائر! اسرائیل کا لبنان پر فضائی حملہ جاری، ایران کی جوابی کارروائی، دنیا حیران
اسرائیل کے وزیر اعظم نتن یاہو نے واضح طور پر کہا ہے کہ لبنان کسی بھی جنگ بندی معاہدے کا حصہ نہیں ہے اور حزب اللہ کے خلاف کارروائیاں جاری رہیں گی۔ ان کا کہنا تھا کہ اسرائیل اپنی سلامتی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا اور ہر خطرے کا بھرپور جواب دیا جائے گا۔
US Rescues Downed Pilot In Iran: ایران میں خطرناک فوجی آپریشن، امریکہ نے لاپتہ پائلٹ کو کیا بازیاب
اطلاعات کے مطابق ایران نے حالیہ فضائی جھڑپ کے دوران امریکہ کے دو جنگی طیارے ایف 15 ای اور اے 10 کو مار گرایا تھا۔ اس کارروائی میں ایف 15 ای طیارے کے دو عملے کے ارکان میں سے ایک کو پہلے ہی امریکی اسپیشل فورسز نے ریسکیو کر لیا تھا، جبکہ دوسرا اہلکار لاپتہ ہو گیا تھا۔
Tehran Claims to Shoot Down US Aircraft: اسرائیل بولا- ایران کے 120 ٹھکانوں پر کیے حملے… تہران نے تصویریں شیئر کرتے ہوئے امریکی ایئر کرافٹ کو مار گرانے کا کیا دعویٰ
ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا کہ لاپتہ امریکی اہلکار کو محفوظ طریقے سے نکال لیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ امریکی فوج نے تاریخ کے سب سے جرات مندانہ سرچ اینڈ ریسکیو آپریشنز میں سے ایک انجام دیا۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے انہیں بچا لیا۔ گزشتہ چند گھنٹوں میں امریکی فوج نے انتہائی جرات مندانہ کارروائی کی۔
Araghchi Speaks with Ishaq Dar Over Phone: پاکستان میں بات چیت سے انکار کے بعد ایرانی وزیر خارجہ نے پیش کی فضاحت، اسحاق ڈار سے کی فون پر بات
پاکستانی اخبار دی ایکسپریس ٹریبیون نے 3 اپریل 2026 کو رپورٹ کیا تھا کہ امریکہ بات کرنے کے لیے تیار تھا لیکن ایران نے آخری لمحے میں اسلام آباد آنے سے انکار کر دیا۔ اسی طرح امریکی اخبار دی وال اسٹریٹ جرنل نے بھی پاکستانی حکام کے حوالے سے اسی نوعیت کی رپورٹ شائع کی تھی۔
Iran Threatens US and Israel: ’’بنیادی ڈھانچے پر حملہ ہوا تو دیں گے تباہ کن جواب…‘‘، ایران کی امریکہ اور اسرائیل کو بڑی دھمکی
ایران کی اسلامی انقلابی گارڈ کور (آئی آر جی سی) کی بحریہ نے دعویٰ کیا کہ اس نے ڈرون کے ذریعے اسرائیل سے منسلک ایک جہاز کو نشانہ بنایا، جس کے بعد اس میں آگ لگ گئی۔ آئی آر جی سی کے سرکاری میڈیا پلیٹ فارم سپاہ نیوز کے مطابق یہ حملہ بحرین کی ایک بندرگاہ میں اسرائیلی ملکیت کے تجارتی جہاز پر کیا گیا۔





