Bharat Express DD Free Dish

Hormuz Strait

جنگ بندی کی شرائط کے مطابق، ایران نے 40 دن کے بعد آبنائے ہرمزکومکمل طورپر کھولنے کا اعلان کیا ہے۔ یہ اعلان ایرانی وزیرخارجہ عباس عراقچی نے کیا۔ عراقچی نے کہا، ہم اس راستے کوکھول رہے ہیں۔ ایرانی حکام راستے کا تعین کریں گے۔

جنگ سے قبل عالمی سطح پر تیل اور گیس کی فراہمی نسبتاً مستحکم تھی اور قیمتیں بھی قابو میں تھیں، جس کے باعث کاروباری سرگرمیاں تیزی سے جاری تھیں اور معیشت ترقی کر رہی تھی۔ تاہم موجودہ صورتحال نے اس توازن کو بگاڑ دیا ہے اور عالمی منڈی میں بے یقینی بڑھ گئی ہے۔ ماہرین کے مطابق اب وہ حالات دوبارہ بحال کرنا آسان نہیں رہے۔

رپورٹس کے مطابق یہ واقعہ 13 اپریل کو پیش آیا جب چینی کارگو جہاز، جس پر بھاری مقدار میں میتھانول لدا ہوا تھا، آبنائے ہرمز سے گزر کر بحیرہ عمان میں داخل ہو گیا۔ حیران کن طور پر یہ وہی ٹینکر ہے جس پر امریکہ برسوں قبل پابندی عائد کر چکا تھا، اس کے باوجود یہ جہاز ایرانی حدود سے گزرتے ہوئے بغیر کسی رکاوٹ کے آگے بڑھ گیا۔

امریکی صدر نے دعویٰ کیا کہ فوری طور پر امریکی بحریہ کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ آبنائے ہرمز میں داخل ہونے یا وہاں سے نکلنے کی کوشش کرنے والے کسی بھی جہاز کو روکنے کے اقدامات شروع کرے۔ انہوں نے کہا کہ یہ قدم عالمی تجارت کے تحفظ اور غیر قانونی دباؤ کو ختم کرنے کے لیے ضروری ہے۔

پی کے سہگل نے کہا کہ چاہے آبنائے ہرمز کھلی رہے یا بند ہو جائے، آنے والا وقت پوری دنیا کے لیے انتہائی مشکل ثابت ہو سکتا ہے، تاہم بھارت کو طویل مدت میں سب سے زیادہ نقصان اٹھانا پڑے گا۔ ان کے مطابق ایران میں حالیہ تنازعات کے باعث بنیادی ڈھانچہ شدید متاثر ہوا ہے، جہاں ریفائنریاں، پائپ لائنیں اور بندرگاہیں تباہی کا شکار ہو چکی ہیں۔

Hormuz Strait tension:  اسلام آباد میں امن مذاکرات ناکام ہونے کے بعد بین الاقوامی حالات مزید کشیدہ ہوگئے ہیں۔ اسی درمیان پاکستان کے دو تیل ٹینکر’شالمار‘ اور’خیرپورر‘ سے متعلق بڑی خبرسامنے آئی ہے، جو بحیرہ عرب سے آبنائے ہرمزمیں داخل ہونے کی کوشش کی، لیکن انہیں واپس جانے پرمجبورکردیا گیا۔ اس کے پیچھے کی وجہ …

امریکی صدرڈونلڈ ترمپ کا رخ کافی سخت نظرآرہا ہے۔ وہ پہلے ہی کہہ چکے ہیں کہ ڈیل چاہے ہو یا نہ ہو، اس سے ہمیں کوئی فرق نہیں پڑتا۔ ہم پہلے ہی جیت چکے ہیں۔ واضح رہے کہ امریکہ اورایران کے درمیان پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں ہونے والے اہم مذاکرات کسی نتیجے پرنہیں پہنچ سکی۔

وزارت پیٹرولیم کے مطابق مارچ کے آغاز سے اب تک یہ نواں بھارتی جہاز ہے جو اس حساس راستے سے کامیابی کے ساتھ نکلنے میں کامیاب ہوا ہے۔ اس سے قبل کئی جہازوں کو انتظار کرنا پڑا تھا، تاہم حالات میں جزوی بہتری کے بعد اب رفتہ رفتہ نقل و حمل بحال ہو رہی ہے۔

ایران نے جنگ بندی کے درمیان آبنائے ہرمز سے ہر دن صرف 15 جہازوں کے گزرنے کی شرط رکھی ہے، جس سے عالمی سپلائی چین میں زبردست غیریقینی صورتحال پیدا ہوگئی ہے۔ آئیے اس کے بارے میں تفصیل سے بتاتے ہیں۔

اسرائیل کے وزیر اعظم نتن یاہو نے واضح طور پر کہا ہے کہ لبنان کسی بھی جنگ بندی معاہدے کا حصہ نہیں ہے اور حزب اللہ کے خلاف کارروائیاں جاری رہیں گی۔ ان کا کہنا تھا کہ اسرائیل اپنی سلامتی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا اور ہر خطرے کا بھرپور جواب دیا جائے گا۔