Bharat Express DD Free Dish

Lebanon Blast

واضح رہے کہ گزشتہ روز اسرائیل نے فلسطین اور لبنان کے بعد تیسرے مسلمان ملک پر حملہ کرتے ہوئے یمن میں بمباری کی، جہاں اسرائیلی حملے میں یمن کے چوتھے بڑے شہر حُدیدہ کی بندرگاہ کو نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں اب تک کم از کم چار افراد شہید اور 30 سے زائد زخمی ہو گئے تھے۔

اسرائیلی فضائی حملوں میں اب تک سیکڑوں افراد اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں، جب کہ ہزاروں زخمی ہیں۔ اعداد و شمار کے مطابق لبنان میں اب تک مجموعی طور پر 1640 افراد ہلاک ہو چکے ہیں جن میں 104 بچے اور 194 خواتین شامل ہیں۔

۔لبنان کے وزیرِ صحت فراس عبیاد نے کہا کہ پیر کی صبح سے جاری اسرائیل کے حملوں میں لگ بھگ 569 شہری ہلاک ہو چکے ہیں جب کہ 1900 زخمیوں کو اسپتالوں میں علاج کے لیے منتقل کیا گیا ہے۔

صدر بائیڈن نے کہا کہ بطور رہنما ہمارے پاس کوئی عیاشی نہیں تھی۔ مجھے یوکرین سے غزہ تک اور جنگ، بھوک، دہشت گردی، ظلم، لوگوں کی بے گھر ہونے، موسمیاتی تبدیلی اور جمہوریت کو درپیش خطرات کے چیلنجز کا ادراک ہے۔صدر بائیڈن نے جنرل اسمبلی کو بتایا کہ ان کی انتظامیہ مشرق وسطیٰ میں استحکام لانے پر کام کر رہی ہے۔

حزب اللہ کی طاقت کی بات کریں تو اس کے پاس بھاری ہتھیاروں سے لیس غیر سرکاری گروپوں کی فوج ہے، اس کے پاس راکٹ اور ڈرون سمیت کئی خطرناک ہتھیار بھی ہیں، جو اسرائیل کے کسی بھی حصے کو آسانی سے نشانہ بنا سکتے ہیں۔

لبنان کے وزیر داخلہ بسام مولوی نے اسرائیل کی طرف سے وسیع پیمانے پر لبنان میں ہونے والے حملوں کے بارے میں کہا ہے کہ توقع ہے کہ لبنان کا حشر غزہ جیسا نہیں ہوگا۔انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ پورا لبنان جنگ کی لپیٹ میں ہے اور شہریوں کو مل جل کراس مشکل سے نکلنا چاہیے۔

گزشتہ پیر کی صبح سے حزب اللہ کے علاقے بیکا میں حزب اللہ  کے  لڑاکوں کے ٹھکانوں پر مسلسل حملے کر رہی ہے۔ اس دوران فضائیہ نے کم از کم 1100 اڈوں کو مکمل طور پر تباہ کردیا۔

اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان اتوار کو شدید فائرنگ کا تبادلہ ہوا ہے جبکہ لبنانی وزیراعظم نجیب میقاتی نے اسرائیلی حملوں میں شدت کے باعث اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کا دورہ منسوخ کر دیا ہے۔خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق تقریباً ایک سال کی جنگ میں اسرائیلی جنگی طیاروں نے لبنان کے جنوب میں شدید بمباری کی۔

اسرائیلی فوج کے مطابق راکٹوں سے حیفہ کے قریب عمارتوں کو نقصان پہنچا، کئی کاروں میں آگ لگ گئی اور  کم از کم تین افراد زخمی ہوئے ہیں۔اے ایف پی کےمطابق اسرائیلی فوج نے تازہ بیان میں کہا ہے کہ ’وہ اس وقت لبنان میں حزب اللہ کے ٹھکانوں کو نشانہ بنا رہی ہے۔

حزب اللہ کے رہنما حسن نصر اللہ کا کہنا ہے کہ اس ہفتے لبنان اور شام میں اس کے ارکان کے خلاف پیجر اور واکی ٹاکی حملے "تمام سرخ لکیروں" کو عبور کر گئے ہیں اور یہ گروپ جوابی کارروائی کرے گا اور غزہ میں فلسطینیوں کی حمایت میں اسرائیل کے خلاف اپنی لڑائی میں حزب اللہ غیرمتزلزل ہے۔