Iran US Ceasefire: سیزفائر پر تعطل برقرار: یو اے ای کے سخت بیان سے کشیدگی میں اضافہ، ایران-امریکہ تصادم دوبارہ بھڑکنے کے آثار
متحدہ عرب امارات (یو اے ای) کی وزارت خارجہ نے ایک باضابطہ بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ خطے میں پائیدار امن اسی وقت ممکن ہے جب ایران اپنے حملوں کی مکمل ذمہ داری قبول کرے، نقصانات کی تلافی کرے اور سمندری سلامتی کو مکمل طور پر بحال کرے۔
Iran-US Ceasefire: ’’آبنائے ہرمز نہیں کھولا تو کریں گے بڑا حملہ‘‘، اسلام آباد میں جنگ بندی میٹنگ سے پہلے ڈونلڈ ٹرمپ کا ایران کو سخت انتباہ
امریکی صدرڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو ایک بار پھر دھمکی دی ہے۔ ٹرمپ نے کہا کہ اگرجنگ بندی نہ مانی گئی تو ایران پر پہلے سے زیادہ طاقت سے حملہ کیا جائے گا۔ امریکی فوجی اس کے لئے تیارہیں۔
Iran-US War: ڈونلڈ ٹرمپ نے ہومرز اسٹریٹ کھولنے کے لئے ایران کو دیا الٹی میٹم، 48 گھنٹے میں ڈیل کرو، نہیں توبھگتنے ہوں گے انجام
امریکی صدرڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کوخبردارکیا ہے کہ وہ 48 گھنٹوں کے اندر معاہدے پرپہنچ جائے۔ انہوں نے کہا کہ معاہدہ نہ ہوا توحالات مزید خراب ہوں گے۔ ٹرمپ نے پہلے ہی ایران کو آبنائے ہرمز کھولنے کے لیے 10 دن کا وقت دیا ہے۔
Iran-US-Israel Conflict: برطانیہ نے ایران جنگ میں شامل ہونے سے کیا انکار، 35 ممالک کا عالمی اجلاس طلب، ٹرمپ کو بڑا سفارتی جھٹکا
کیئر اسٹارمر نے اعلان کیا کہ برطانیہ اس ہفتے تقریباً 35 ممالک کے ساتھ ایک عالمی اجلاس کی میزبانی کرے گا، جس میں آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے اور عالمی تجارت کو معمول پر لانے کے طریقوں پر غور کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ یہ سمندری راستہ عالمی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی ہے اور اس کی بندش سے دنیا بھر میں توانائی اور تجارتی نظام متاثر ہو رہا ہے۔
Iran vs US-Israel War: ایران جنگ بندی کا خواہاں، ڈونلڈ ٹرمپ نے کیا دعویٰ، رکھی سخت شرائط، ایران کا انکار، خلیج میں کشیدگی مزید بڑھنے کا خدشہ
ایران نے امریکی صدر کے اس دعوے کو مسترد کر دیا ہے۔ الجزیرہ کے مطابق ایرانی حکام نے کہا ہے کہ تہران نے کسی بھی سطح پر جنگ بندی کی درخواست نہیں کی۔ ایرانی حکام کے مطابق امریکہ کے یہ بیانات سیاسی دباؤ بڑھانے کی کوشش ہیں۔
Donald Trump Statement On Hormuz Strait: ”جنہیں ایندھن نہیں مل رہا ہے وہ ہم سے خریدیں… یا آبنائے ہرمز میں گھس کر خود لے لیں“، مشرق وسطیٰ بحران کے بیچ ٹرمپ کا عجیب و غریب بیان
ٹرمپ نے یہ بیان اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر جاری کیا، جہاں انہوں نے عالمی توانائی بحران پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ کے پاس وافر مقدار میں ایندھن موجود ہے۔ انہوں نے لکھا کہ جو ممالک ہرمز کی صورتحال کے باعث مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں، انہیں دو راستے اختیار کرنے چاہیے۔ پہلا یہ کہ وہ امریکہ سے خریداری کریں اور دوسرا یہ کہ خود آبنائے ہرمز میں جا کر ایندھن حاصل کریں۔
Trump theatens Iran open Strait of Hormuz: ”ہومرزکوکھولو اورجلد سمجھوتہ کرو، نہیں توتباہ کردوں گا“، ایران کو ڈونلڈ ٹرمپ نے پھر دی دھمکی
امریکی صدرڈونلڈ ٹرمپ ایران کوگھٹنے ٹیکنے مجبورکرنے کی ہرممکن کوشش کررہے ہیں، لیکن ایران پوری مضبوطی کے ساتھ مقابلہ کررہا ہے۔ ٹرمپ ایک طرف معاہدے کی بات کر رہے ہیں تو دوسری طرف ایران پردباؤ ڈالنے کی بھی پوری کوشش کررہے ہیں اوراس دوران انہوں نے دھمکیاں بھی دی ہیں۔
Iran Blocks Pakistan Ship SELEN: ایران کا پاکستان کو ’نو انٹری‘ سگنل! آبنائے ہرمز سے پاکستانی جہاز واپس، بھارت کے جہاز محفوظ، جانئے کیوں پھنس گیا پاکستان؟
رپورٹس کے مطابق پاکستانی کنٹینر جہاز متحدہ عرب امارات سے کراچی کی جانب رواں دواں تھا، جب ایرانی فورسز نے اسے آگے بڑھنے سے روک دیا۔ بتایا جا رہا ہے کہ جہاز میں تقریباً 6850 ٹن سامان لدا ہوا تھا۔ ایرانی حکام کی جانب سے اجازت نہ ملنے کے بعد جہاز کو واپس جانے کی ہدایت دی گئی۔ اس واقعے کے بعد پاکستانی تجارتی حلقوں میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔
Philippines Declares National Energy Emergency: فلپائن میں مشرق وسطیٰ بحران کے درمیان نیشنل انرجی ایمرجنسی کا اعلان، کیا بھارت میں بھی لگ سکتا ہے لاک ڈاؤن؟
مشرق وسطیٰ میں ایران اور امریکہ کے بڑھتے ہوئے تنازعہ کی لہر اب فلپائن تک پہنچ گئی ہے۔ جاری کشیدگی نے انٹرنیشنل انرجی سپلائی چین کو متاثر کیا ہے اور اس بحران سے نمٹنے کے لیے فلپائن نے منگل کو ’نیشنل انرجی ایمرجنسی’ کا اعلان کر دیا ہے۔ اس اقدام کے ذریعے فلپائن دنیا کا پہلا ملک بن گیا ہے جس نے انرجی بحران کے پیش نظر یہ قدم اٹھایا ہے۔
PM Modi speaks to US President: وزیراعظم مودی اور ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان ٹیلی فون پر اہم بات چیت، آبنائے ہرمز کو کھلا رکھنے پر زور
صدر ٹرمپ نے اس موقع پر امید ظاہر کی کہ جاری مذاکرات کے نتیجے میں آبنائے ہرمز کو جلد ہی مکمل طور پر کھول دیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ ایران کے ساتھ بات چیت میں مصروف ہے اور صورتحال کو قابو میں لانے کے لیے سفارتی کوششیں جاری ہیں۔





