Bharat Express DD Free Dish

Israel Lebanon Ceasefire

 اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان جنگ بندی نافذ ہونے کے کچھ ہی گھنٹوں بعد جنوبی لبنان میں پھر تشدد کی بات سامنے آئی ہے۔ اسرائیلی ہوائی اورڈرون حملوں میں 5 افراد کے ہلاک ہونے کی خبرہے۔ کئی گھرتباہ ہوگئے ہیں۔ اسرائیل نے بفرزون سے فوج نہیں ہٹائی ہے، جس سے جنگ بندی پرسوال کھڑے ہوگئے ہیں۔

رپورٹس کے مطابق ابتدائی اسرائیلی حملہ جنوبی لبنان کے ایک گاؤں التیری میں ایک گاڑی پر کیا گیا، جس کے نتیجے میں اس میں سوار دو افراد ہلاک ہو گئے۔ اسرائیلی فوج نے دعویٰ کیا کہ اس نے دو گاڑیوں کو نشانہ بنایا جو مبینہ طور پر حزب اللہ کے زیر استعمال ایک عسکری ڈھانچے سے نکلی تھیں۔

فرانس کے صدر ایمینول میکرون  نے بھی جنگ بندی کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ وہ اس فیصلے کا مکمل خیر مقدم کرتے ہیں۔ قابل ذکر بات یہ ہےکہ انہوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر خدشہ ظاہر کیا کہ اگر فوجی کارروائیاں جاری رہیں تو یہ معاہدہ کمزور ہو سکتا ہے۔

امریکہ نے واضح کیا ہے کہ لبنان اس سے قبل ہونے والی کسی ممکنہ مفاہمت کا حصہ نہیں تھا۔ امریکی قیادت کے مطابق اس حوالے سے پیدا ہونے والی کچھ غلط فہمیاں دور کر دی گئی ہیں اور موجودہ جنگ بندی ایک الگ پیش رفت ہے، جسے خطے میں امن کے لیے اہم سمجھا جا رہا ہے۔

اسرائیل اور لبنان کے درمیان اعلان کردہ 10 دن کی جنگ بندی محض 10 گھنٹوں میں ٹوٹ گئی۔ لبنان نے الزام لگایا ہے کہ اسرائیلی فوج نے جنوبی دیہاتوں پر گولہ باری کی۔

اسرائیل کا مؤقف ہے کہ ایران کے ساتھ ہونے والی جنگ بندی محدود نوعیت کی ہے اور اس کا اطلاق لبنان میں سرگرم تنظیم حزب اللہ پر نہیں ہوتا۔ اسرائیلی حکام کے مطابق حزب اللہ ایک علیحدہ اور سنگین خطرہ ہے، جو اسرائیل کی شمالی سرحد پر مسلسل دباؤ ڈالے ہوئے ہے۔

حزب اللہ کےلیڈر علی فیاض نے اسرائیل کے ساتھ کسی بھی قسم کے مذاکرات کو مسترد کر دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ لبنان کسی بھی براہ راست بات چیت کو قبول نہیں کرے گا اور سب سے پہلے اسرائیل کو حملے بند کرنے اور اپنی فوج واپس بلانا ہوں گا۔

اسرائیل کے وزیر اعظم نتن یاہو نے واضح طور پر کہا ہے کہ لبنان کسی بھی جنگ بندی معاہدے کا حصہ نہیں ہے اور حزب اللہ کے خلاف کارروائیاں جاری رہیں گی۔ ان کا کہنا تھا کہ اسرائیل اپنی سلامتی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا اور ہر خطرے کا بھرپور جواب دیا جائے گا۔

متحدہ عرب امارات (یو اے ای) کی وزارت خارجہ نے ایک باضابطہ بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ خطے میں پائیدار امن اسی وقت ممکن ہے جب ایران اپنے حملوں کی مکمل ذمہ داری قبول کرے، نقصانات کی تلافی کرے اور سمندری سلامتی کو مکمل طور پر بحال کرے۔

اسرائیل کے وزیر دفاع نے جمعہ کو کہا کہ اگر اسرائیل کی شمالی برادریوں میں امن نہیں رہے گا تو بیروت میں بھی امن قائم نہیں رہنے دیں گے۔