واشنگٹن: امریکہ اور ایران کے درمیان اسلام آباد میں ہونے والے مذاکرات کی ناکامی کے بعد عالمی سطح پر کشیدگی میں مزید اضافہ ہو گیا ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سخت ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ اب امریکہ آبنائے ہرمز سے گزرنے والے ہر جہاز کو روکنے سے گریز نہیں کرے گا۔ ان کے اس بیان نے بین الاقوامی برادری میں تشویش کی لہر دوڑا دی ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر مسلسل دو پوسٹس کے ذریعے اپنی پوزیشن واضح کی۔ انہوں نے کہا کہ اسلام آباد میں ہونے والی بات چیت کے دوران بیشتر معاملات پر پیش رفت ہوئی، لیکن آبنائے ہرمز اور جوہری پروگرام جیسے اہم موضوعات پر اتفاق رائے نہیں ہو سکا، جس کے باعث مذاکرات بے نتیجہ ختم ہو گئے۔ امریکی صدر نے دعویٰ کیا کہ فوری طور پر امریکی بحریہ کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ آبنائے ہرمز میں داخل ہونے یا وہاں سے نکلنے کی کوشش کرنے والے کسی بھی جہاز کو روکنے کے اقدامات شروع کرے۔ انہوں نے کہا کہ یہ قدم عالمی تجارت کے تحفظ اور غیر قانونی دباؤ کو ختم کرنے کے لیے ضروری ہے۔
اپنے بیان میں ٹرمپ نے ایران پر الزام عائد کیا کہ وہ آبنائے ہرمز میں بارودی سرنگوں کی موجودگی کا بہانہ بنا کر جہازوں کی نقل و حرکت کو محدود کر رہا ہے۔ ان کے مطابق ایران کا یہ اقدام دراصل عالمی سطح پر ”زبردستی وصولی“ کی ایک کوشش ہے، جس کے ذریعے وہ بین الاقوامی جہاز رانی کو متاثر کرنا چاہتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ اس طرح کے دباؤ کو کسی صورت قبول نہیں کرے گا۔ ٹرمپ نے مزید کہا کہ انہوں نے امریکی بحریہ کو یہ بھی ہدایت دی ہے کہ وہ ایسے تمام جہازوں کی نشاندہی کرے اور انہیں روکے جنہوں نے ایران کو کسی بھی قسم کا ٹول یا فیس ادا کی ہو۔ ان کے مطابق جو جہاز اس طرح کی ادائیگی کریں گے، انہیں کھلے سمندر میں محفوظ راستہ فراہم نہیں کیا جائے گا۔
انہوں نے اس بات کا بھی اعلان کیا کہ امریکی افواج آبنائے ہرمز میں مبینہ طور پر بچھائی گئی بارودی سرنگوں کو ناکارہ بنانے کا عمل شروع کریں گی۔ ٹرمپ کے مطابق اگر کسی ایرانی جانب سے امریکی افواج یا کسی پرامن جہاز پر حملہ کیا گیا تو اس کا بھرپور اور سخت جواب دیا جائے گا۔ اپنے بیان میں امریکی صدر نے ایران کی عسکری صلاحیتوں پر بھی تبصرہ کیا اور دعویٰ کیا کہ ایران کی بحریہ، فضائی دفاعی نظام اور قیادت کو شدید نقصان پہنچ چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ مکمل طور پر تیار ہے اور اگر ضرورت پڑی تو مزید سخت اقدامات کیے جائیں گے۔
ٹرمپ نے اشارہ دیا کہ ممکنہ بحری ناکہ بندی میں دیگر ممالک بھی امریکہ کا ساتھ دے سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایران کو کسی بھی طرح کی غیر قانونی سرگرمیوں سے فائدہ اٹھانے کی اجازت نہیں دی جائے گی اور عالمی سمندری راستوں کو محفوظ رکھا جائے گا۔ دوسری جانب ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر آبنائے ہرمز میں کشیدگی میں اضافہ ہوتا ہے تو اس کے اثرات عالمی معیشت پر گہرے پڑ سکتے ہیں، کیونکہ یہ راستہ دنیا کی تیل کی سپلائی کے لیے نہایت اہم سمجھا جاتا ہے۔ ایسے میں کسی بھی قسم کی رکاوٹ توانائی کی قیمتوں میں اضافے اور عالمی تجارتی نظام میں خلل کا باعث بن سکتی ہے۔ بین الاقوامی مبصرین نے اس صورتحال کو انتہائی نازک قرار دیتے ہوئے تمام فریقوں سے تحمل کا مظاہرہ کرنے اور سفارتی حل تلاش کرنے کی اپیل کی ہے تاکہ خطے میں امن و استحکام برقرار رکھا جا سکے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔



