Bharat Express DD Free Dish

Iran Israel

رپورٹس کے مطابق پاکستانی کنٹینر جہاز متحدہ عرب امارات سے کراچی کی جانب رواں دواں تھا، جب ایرانی فورسز نے اسے آگے بڑھنے سے روک دیا۔ بتایا جا رہا ہے کہ جہاز میں تقریباً 6850 ٹن سامان لدا ہوا تھا۔ ایرانی حکام کی جانب سے اجازت نہ ملنے کے بعد جہاز کو واپس جانے کی ہدایت دی گئی۔ اس واقعے کے بعد پاکستانی تجارتی حلقوں میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔

ایران نے اب تک اسرائیل پر سب سے بڑے میزائل حملے میں 500 سے زائد میزائل داغے ہیں۔ ایران کی اسلامی انقلابی گارڈ کورپس (آئی آر جی سی) کے مطابق صرف 24 مارچ کی رات میں ہی 220 میزائل ایک ساتھ داغے گئے جو اب تک کا سب سے بڑا حملہ قرار دیا جارہا ہے۔

اس منصوبے کے تحت ایران سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ اپنے تین اہم جوہری مراکز — نطنز ، اصفہان اور فوردو کو بند کرے ۔ ساتھ ہی ایران کو اپنے ملک میں یورینیم کی افزودگی مکمل طور پر روکنے اور بیلسٹک میزائل پروگرام کو بھی معطل کرنے کو کہا گیا ہے۔

ایران کے فوجی ہیڈکوارٹر نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم 'ایکس' پر کہا، "ایران اور امریکہ کے درمیان کوئی بات چیت نہیں ہوئی۔ ٹرمپ کی جانب سے بات چیت کے دعوے جھوٹے ہیں۔ امریکہ نے ہمارے توانائی کے بنیادی ڈھانچے پر حملے کی دھمکی دی، جس کے بعد پیچھے ہٹنا خطرے سے بچنے کی کوشش ہے۔ آبنائے ہرمز پر ہمارا موقف برقرار ہے"۔

اقوام متحدہ نے کہا کہ اگر یہ کشیدگی طویل ہوئی یا بڑے پیمانے پر پھیلی تو لاکھوں دیگر بچوں کی زندگیوں کے لیے خطرہ پیدا ہو سکتا ہے۔ ان کے مطابق، ماری گئی تعداد میں 206 بچے ایران میں، 118 لبنان میں، 4 اسرائیل میں اور ایک کویت میں شامل ہیں۔ جنگ کے دوران ہر دن تقریباً 87 بچے ہلاک یا زخمی ہو رہے ہیں۔

مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے درمیان، پیر کو متحدہ عرب امارات (یو اے ای) سے بھارت کے لیے تقریباً 95 پروازیں آنے کی توقع ہے۔ ایک سرکاری بیان کے مطابق، اس خطے سے محدود تعداد میں خصوصی (نان شیڈیول) پروازیں بھی جاری ہیں، جبکہ سعودی عرب اور عمان سے بھارت کے لیے فلائٹس معمول کے مطابق چل رہی ہیں۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ امریکہ آئندہ پانچ دنوں تک ایران کی توانائی تنصیبات پر کوئی فوجی حملہ نہیں کرے گا۔ انہوں نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم سوشل ٹروتھ پر جاری بیان میں کہا کہ ایران کے ساتھ حالیہ بات چیت مثبت اور تعمیری رہی ہے، جس کے بعد یہ فیصلہ کیا گیا ہے۔

امریکہ اور اسرائیل کے ذریعہ بے سبب چھیڑی گئی اس دہشت گردانہ جنگ کا شدید نقصان امریکہ و اسرائیل کے علاوہ ایسے ممالک کے حکمرانوں کو بھی ہورہا ہے جو کبھی ایران کے دوست اور سفارتی پاسدار ہوا کرتے تھے لیکن آج اسرائیلی اور امریکی فریب و مکر یا پس پردہ خوف و مجبوری کے سبب خاموش تماش بین بنے ہوئے ہیں۔

امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) نے تصدیق کی ہے کہ امریکی فضائیہ نے ایران کی ساحلی پٹی پر واقع میزائل ٹھکانوں پر 5,000 پاؤنڈ وزنی بنکر بسٹر بم سے فضائی حملے کیے ہیں۔ یہ حملے آبنائے ہرمز کے قریب کیے گئے، جسے دنیا کا نہایت اہم توانائی راستہ سمجھا جاتا ہے۔ امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) کے مطابق جن مقامات کو نشانہ بنایا گیا وہاں ایران کے اینٹی شپ کروز میزائل سسٹم موجود تھے۔

اسرائیل کے وزارت دفاع نے منگل کو علی لاریجانی کی ہلاکت کا اعلان کیا، جبکہ ایران نے رات دیر سے اس کی تصدیق کی۔ فارس نیوز ایجنسی کے مطابق، لاریجانی اسی وقت ہلاک ہوئے جب وہ تہران کے بیرونی علاقے میں اپنی بیٹی سے ملاقات کے لیے موجود تھے۔