Bharat Express DD Free Dish

Nuclear Attack Threat

محمد صفا نے اپنے پیغام کے ساتھ تہران کی ایک تصویر بھی شیئر کی، جس میں انہوں نے ایٹمی حملے کے ممکنہ نتائج پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے لکھا کہ تہران کوئی خالی صحرا نہیں بلکہ ایک گنجان آباد شہر ہے جہاں لاکھوں خاندان رہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جنگ کی بات کرنے والے اکثر اس حقیقت کو نظر انداز کر دیتے ہیں کہ ایسے حملوں سے عام شہری سب سے زیادہ متاثر ہوتے ہیں۔

روس کی ترجمان نے زور دیا کہ ایران کے جوہری تنازع کا حل سفارت کاری اور بات چیت کے ذریعے ہی ممکن ہے۔ انہوں نے کہا کہ روس ہمیشہ سے ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق تنازعات کے سیاسی اور سفارتی حل کی وکالت کرتا رہا ہے۔

عالمی مارکیٹوں میں سرمایہ کار اس حملے کے معاشی اثرات کا جائزہ لے رہے ہیں، جہاں تیل کی قیمتوں میں اضافے سے عالمی معیشت پر دباؤ بڑھ سکتا ہے، جو پہلے ہی ٹرمپ کی طرف سے عائد کردہ ٹیرف کی وجہ سے دباؤ کا شکار ہے۔

سیٹلائٹ امیج میں دیکھا جا سکتا ہے کہ حملے کے بعد زمین اندر کی طرف دھنس گئی، جب کہ سرنگ کے داخلی دروازے مٹی سے بند کر دیے گئے۔ فردو نیوکلیئر سائٹ تک پہنچنے کے بہت سے راستے ہیں۔

غور طلب ہے کہ امریکہ اب براہ راست ایران اور اسرائیل کے درمیان جاری تنازع میں شامل ہو گیا ہے۔ ہفتے کی رات دیر گئے امریکی طیاروں نے ایران کے تین بڑے جوہری اڈوں فردو، نطنز اور اصفہان پر زبردست فضائی حملہ کیا۔

موجودہ تنازع میں ایران کی جانب سے اسرائیل پر میزائل حملوں اور اسرائیل کے جوابی حملوں کے بعد علاقائی کشیدگی عروج پر ہے۔ عراقچی کی پیوتن سے ملاقات ممکنہ طور پر فوجی اور سیاسی تعاون کو مضبوط کرنے کے ساتھ ساتھ بین الاقوامی سطح پر ایران کے موقف کو تقویت دینے کے لیے اہم ہوگی۔

امریکہ کی دفاعی انٹیلی جنس ایجنسی (ڈی آئی اے) نے اپنی تازہ رپورٹ میں دعویٰ کیا ہے کہ پاکستان بھارت کو ایک وجودی خطرے کے طور پر دیکھتا ہے۔

امریکی صدر کی انتظامیہ نے اسرائیل سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ کوئی بھی بڑی فوجی کارروائی کرنے سے پہلے سفارتی راستوں کو ترجیح دے۔ وائٹ ہاؤس کے ایک ترجمان نے کہا کہ امریکہ مشرق وسطیٰ میں استحکام کے لیے پرعزم ہے۔

مریم نواز نے اپنے والد اور پاکستان کے سابق وزیراعظم نواز شریف کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ نواز شریف نے پاکستان کو ایٹمی طاقت بنانے میں تاریخی کردار ادا کیا ہے۔یا درہے کہ پہلگام میں دہشت گردانہ حملے میں 26 افراد ہلاک ہوئے تھے۔

فی الحال دونوں فریقوں نے مذاکرات کی تصدیق کر دی ہے، لیکن ان کی نوعیت کے بارے میں ابہام برقرار ہے۔ امریکی ذرائع کے مطابق، یہ بات چیت ممکنہ طور پر اسٹیون وٹکاف کی سربراہی میں ہوگی، جو ٹرمپ کے مشرق وسطیٰ کے ایلچی ہیں۔