مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے درمیان ایران نے لبنان میں حزب اللہ پر اسرائیلی حملوں کے خلاف سخت ردعمل کا اشارہ دیا ہے۔ ایران کی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے خبردار کیا ہے کہ اگر لبنان میں حملے جاری رہے تو اس کے ”واضح نتائج“ سامنے آئیں گے اور بھرپور جواب دیا جائے گا۔ جمعرات کو سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری اپنے بیان میں قالیباف نے کہا کہ اسرائیل کی کارروائیاں نہ صرف خطے میں کشیدگی کو بڑھا رہی ہیں بلکہ جاری سیزفائر معاہدے کی بھی کھلی خلاف ورزی ہیں۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ دو ہفتوں کے لیے طے پانے والی جنگ بندی کا اطلاق لبنان پر بھی ہونا چاہیے، تاہم اسرائیل اور امریکہ اس موقف کو مسترد کر چکے ہیں۔ انہوں نے واضح الفاظ میں کہا کہ جنگ بندی کی خلاف ورزی کا جواب ”سخت اور فیصلہ کن“ ہوگا۔ تجزیہ کاروں کے مطابق قالیباف کا یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب خطے میں سفارتی کوششیں جاری ہیں اور وہ خود بھی ممکنہ مذاکرات کار کے طور پر زیر غور ہیں۔ اطلاعات ہیں کہ وہ جلد اسلام آباد میں امریکی نائب صدر جے ڈی وینس سے ملاقات کر سکتے ہیں تاکہ موجودہ بحران پر بات چیت کی جا سکے۔
— محمدباقر قالیباف | MB Ghalibaf (@mb_ghalibaf) April 9, 2026
دوسری جانب لبنان میں اسرائیلی حملوں کے نتیجے میں جانی نقصان میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ لبنان کی وزارت صحت کے مطابق بدھ کے روز وسطی بیروت اور دیگر علاقوں میں ہونے والے فضائی حملوں میں کم از کم 203 افراد جاں بحق جبکہ ایک ہزار سے زائد زخمی ہو گئے۔ یہ ہلاکتیں گزشتہ پانچ ہفتوں کے دوران سب سے زیادہ بتائی جا رہی ہیں، جو اس تنازعے کی شدت کو ظاہر کرتی ہیں۔ اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ ان حملوں کا ہدف حزب اللہ کے ٹھکانے تھے، تاہم مقامی حکام اور عینی شاہدین کے مطابق جن عمارتوں کو نشانہ بنایا گیا وہ گنجان آباد رہائشی اور تجارتی علاقے تھے۔ بغیر کسی پیشگی انتباہ کے کیے گئے ان حملوں کے باعث بڑی تعداد میں عام شہری متاثر ہوئے، جس پر عالمی سطح پر بھی تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے۔
لبنان کے صدر جوزف عون نے اسرائیلی کارروائیوں کو ”بربریت“ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان حملوں نے نہ صرف انسانی جانوں کا ضیاع کیا ہے بلکہ خطے کے امن کو بھی شدید خطرے میں ڈال دیا ہے۔ انہوں نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ فوری طور پر مداخلت کرے اور اسرائیل کو اس طرح کی کارروائیوں سے باز رکھنے کے لیے مؤثر اقدامات اٹھائے۔ ادھر ایران نے ایک بار پھر واضح کیا ہے کہ لبنان میں جاری حملے سفارتی کوششوں کو سبوتاژ کر سکتے ہیں اور اگر یہ سلسلہ جاری رہا تو مذاکرات بے معنی ہو جائیں گے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ موجودہ صورتحال انتہائی نازک ہے اور اگر فوری طور پر کشیدگی کم نہ کی گئی تو یہ تنازعہ ایک بڑی علاقائی جنگ کی شکل اختیار کر سکتا ہے، جس کے اثرات پوری دنیا پر مرتب ہوں گے۔
بھارت ایکسپریس اردو-
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔
