Bharat Express DD Free Dish

Israel-Lebanon

 اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان جنگ بندی نافذ ہونے کے کچھ ہی گھنٹوں بعد جنوبی لبنان میں پھر تشدد کی بات سامنے آئی ہے۔ اسرائیلی ہوائی اورڈرون حملوں میں 5 افراد کے ہلاک ہونے کی خبرہے۔ کئی گھرتباہ ہوگئے ہیں۔ اسرائیل نے بفرزون سے فوج نہیں ہٹائی ہے، جس سے جنگ بندی پرسوال کھڑے ہوگئے ہیں۔

لبنان کی سرکاری میڈیا نے جانکاری دی ہے کہ منگل کے روز جنوبی لبنان میں اسرائیلی حملوں میں کم ازکم چارلوگوں کی موت ہوئی۔ حملہ اس وقت ہوا، جب امریکہ اورایران کے درمیان معاہدہ پراتفاق رائے ہوا اوراعلان کیا گیا تھا۔

یونیسیف کی تازہ رپورٹ کے مطابق مسلسل حملوں، بے گھری، خوف اور غیر یقینی صورتحال کے باعث تقریباً سات لاکھ ستر ہزار بچے ذہنی تناؤ کا سامنا کر رہے ہیں، جس کے اثرات مستقبل میں بھی ان کی زندگیوں پر نمایاں طور پر پڑ سکتے ہیں۔

امریکہ نے واضح کیا ہے کہ لبنان اس سے قبل ہونے والی کسی ممکنہ مفاہمت کا حصہ نہیں تھا۔ امریکی قیادت کے مطابق اس حوالے سے پیدا ہونے والی کچھ غلط فہمیاں دور کر دی گئی ہیں اور موجودہ جنگ بندی ایک الگ پیش رفت ہے، جسے خطے میں امن کے لیے اہم سمجھا جا رہا ہے۔

جمعرات کو سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری اپنے بیان میں قالیباف نے کہا کہ اسرائیل کی کارروائیاں نہ صرف خطے میں کشیدگی کو بڑھا رہی ہیں بلکہ جاری سیزفائر معاہدے کی بھی کھلی خلاف ورزی ہیں۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ دو ہفتوں کے لیے طے پانے والی جنگ بندی کا اطلاق لبنان پر بھی ہونا چاہیے، تاہم اسرائیل اور امریکہ اس موقف کو مسترد کر چکے ہیں۔

اسرائیل کے وزیر اعظم نتن یاہو نے واضح طور پر کہا ہے کہ لبنان کسی بھی جنگ بندی معاہدے کا حصہ نہیں ہے اور حزب اللہ کے خلاف کارروائیاں جاری رہیں گی۔ ان کا کہنا تھا کہ اسرائیل اپنی سلامتی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا اور ہر خطرے کا بھرپور جواب دیا جائے گا۔

پیر کی رات کیے گئے حملوں میں آئی ڈی ایف نے جنوبی لبنان کے چار دیہات اور ملک کی مشرقی سرحد کے قریب واقع عمارتوں کو نشانہ بنایا۔

شیخ نعیم قاسم نے اس بات پر زور دیا کہ لبنان کے مسائل ’’اسرائیلی حملوں اور امریکہ کے حمایت یافتہ قبضے‘ کی وجہ سے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ملک کے بحرانوں کے حل کے لیے پہلا قدم یہ ہے کہ اسرائیل اپنے حملوں کو مکمل طور پر روکے، مقبوضہ لبنانی علاقوں سے ہٹے، قیدیوں کو رہا کرے اور ملک کی تعمیر نو کے ذریعے لبنان کی خودمختاری کو بحال کرے۔

لبنان اور شام 1948 سے اسرائیل کے ساتھ تکنیکی طور پر حالتِ جنگ میں ہیں۔ دمشق کی جانب سے بھی اسرائیل کے ساتھ معمول کے تعلقات کی بات کو ’’قبل از وقت‘‘ قرار دیا گیا ہے۔

اسرائیلی فوج کے ترجمان کے 'ایکس' پر جاری کیے گئے بیان کے مطابق جنوبی بیروت میں کئی عمارتوں کے مکینوں کو علاقے سے نکل جانے اور اپنے گھر بار چھوڑکر جانے کے لیے کہا گیا تھا۔ ان کو آگاہ کیا گیا تھا کہ وہ اپنے علاقے سے کم از کم 300 میٹر دور ہو جائیں تاکہ اسرائیلی حملے کے اثرات سے محفوظ رہ سکیں۔