اقوام متحدہ سے وابستہ ایک نمائندے نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکہ اور اسرائیل ایران پر ایٹمی حملے کی تیاری کر رہے ہیں۔ اس حیران کن دعوے نے عالمی سطح پر تشویش پیدا کر دی ہے اور بین الاقوامی حلقوں میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ مذکورہ دعویٰ اقوام متحدہ میں سفارتی خدمات انجام دینے والے محمد صفا نے کیا، جنہوں نے کہا کہ انہوں نے یہ معلومات منظر عام پر لانے کے لیے اپنی ملازمت تک چھوڑ دی ہے۔ محمد صفا، جو اقوام متحدہ میں بطور سفارتی نمائندہ اور پیٹریاٹک وژن ایسوسی ایشن کے نمائندے کے طور پر کام کر رہے تھے، نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے استعفے کا اعلان کیا۔ انہوں نے لکھا کہ وہ ایسے ماحول میں کام جاری نہیں رکھ سکتے جہاں ایٹمی ہتھیاروں کے استعمال کی تیاریاں ہو رہی ہوں۔ ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے انسانیت کو ممکنہ تباہی سے آگاہ کرنے کے لیے یہ قدم اٹھایا ہے۔
I don’t think people understand the gravity of the situation as the UN is preparing for possible nuclear weapon use in Iran.
This is a picture of Tehran. For you uneducated, untraveled, never-served, warhawks licking your chops at the thought of bombing it. It’s not some low… pic.twitter.com/BnzB4F3001
— Mohamad Safa (@mhdksafa) March 29, 2026
محمد صفا نے اپنے پیغام کے ساتھ تہران کی ایک تصویر بھی شیئر کی، جس میں انہوں نے ایٹمی حملے کے ممکنہ نتائج پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے لکھا کہ تہران کوئی خالی صحرا نہیں بلکہ ایک گنجان آباد شہر ہے جہاں لاکھوں خاندان رہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جنگ کی بات کرنے والے اکثر اس حقیقت کو نظر انداز کر دیتے ہیں کہ ایسے حملوں سے عام شہری سب سے زیادہ متاثر ہوتے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ تہران کی آبادی تقریباً ایک کروڑ کے قریب ہے اور اگر اس شہر پر ایٹمی حملہ کیا گیا تو اس کے نتائج انتہائی تباہ کن ہوں گے۔ انہوں نے عالمی برادری سے اپیل کی کہ وہ اس ممکنہ خطرے کو سنجیدگی سے لے اور کشیدگی کم کرنے کے لیے فوری اقدامات کرے۔ انہوں نے مثال دیتے ہوئے کہا کہ اگر واشنگٹن، برلن، پیرس یا لندن جیسے شہروں پر ایٹمی حملہ ہو جائے تو دنیا کس طرح کے بحران کا سامنا کرے گی۔

محمد صفا نے الزام لگایا کہ اقوام متحدہ کے بعض سینئر عہدیدار ایک طاقتور لابی کے لیے کام کر رہے ہیں اور بین الاقوامی مفادات کو نظر انداز کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان کا ضمیر انہیں اس صورتحال میں خاموش رہنے کی اجازت نہیں دیتا تھا، اسی لیے انہوں نے اپنی سفارتی ذمہ داریاں ترک کر دیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ انہوں نے اپنی ذمہ داریاں اس لیے روک دیں تاکہ وہ انسانیت کے خلاف ممکنہ جرم کا حصہ نہ بنیں اور نہ ہی اس کے خاموش گواہ رہیں۔ ان کے مطابق اگر بروقت اقدامات نہ کیے گئے تو دنیا ایک بڑی ایٹمی تباہی کے دہانے پر پہنچ سکتی ہے۔
محمد صفا نے عالمی رہنماؤں سے اپیل کی کہ وہ مذاکرات کو ترجیح دیں اور کشیدگی کم کرنے کے لیے فوری اقدامات کریں۔ انہوں نے کہا کہ جنگ کسی مسئلے کا حل نہیں بلکہ مزید تباہی کو جنم دیتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ عالمی برادری کو چاہیے کہ وہ انسانی جانوں کے تحفظ کو اولین ترجیح دے۔ دوسری جانب عالمی اداروں کے بعض ماہرین بھی اس خدشے کا اظہار کر چکے ہیں کہ اگر ایران سے متعلق کشیدگی میں اضافہ ہوا تو صورتحال ایٹمی تصادم تک پہنچ سکتی ہے۔ ماہرین کے مطابق ایسی صورت حال نہ صرف مشرق وسطیٰ بلکہ پوری دنیا کے لیے تباہ کن ثابت ہو سکتی ہے۔ محمد صفا کے دعوے کے بعد عالمی سطح پر تشویش مزید بڑھ گئی ہے اور کئی ممالک نے سفارتی حل پر زور دینا شروع کر دیا ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

