Bharat Express DD Free Dish

Hormuz Strait

ٹرمپ نے کہا کہ ایران کو خوراک کی ضرورت ہے اور امریکہ اس بات کو یقینی بنائے گا کہ ضروری غذائی اشیا، خاص طور پر امریکی زرعی مصنوعات، ایران تک پہنچ سکیں۔

ایران نے آبنائے ہرمزکو بند کرنے کے اپنے فیصلے کو لبنان میں جاری اسرائیلی فوجی کارروائی سے جوڑا ہے۔ تہران کا کہنا ہے کہ یہ حملے جنگ بندی اورمعاہدے کی شرائط کی خلاف ورزی ہے۔

مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی نے عالمی تجارت کومتاثرکیا ہے، جس سے شپنگ لائنیں متاثرہوئی ہیں۔ اس چیلنج سے نمٹنے کے لیے سعودی عرب کے موانی نے جدہ اسلامی بندرگاہ سے انڈیا (مندرا) اورجبوتی کے لئے ایک نئی شپنگ سروس شروع کی ہے۔

ایران اور امریکہ کے درمیان قطر سمجھوتہ کرانے میں مصروف ہے۔ پردے کے پیچھے سے قطر کے وزیراعظم الثانی سمجھوتے کا ڈرافٹ تیار کرا رہے ہیں۔ اسی درمیان قطر کے نائب وزیر اعظم نے آبنائے ہرمز کے ٹول کو درست قرار دیا ہے۔ اسے آبنائے ہرمز کے نظام کے لئے ضروری قراردیا گیا ہے۔

امریکہ سے ڈیل کی قیاس آرائیوں کے درمیان ایران کی وزارت خارجہ نے کہا کہ آبنائے ہرمز میں ٹول نہیں وصول کریں گے اورنہ تو ہم ٹول وصول کررہے ہیں۔ ہم جہازوں سے ماحولیاتی ٹیکس لیں گے۔ عمان کے ساتھ بات چیت چل رہی ہے۔ جلد ہی آبنائے ہرمز سے متعلق پروٹوکول جاری کریں گے۔

بھارت میں ایران کے سفارت خانے کی جانب سے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں بتایا گیا کہ اسلامی جمہوریہ ایران کے وزیر خارجہ ڈاکٹر سید عباس عراقچی دو روزہ برکس اجلاس میں شرکت کے لیے نئی دہلی پہنچے، جہاں انہوں نے وزیر اعظم نریندر مودی سے اہم ملاقات کی۔ بیان کے مطابق اس ملاقات میں باہمی دلچسپی کے متعدد معاملات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

سعودی عرب نے آبنائے ہرمزمیں پروجیکٹ فریڈم کو روکنے کے لئے امریکہ پردباؤڈالا۔ سعودی عرب نے اعلان کیا کہ "آپ ایران سے لڑنے کے لئے ہمارے اڈے استعمال نہیں کر سکتے اورنہ ہی ہم اپنی فضائی حدود کو ٹیک آف کے لئے استعمال کرنے دیں گے۔"

ذرائع کے مطابق آئندہ 48 گھنٹوں کے اندر دونوں ممالک کے درمیان ایک باضابطہ معاہدے پر دستخط کیے جانے کا امکان ہے، جس کے بعد جنگ کے خاتمے کا باضابطہ اعلان کیا جا سکتا ہے۔ سفارتی حلقوں میں اس پیش رفت کو غیر معمولی قرار دیا جا رہا ہے۔

امریکہ، اسرائیل اور ایران تنازعہ کی وجہ سے آبنائے ہرمزجوکہ عالمی توانائی کی فراہمی کے لیے ایک اہم آبی گزر گاہ ہے، گزشتہ دو ماہ سے بند ہے، جس سے عالمی سطح پرتیل اور گیس کی سپلائی پربہت زیادہ اثر پڑ رہا ہے۔

ایران نے آبنائے ہرمزپرسخت موقف اپنایا ہے۔ ایرانی حکام نے خبردار کیا ہے کہ جب تک امریکی ناکہ بندی جاری رہے گی۔ آبنائے ہرمز کو مکمل طورپر دوبارہ نہیں کھولا جائے گا۔ ایران کی ملٹری کمانڈ نے کہا ہے کہ یہ اقدام امریکی اقدامات کے خلاف احتجاج میں کیا گیا ہے۔