Bharat Express DD Free Dish

Donald Trump Statement On Hormuz Strait: ”جنہیں ایندھن نہیں مل رہا ہے وہ ہم سے خریدیں… یا آبنائے ہرمز میں گھس کر خود لے لیں“، مشرق وسطیٰ بحران کے بیچ ٹرمپ کا عجیب و غریب بیان

ٹرمپ نے یہ بیان اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر جاری کیا، جہاں انہوں نے عالمی توانائی بحران پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ کے پاس وافر مقدار میں ایندھن موجود ہے۔ انہوں نے لکھا کہ جو ممالک ہرمز کی صورتحال کے باعث مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں، انہیں دو راستے اختیار کرنے چاہیے۔ پہلا یہ کہ وہ امریکہ سے خریداری کریں اور دوسرا یہ کہ خود آبنائے ہرمز میں جا کر ایندھن حاصل کریں۔

مشرق وسطیٰ میں بڑھتی کشیدگی کے درمیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا ایک نیا بیان عالمی سطح پر بحث کا موضوع بن گیا ہے۔ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ ممالک جنہیں آبنائے ہرمز میں جاری کشیدگی کے باعث جیٹ فیول حاصل نہیں ہو رہا، وہ یا تو امریکہ سے ایندھن خریدیں یا آبنائے ہرمز میں گھس کر خود لے لیں۔ ٹرمپ نے یہ بیان اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر جاری کیا، جہاں انہوں نے عالمی توانائی بحران پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ کے پاس وافر مقدار میں ایندھن موجود ہے۔ انہوں نے لکھا کہ جو ممالک ہرمز کی صورتحال کے باعث مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں، انہیں دو راستے اختیار کرنے چاہئیں۔ پہلا یہ کہ وہ امریکہ سے خریداری کریں اور دوسرا یہ کہ خود آبنائے ہرمز میں جا کر ایندھن حاصل کریں۔

یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب ایران اور اسرائیل کے درمیان جاری کشیدگی نے پورے خطے کو غیر یقینی صورتحال سے دوچار کر دیا ہے۔ اس تنازعہ کے باعث آبنائے ہرمز کے راستے تیل اور گیس کی ترسیل متاثر ہو رہی ہے، جس سے عالمی منڈی میں توانائی کی فراہمی پر دباؤ بڑھ گیا ہے۔ کئی ممالک کو ایندھن کی قلت کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے اور قیمتوں میں اضافے کا خدشہ بھی ظاہر کیا جا رہا ہے۔ ٹرمپ نے اپنے پیغام میں کہا، ”ان تمام ممالک کے لیے جو آبنائے ہرمز کے باعث جیٹ فیول حاصل نہیں کر پا رہے ہیں، میری تجویز ہے: نمبر ایک، امریکہ سے خریدیں کیونکہ ہمارے پاس کافی مقدار موجود ہے۔ نمبر دو، کچھ ہمت دکھائیں، آبنائے ہرمز میں جائیں اور خود لے لیں“۔ ان کے اس بیان نے بین الاقوامی سطح پر نئی بحث چھیڑ دی ہے۔

ٹرمپ کے اس بیان پر مختلف حلقوں کی جانب سے ملے جلے ردعمل سامنے آئے ہیں۔ کچھ ماہرین نے اسے طنزیہ اور غیر سنجیدہ قرار دیا، جبکہ دیگر نے اسے خطرناک بیان قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس طرح کے بیانات خطے میں کشیدگی کو مزید بڑھا سکتے ہیں۔ کئی صارفین نے سوشل میڈیا پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ بیان جنگی ماحول کو ہوا دینے کے مترادف ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز عالمی توانائی سپلائی کے لیے نہایت اہم گزرگاہ ہے۔ دنیا کی بڑی مقدار میں خام تیل اسی راستے سے گزرتا ہے۔ اگر اس علاقے میں کشیدگی مزید بڑھی تو عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں اضافہ ہو سکتا ہے اور کئی ممالک کی معیشت متاثر ہو سکتی ہے۔

بھارت سمیت کئی ایشیائی ممالک بھی آبنائے ہرمز کے ذریعے تیل درآمد کرتے ہیں۔ توانائی کے ماہرین کے مطابق صورتحال کے پیش نظر کئی ممالک متبادل ذرائع تلاش کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ بھارتی حکومت نے بھی صورتحال پر نظر رکھنے کی بات کہی ہے اور توانائی کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے مختلف آپشنز پر غور کیا جا رہا ہے۔ تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ ٹرمپ کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب عالمی توانائی سلامتی ایک اہم مسئلہ بن چکی ہے۔ ان کے اس تبصرے نے نہ صرف سیاسی حلقوں میں بلکہ عالمی سطح پر بھی نئی بحث کو جنم دیا ہے۔ دنیا بھر کی نظریں اب اس بیان کے ممکنہ اثرات اور مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال پر مرکوز ہیں۔

بھارت ایکسپریس اردو۔



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read