Bharat Express

Israel Lebanon War

اسرائیل کے وزیر دفاع نے جمعہ کو کہا کہ اگر اسرائیل کی شمالی برادریوں میں امن نہیں رہے گا تو بیروت میں بھی امن قائم نہیں رہنے دیں گے۔

گزشتہ سال نومبرمیں اسرائیل اورلبنان کے درمیان جنگ بندی ہوئی تھی۔ اس کے بعد لبنان کے ٹھکانوں سے اسرائیل پریہ پہلا حملہ تھا۔ اس درمیان اسرائیل نے لبنان پرخطرناک بمباری کی ہے۔

اسرائیل اور ایران کے حمایت یافتہ لبنانی گروپ کے درمیان ایک سال سے زیادہ کی لڑائی کے بعد 27 نومبر سے جنگ بندی نافذ ہے۔ اس میں دو ماہ کی مکمل جنگ بھی شامل ہے، جب اسرائیل نے زمینی کارروائی کی تھی۔

منگل کے روز امریکی صدر جو بائیڈن نے کہا تھا کہ اسرائیل اور لبنان کے درمیان جنگ بندی کے معاہدے کے بعد لبنانی فوج ایک بار پھر اس کی سرزمین پر قبضہ کر لے گی۔ انہوں نے کہا کہ ’’اگلے 60 دنوں کے دوران، اسرائیل آہستہ آہستہ اپنی باقی افواج اور شہریوں کو واپس بلا لے گا- دونوں طرف کے شہری جلد ہی بحفاظت اپنی برادریوں میں واپس جا سکیں گے اور اپنے گھروں کی تعمیر نو شروع کر سکیں گے۔

فلسطینیوں اور لبنانیوں کے ساتھ سعودی عرب کی یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہم فلسطینیوں اور لبنانیوں کے ساتھ کھڑے ہیں۔لبنان کی صورتحال کے تناظر میں شہزادہ محمد بن سلمان نے کہا کہ سعودی عرب لبنان کی خودمختاری کی خلاف ورزی کو مسترد کرتا ہے۔

لبنان میں پیجر دھماکے کے دو ماہ بعد اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو نے اعتراف کیا ہے کہ لبنان میں پیجر آپریشن کو انہوں نے گرین سگنل دیا تھا۔

رپورٹس کے مطابق اسرائیل بھاری جانی نقصان کے سبب حزب اللہ کو دریائے لطانی سے دور دھکیلنے سے دستبردار ہو رہا ہے۔فلسطینی میڈیا کا کہنا ہے کہ رواں ماہ لبنان اور غزہ میں حماس اور حزب اللہ کے ہاتھوں 62 اسرائیلی فوجی ہلاک ہوچکے ہیں۔

اسرائیلی فوج نے تصدیق کی ہے کہ حزب اللہ نے تل ابیب کی جانب کم از کم 20 راکٹ فائر کیے ہیں۔ آسمان پر اڑتے راکٹ کی ویڈیو بھی سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہو رہی ہے۔

اسرائیل نے ایران یا حزب اللہ کی طرف سے کیے گئے ڈرون حملے روکنے کی صلاحیت کو بڑھانے کیلیے دفاعی کمپنیوں سے مدد مانگی ہے۔ خبر رساں ایجنسی روئٹرز کی رپورٹ کے مطابق اسرائیلی وزارت دفاع نے ایک بیان میں بتایا کہ اس نے آٹھ بڑی اور چھوٹی دفاعی کمپنیوں کے درمیان مقابلہ شروع کیا ہے۔

اسرائیلی فوج کے ترجمان ایویچائی ادرائی نے ایک بیان میں کہا کہ اب تک اسرائیل تقریباً 300 گھروں پر حملہ کر چکا ہے جہاں حزب اللہ نے مبینہ طور پر میزائل چھپائے ہیں۔