Bharat Express DD Free Dish

President Masoud Pezeshkian first Reaction: امریکہ کا ایران پر حملہ یہ ثابت کرتا ہے کہ اسرائیل لاچار ہوچکا ہے،امریکی حملے پر ایرانی صدر کا پہلا تبصرہ

غور طلب ہے کہ امریکہ اب براہ راست ایران اور اسرائیل کے درمیان جاری تنازع میں شامل ہو گیا ہے۔ ہفتے کی رات دیر گئے امریکی طیاروں نے ایران کے تین بڑے جوہری اڈوں فردو، نطنز اور اصفہان پر زبردست فضائی حملہ کیا۔

ایرانی صدر مسعود پیزشکیان نے امریکی اقدام پر پہلی بار ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے واشنگٹن پر سخت حملہ کیا ہے۔ ایرانی صدر مسعود پیزشکیان نے ایرانی جوہری تنصیبات پر امریکی فضائی حملوں کے بعد اپنے پہلے تبصرے میں کہا کہ یہ حملہ ظاہر کرتا ہے کہ اسلامی جمہوریہ کے خلاف اسرائیل کی فوجی مہم کے پیچھے اصل طاقت واشنگٹن ہے۔ پیزشکیان نے کہا کہ امریکہ اسرائیل کی لاچاری  کو دیکھ کر میدان میں آیا۔

غور طلب ہے کہ امریکہ اب براہ راست ایران اور اسرائیل کے درمیان جاری تنازع میں شامل ہو گیا ہے۔ ہفتے کی رات دیر گئے امریکی طیاروں نے ایران کے تین بڑے جوہری اڈوں فردو، نطنز اور اصفہان پر زبردست فضائی حملہ کیا۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ ان تمام اڈوں کو مکمل طور پر تباہ کردیا گیا ہے اور خبردار کیا ہے کہ اگر ایران نے جوابی کارروائی کی تو امریکہ مزید حملے کرے گا۔وہیں امریکہ کے وزیر خارجہ نے کہا ہے کہ وہ ایران سے جنگ نہیں چاہتا ہےبلکہ وہ ایران سے بات چیت کرنا چاہتا ہے۔اس حملے میں ایران کی فوج یا عوام کو نشانہ نہیں بنایا گیا بلکہ جوہری تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا ہے۔

ایران میں جاری اس تنازع میں اب تک سیکڑوں افراد اپنی جانیں گنوا چکے ہیں اور ایک ہزار سے زائد زخمی ہو چکے ہیں جب کہ اسرائیل میں دو درجن سے زائد افراد ہلاک اور سینکڑوں زخمی ہو چکے ہیں۔ ایران کا کہنا ہے کہ اس کا جوہری پروگرام خالصتاً پرامن مقاصد کے لیے ہے۔ لیکن اسرائیل اسے اپنے وجود کے لیے خطرہ سمجھتا ہے اور دلیل دیتا ہے کہ ایران کو جوہری ہتھیاروں کی تیاری سے روکنے کے لیے اس کا فوجی آپریشن ضروری ہے۔اگرچہ امریکی انٹیلی جنس ایجنسیوں کا اندازہ ہے کہ تہران فعال طور پر جوہری بم تیار نہیں کر رہا ہے، لیکن صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور اسرائیلی حکام کا دعویٰ ہے کہ ایران بہت جلد ایک ایسا بم تیار کر سکتا ہے جو سنگین خطرہ بن سکتا ہے۔

بھارت ایکسپریس۔



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read