Bharat Express DD Free Dish

Israel Lebanon War

متحدہ عرب امارات (یو اے ای) کی وزارت خارجہ نے ایک باضابطہ بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ خطے میں پائیدار امن اسی وقت ممکن ہے جب ایران اپنے حملوں کی مکمل ذمہ داری قبول کرے، نقصانات کی تلافی کرے اور سمندری سلامتی کو مکمل طور پر بحال کرے۔

پیر کی رات کیے گئے حملوں میں آئی ڈی ایف نے جنوبی لبنان کے چار دیہات اور ملک کی مشرقی سرحد کے قریب واقع عمارتوں کو نشانہ بنایا۔

شیخ نعیم قاسم نے اس بات پر زور دیا کہ لبنان کے مسائل ’’اسرائیلی حملوں اور امریکہ کے حمایت یافتہ قبضے‘ کی وجہ سے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ملک کے بحرانوں کے حل کے لیے پہلا قدم یہ ہے کہ اسرائیل اپنے حملوں کو مکمل طور پر روکے، مقبوضہ لبنانی علاقوں سے ہٹے، قیدیوں کو رہا کرے اور ملک کی تعمیر نو کے ذریعے لبنان کی خودمختاری کو بحال کرے۔

اسرائیل کے وزیر دفاع نے جمعہ کو کہا کہ اگر اسرائیل کی شمالی برادریوں میں امن نہیں رہے گا تو بیروت میں بھی امن قائم نہیں رہنے دیں گے۔

گزشتہ سال نومبرمیں اسرائیل اورلبنان کے درمیان جنگ بندی ہوئی تھی۔ اس کے بعد لبنان کے ٹھکانوں سے اسرائیل پریہ پہلا حملہ تھا۔ اس درمیان اسرائیل نے لبنان پرخطرناک بمباری کی ہے۔

اسرائیل اور ایران کے حمایت یافتہ لبنانی گروپ کے درمیان ایک سال سے زیادہ کی لڑائی کے بعد 27 نومبر سے جنگ بندی نافذ ہے۔ اس میں دو ماہ کی مکمل جنگ بھی شامل ہے، جب اسرائیل نے زمینی کارروائی کی تھی۔

منگل کے روز امریکی صدر جو بائیڈن نے کہا تھا کہ اسرائیل اور لبنان کے درمیان جنگ بندی کے معاہدے کے بعد لبنانی فوج ایک بار پھر اس کی سرزمین پر قبضہ کر لے گی۔ انہوں نے کہا کہ ’’اگلے 60 دنوں کے دوران، اسرائیل آہستہ آہستہ اپنی باقی افواج اور شہریوں کو واپس بلا لے گا- دونوں طرف کے شہری جلد ہی بحفاظت اپنی برادریوں میں واپس جا سکیں گے اور اپنے گھروں کی تعمیر نو شروع کر سکیں گے۔

فلسطینیوں اور لبنانیوں کے ساتھ سعودی عرب کی یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہم فلسطینیوں اور لبنانیوں کے ساتھ کھڑے ہیں۔لبنان کی صورتحال کے تناظر میں شہزادہ محمد بن سلمان نے کہا کہ سعودی عرب لبنان کی خودمختاری کی خلاف ورزی کو مسترد کرتا ہے۔

لبنان میں پیجر دھماکے کے دو ماہ بعد اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو نے اعتراف کیا ہے کہ لبنان میں پیجر آپریشن کو انہوں نے گرین سگنل دیا تھا۔

رپورٹس کے مطابق اسرائیل بھاری جانی نقصان کے سبب حزب اللہ کو دریائے لطانی سے دور دھکیلنے سے دستبردار ہو رہا ہے۔فلسطینی میڈیا کا کہنا ہے کہ رواں ماہ لبنان اور غزہ میں حماس اور حزب اللہ کے ہاتھوں 62 اسرائیلی فوجی ہلاک ہوچکے ہیں۔