اسرائیل حزب اللہ تنازعہ 2026 (اے آئی تصویر)
مشرق وسطیٰ ایک بار پھر شدید کشیدگی کی لپیٹ میں آ گیا ہے، جہاں بظاہر قائم جنگ بندی کے باوجود حالات تیزی سے بگڑتے جا رہے ہیں۔ امریکہ اور ایران کے درمیان سیزفائر کے اعلان کے بعد امید کی جا رہی تھی کہ خطے میں امن قائم ہوگا، تاہم حالیہ واقعات نے ان توقعات کو شدید دھچکا پہنچایا ہے۔ اسرائیل کی جانب سے لبنان کے دارالحکومت بیروت پر بڑے پیمانے پر فضائی حملے اور اس کے بعد ایران کی ممکنہ جوابی کارروائی نے دنیا بھر میں تشویش کی لہر دوڑا دی ہے۔ جمعرات، 9 اپریل کی علی الصبح اسرائیلی فضائیہ نے بیروت کے مضافاتی علاقے داحیہ سمیت متعدد مقامات کو نشانہ بنایا۔ یہ علاقہ حزب اللہ کا مضبوط گڑھ سمجھا جاتا ہے۔ حملے اتنے شدید تھے کہ کئی عمارتیں زمین بوس ہو گئیں اور ہر طرف تباہی کے مناظر دیکھنے میں آئے۔ لبنان کی سول ڈیفنس کے مطابق ان حملوں میں 250 سے زائد افراد جاں بحق ہو گئے، جبکہ درجنوں زخمی ہیں۔ وزارتِ صحت نے ابتدائی طور پر 182 ہلاکتوں کی تصدیق کی ہے اور خدشہ ظاہر کیا ہے کہ اموات کی تعداد میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔
اسرائیلی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ اس کارروائی میں حزب اللہ سے وابستہ ایک اہم شخصیت علی یوسف حرشی کو ہلاک کیا گیا، جو تنظیم کے سربراہ نعیم قاسم کے قریبی رشتہ دار اور ان کے ذاتی سیکریٹری تھے۔ بتایا جاتا ہے کہ وہ تنظیم کے انتظامی اور سکیورٹی امور میں کلیدی کردار ادا کر رہے تھے۔ اسرائیلی حکام کے مطابق یہ حملہ ایک منصوبہ بند کارروائی کا حصہ تھا جس کا مقصد حزب اللہ کی قیادت کو کمزور کرنا تھا۔ ادھر خلیجی خطے میں بھی صورتحال کشیدہ ہو چکی ہے۔ اطلاعات کے مطابق آبنائے ہرمز میں جہازوں کی آمد و رفت متاثر ہوئی ہے، جہاں ایران کی جانب سے بعض آئل ٹینکروں کو روکنے کی خبریں سامنے آئی ہیں۔ آبنائے ہرمز عالمی سطح پر تیل کی ترسیل کے لیے نہایت اہم گزرگاہ ہے، اور اس میں کسی بھی قسم کی رکاوٹ عالمی معیشت پر گہرے اثرات مرتب کر سکتی ہے۔
اسرائیل کے وزیر اعظم نتن یاہو نے واضح طور پر کہا ہے کہ لبنان کسی بھی جنگ بندی معاہدے کا حصہ نہیں ہے اور حزب اللہ کے خلاف کارروائیاں جاری رہیں گی۔ ان کا کہنا تھا کہ اسرائیل اپنی سلامتی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا اور ہر خطرے کا بھرپور جواب دیا جائے گا۔ دوسری جانب پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف نے پہلے بیان دیا تھا کہ امریکہ اور ایران کے درمیان ہونے والا سیزفائر خطے کے دیگر تنازعات پر بھی اثر انداز ہوگا، تاہم بعد میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک انٹرویو میں واضح کیا کہ اس جنگ بندی کا اطلاق لبنان پر نہیں ہوتا اور اسرائیل کو اپنی کارروائی جاری رکھنے کا حق حاصل ہے۔
اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان یہ تنازعہ کوئی نیا نہیں بلکہ اکتوبر 2023 سے جاری ہے، جب حماس کے حملے کے بعد لبنان کی سرحد سے اسرائیلی علاقوں پر راکٹ داغے گئے تھے۔ اس کے بعد سے دونوں فریقوں کے درمیان سرحدی جھڑپیں، میزائل حملے اور فضائی کارروائیاں معمول بن چکی ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ موجودہ صورتحال انتہائی نازک ہے اور اگر فوری طور پر کشیدگی کم نہ کی گئی تو یہ تنازعہ ایک بڑی جنگ میں تبدیل ہو سکتا ہے۔ اس کے اثرات نہ صرف مشرقِ وسطیٰ بلکہ پوری دنیا کی معیشت اور سلامتی پر مرتب ہوں گے، جبکہ سیزفائر محض ایک کمزور ڈھانچہ بن کر رہ جائے گا۔
بھارت ایکسپریس اردو-
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔
