Iran-US-Israel Conflict: ایران-اسرائیل جنگ سے عالمی معیشت پر خطرے کے بادل، کیا 2027 تک مہنگائی اور کساد بازاری کا نیا طوفان آئے گا، جانئے ورلڈ بینک نے کیا وارننگ دی؟
اقتصادی تجزیہ کاروں کے مطابق فروری 2026 کے آخر میں شروع ہونے والی کشیدگی اب 100 دن سے زیادہ کا عرصہ طے کر چکی ہے۔ اگرچہ مختلف مواقع پر جنگ بندی اور سفارتی مذاکرات کی امیدیں پیدا ہوئیں، تاہم ایران اور اسرائیل کے درمیان دوبارہ شروع ہونے والی فوجی کارروائیوں نے صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔
Iran-US War Energy Crisis: ایران-امریکہ جنگ کے بعد عالمی توانائی بحران سنگین، آبنائے ہرمز کھلنے کے باوجود اب سستا تیل ملنا مشکل
جنگ سے قبل عالمی سطح پر تیل اور گیس کی فراہمی نسبتاً مستحکم تھی اور قیمتیں بھی قابو میں تھیں، جس کے باعث کاروباری سرگرمیاں تیزی سے جاری تھیں اور معیشت ترقی کر رہی تھی۔ تاہم موجودہ صورتحال نے اس توازن کو بگاڑ دیا ہے اور عالمی منڈی میں بے یقینی بڑھ گئی ہے۔ ماہرین کے مطابق اب وہ حالات دوبارہ بحال کرنا آسان نہیں رہے۔
Israel-Lebanon Conflict: لبنان میں حزب اللہ پر اسرائیلی حملوں کا سخت جواب دیا جائے گا: ایران کی وارننگ
جمعرات کو سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری اپنے بیان میں قالیباف نے کہا کہ اسرائیل کی کارروائیاں نہ صرف خطے میں کشیدگی کو بڑھا رہی ہیں بلکہ جاری سیزفائر معاہدے کی بھی کھلی خلاف ورزی ہیں۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ دو ہفتوں کے لیے طے پانے والی جنگ بندی کا اطلاق لبنان پر بھی ہونا چاہیے، تاہم اسرائیل اور امریکہ اس موقف کو مسترد کر چکے ہیں۔
Iran vs US-Israel War: ایران جنگ بندی کا خواہاں، ڈونلڈ ٹرمپ نے کیا دعویٰ، رکھی سخت شرائط، ایران کا انکار، خلیج میں کشیدگی مزید بڑھنے کا خدشہ
ایران نے امریکی صدر کے اس دعوے کو مسترد کر دیا ہے۔ الجزیرہ کے مطابق ایرانی حکام نے کہا ہے کہ تہران نے کسی بھی سطح پر جنگ بندی کی درخواست نہیں کی۔ ایرانی حکام کے مطابق امریکہ کے یہ بیانات سیاسی دباؤ بڑھانے کی کوشش ہیں۔
India Gets Oil From Iran First Time In 7 Years: ہرمز بحران کے درمیان بھارت کو بڑی راحت، سات سال بعد ایران سے آرہا ہے خام تیل
ایران، اسرائیل اور امریکہ کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی اور آبنائے ہرمز میں پیدا ہونے والے بحران کے دوران بھارت کے لیے ایک اہم اور حوصلہ افزا خبر سامنے آئی ہے۔ تقریباً سات سال بعد ایران سے خام تیل کی پہلی کھیپ بھارت پہنچنے والی ہے، جسے توانائی سلامتی کے نقطہ نظر سے نہایت اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
UN Envoy Resigns Over Claims Of Planned Nuclear Strike On Iran: ایران پر ایٹمی حملے کا خدشہ! اقوام متحدہ کے نمائندے کا دعویٰ- ایران پر ایٹم بم گرانے کی تیاری کر رہے ہیں امریکہ اور اسرائیل
محمد صفا نے اپنے پیغام کے ساتھ تہران کی ایک تصویر بھی شیئر کی، جس میں انہوں نے ایٹمی حملے کے ممکنہ نتائج پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے لکھا کہ تہران کوئی خالی صحرا نہیں بلکہ ایک گنجان آباد شہر ہے جہاں لاکھوں خاندان رہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جنگ کی بات کرنے والے اکثر اس حقیقت کو نظر انداز کر دیتے ہیں کہ ایسے حملوں سے عام شہری سب سے زیادہ متاثر ہوتے ہیں۔
US-Israel vs Iran Conflict: ایران میں اقتدار کی تبدیلی کا دعویٰ، امریکی وزیر دفاع نے کہا- ’’میں نئی حکومت سے کہہ رہا ہوں کہ وہ معاہدہ کرے ورنہ مزید بڑے حملے ہوں گے‘‘
امریکی وزیر دفاع نے یہ بیان پینٹاگون میں پریس بریفنگ کے دوران دیا۔ انہوں نے کہا کہ ڈونلڈ ٹرمپ معاہدے کے لیے تیار ہیں اور ایران کو پہلے ہی امریکی شرائط سے آگاہ کیا جا چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر ایران نے سنجیدگی کا مظاہرہ نہ کیا تو امریکی فوج اپنی کارروائیوں کو مزید بڑھائے گی اور اہم اہداف کو نشانہ بنایا جائے گا۔
Iran is a Hope for Democratic Order in the Region—Professor Anwar Pasha: امریکہ کی عرب پپٹ ریجن کے خلاف مزاحمت کی امید ہے ایران: پروفیسر انور پاشا
آر جے ڈی کے ترجمان اور جے این یو کے سابق پروفیسر کا کہنا ہے کہ خلیجی ممالک میں جمہوریت کی بہار امریکی مفادات کے لیے خطرہ ہے، عوامی بغاوت ناگزیر
America-Iran Tension Escalates: کیا آبنائے ہرمز اب کھل گیا ہے؟ ٹرمپ کے دعوے پر ایران کا سخت ردعمل، کہا— امریکہ جھوٹ بول رہا ہے، ہم دباؤ میں نہیں آئیں گے
ایران کی پاسداران انقلاب فورس نے ٹرمپ کے تمام دعوؤں کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ آبنائے ہرمز امریکہ اور اس کے حامی ممالک کے لیے اب بھی بند ہے۔ ایرانی حکام نے واضح کیا کہ کسی بھی ایسے جہاز کو گزرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی جو امریکہ یا اسرائیل کی حمایت کرتا ہو۔ ایران نے خبردار کیا کہ اگر کسی نے زبردستی گزرنے کی کوشش کی تو اس کا سخت جواب دیا جائے گا۔
Donald Trump Latest Statement On India: ایران جنگ کے درمیان ٹرمپ کا بڑا اشارہ، کیا امریکہ بھارت کو ثالثی کا کردار دینا چاہتا ہے؟ جانئے مودی پر اعتماد کے پیچھے واشنگٹن کی نئی حکمت عملی
سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ٹرمپ کی امریکہ فرسٹ پالیسی کے تحت واشنگٹن براہ راست جنگی صورتحال میں ملوث ہونے سے گریز کرنا چاہتا ہے۔ ایسے میں امریکہ اپنے قابل اعتماد شراکت داروں کو آگے لانے کی کوشش کر رہا ہے۔ بھارت کو ایک توازن رکھنے والی طاقت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے کیونکہ اس کے ایران، اسرائیل اور امریکہ تینوں کے ساتھ اچھے تعلقات ہیں۔





