Bharat Express DD Free Dish

Israel Lebanon War

 اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان جنگ بندی نافذ ہونے کے کچھ ہی گھنٹوں بعد جنوبی لبنان میں پھر تشدد کی بات سامنے آئی ہے۔ اسرائیلی ہوائی اورڈرون حملوں میں 5 افراد کے ہلاک ہونے کی خبرہے۔ کئی گھرتباہ ہوگئے ہیں۔ اسرائیل نے بفرزون سے فوج نہیں ہٹائی ہے، جس سے جنگ بندی پرسوال کھڑے ہوگئے ہیں۔

اسرائیلی فوج لبنان پر مسلسل بمباری کر رہی ہے۔ اب تک ان حملوں میں 2,969 افراد ہلاک ہو چکے ہیں، جن میں بڑی تعداد بچوں اور خواتین کی شامل ہے۔ اسرائیل کے زیادہ تر حملے جنوبی لبنان میں کیے گئے ہیں، جس کے باعث وہاں کے عوام کی روزمرہ زندگی شدید متاثر ہوئی ہے۔

یونیسیف کی تازہ رپورٹ کے مطابق مسلسل حملوں، بے گھری، خوف اور غیر یقینی صورتحال کے باعث تقریباً سات لاکھ ستر ہزار بچے ذہنی تناؤ کا سامنا کر رہے ہیں، جس کے اثرات مستقبل میں بھی ان کی زندگیوں پر نمایاں طور پر پڑ سکتے ہیں۔

رپورٹس کے مطابق ابتدائی اسرائیلی حملہ جنوبی لبنان کے ایک گاؤں التیری میں ایک گاڑی پر کیا گیا، جس کے نتیجے میں اس میں سوار دو افراد ہلاک ہو گئے۔ اسرائیلی فوج نے دعویٰ کیا کہ اس نے دو گاڑیوں کو نشانہ بنایا جو مبینہ طور پر حزب اللہ کے زیر استعمال ایک عسکری ڈھانچے سے نکلی تھیں۔

لبنان پر حملے روکنے کا سخت حکم دینے کے ایک دن بعد ہی ڈونلڈ ٹرمپ کے تیور بدل گئے۔ انہوں نے اسرائیل کو امریکہ کا مضبوط اتحادی قرار دیتے ہوئے اس کی بھرپور تعریف کی۔ اس دوران جنگ بندی نافذ ہے، لیکن زمینی حالات اب بھی نازک ہیں اور خطے میں کشیدگی مکمل طور پر ختم نہیں ہوئی ہے۔

امریکہ نے واضح کیا ہے کہ لبنان اس سے قبل ہونے والی کسی ممکنہ مفاہمت کا حصہ نہیں تھا۔ امریکی قیادت کے مطابق اس حوالے سے پیدا ہونے والی کچھ غلط فہمیاں دور کر دی گئی ہیں اور موجودہ جنگ بندی ایک الگ پیش رفت ہے، جسے خطے میں امن کے لیے اہم سمجھا جا رہا ہے۔

اسرائیل اور لبنان کے درمیان اعلان کردہ 10 دن کی جنگ بندی محض 10 گھنٹوں میں ٹوٹ گئی۔ لبنان نے الزام لگایا ہے کہ اسرائیلی فوج نے جنوبی دیہاتوں پر گولہ باری کی۔

حزب اللہ کےلیڈر علی فیاض نے اسرائیل کے ساتھ کسی بھی قسم کے مذاکرات کو مسترد کر دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ لبنان کسی بھی براہ راست بات چیت کو قبول نہیں کرے گا اور سب سے پہلے اسرائیل کو حملے بند کرنے اور اپنی فوج واپس بلانا ہوں گا۔

میا خلیفہ نے آنسوبہاتے ہوئے امریکی حکومت پرشدید الزام عائد کرتے ہوئے اسے پاگل پن قراردیا۔ انہوں نے کہا کہ لبنان میں کئی دہائیوں سے نسل کشی ہورہی ہے، لیکن پچھلے تین چار سالوں میں یہ اوربھی خطرناک ہوگیا ہے۔

اسرائیل کے وزیر اعظم نتن یاہو نے واضح طور پر کہا ہے کہ لبنان کسی بھی جنگ بندی معاہدے کا حصہ نہیں ہے اور حزب اللہ کے خلاف کارروائیاں جاری رہیں گی۔ ان کا کہنا تھا کہ اسرائیل اپنی سلامتی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا اور ہر خطرے کا بھرپور جواب دیا جائے گا۔