Bharat Express DD Free Dish

Lebanon Blast

امریکہ نے واضح کیا ہے کہ لبنان اس سے قبل ہونے والی کسی ممکنہ مفاہمت کا حصہ نہیں تھا۔ امریکی قیادت کے مطابق اس حوالے سے پیدا ہونے والی کچھ غلط فہمیاں دور کر دی گئی ہیں اور موجودہ جنگ بندی ایک الگ پیش رفت ہے، جسے خطے میں امن کے لیے اہم سمجھا جا رہا ہے۔

اسرائیل کا مؤقف ہے کہ ایران کے ساتھ ہونے والی جنگ بندی محدود نوعیت کی ہے اور اس کا اطلاق لبنان میں سرگرم تنظیم حزب اللہ پر نہیں ہوتا۔ اسرائیلی حکام کے مطابق حزب اللہ ایک علیحدہ اور سنگین خطرہ ہے، جو اسرائیل کی شمالی سرحد پر مسلسل دباؤ ڈالے ہوئے ہے۔

اسرائیل کے وزیر اعظم نتن یاہو نے واضح طور پر کہا ہے کہ لبنان کسی بھی جنگ بندی معاہدے کا حصہ نہیں ہے اور حزب اللہ کے خلاف کارروائیاں جاری رہیں گی۔ ان کا کہنا تھا کہ اسرائیل اپنی سلامتی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا اور ہر خطرے کا بھرپور جواب دیا جائے گا۔

متحدہ عرب امارات (یو اے ای) کی وزارت خارجہ نے ایک باضابطہ بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ خطے میں پائیدار امن اسی وقت ممکن ہے جب ایران اپنے حملوں کی مکمل ذمہ داری قبول کرے، نقصانات کی تلافی کرے اور سمندری سلامتی کو مکمل طور پر بحال کرے۔

پیر کی رات کیے گئے حملوں میں آئی ڈی ایف نے جنوبی لبنان کے چار دیہات اور ملک کی مشرقی سرحد کے قریب واقع عمارتوں کو نشانہ بنایا۔

شیخ نعیم قاسم نے اس بات پر زور دیا کہ لبنان کے مسائل ’’اسرائیلی حملوں اور امریکہ کے حمایت یافتہ قبضے‘ کی وجہ سے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ملک کے بحرانوں کے حل کے لیے پہلا قدم یہ ہے کہ اسرائیل اپنے حملوں کو مکمل طور پر روکے، مقبوضہ لبنانی علاقوں سے ہٹے، قیدیوں کو رہا کرے اور ملک کی تعمیر نو کے ذریعے لبنان کی خودمختاری کو بحال کرے۔

نیتن یاہو نے کہا، ’’لبنان کے لوگوں، میں آپ کو بتاتا ہوں۔ اپنے ملک کو حزب اللہ سے آزاد کرو، تاکہ یہ جنگ ختم ہو۔ حزب اللہ کے خلاف اسرائیل کا حملہ گزشتہ 3 ہفتوں سے جاری ہے۔

حزب اللہ نے منارا میں اسرائیلی فوجیوں پر حملے کا دعویٰ کیا ہے۔ حزب اللہ کا کہنا ہے کہ اس نے اتوار کو شمالی اسرائیل کے شہر منارا میں اسرائیلی فوجیوں پر راکٹوں اور میزائلوں سے تین حملے کیے ہیں۔

لبنان کی فوجی قیادت نےکہا اسرائیلی فورسز بدھ کو سرحدی حدود سے 400 میٹر اندر خربت یارون اور باب الادیسہ میں داخل ہوئیں جو مختصر وقت میں واپس نکل گئیں۔عرب نیوز کے مطابق اسرائیل فورسز نے اس مداخلت کو حزب اللہ کے خاتمے کے ساتھ جوڑتے ہوئے درست قرار دیا۔

اسرائیلی فوج نے کہا کہ ان کے فوجی حالیہ مہینوں میں اس مشن کے لیے تربیت اور تیاری کر رہے تھے۔اسرائیل نے کہا ہے کہ وہ اس گروپ پر اس وقت تک حملے جاری رکھے گا جب تک کہ سرحد پر بے گھر ہونے والے اسرائیلیوں کے لیے اپنے گھروں کو واپس جانا محفوظ نہ ہو جائے۔