امریکہ کی طرف سے ایران کے تین جوہری تنصیاب پر حملے کی ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے شدید مذمت کی۔ انہوں نے کہا، “اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا مستقل رکن امریکہ نے ایران کی پرامن جوہری تنصیبات پر حملہ کرکے اقوام متحدہ کے چارٹر، بین الاقوامی قانون اور این پی ٹی کی سنگین خلاف ورزی کی ہے۔ آج صبح کے واقعات انتہائی شرمناک ہیں اور ان کے دیرپا نتائج ہوں گے۔ اقوام متحدہ کے ہر رکن کو اس انتہائی خطرناک، غیر قانونی اور مجرمانہ رویے پر تشویش ہونی چاہیے۔ اقوام متحدہ کے چارٹر اور اس کی خود دفاعی ردعمل کی اجازت دینے والی شقوں کے مطابق، ایران اپنی خودمختاری، مفادات اور عوام کے دفاع کے لیے تمام اختیارات محفوظ رکھتا ہے۔” یہ بیان انہوں نے ایکس پر پوسٹ کیا۔
وہیں دوسری جانب ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے ایک پریس کانفرنس کے دوران اعلان کیا کہ وہ آج (22 جون 2025) دوپہر کو ماسکو روانہ ہو رہے ہیں تاکہ روس کے صدر ولادیمیر پیوتن سے ملاقات کریں اور “سنجیدہ مشاورت” کریں۔ یہ بیان موجودہ اسرائیل-ایران تنازع اور امریکی حملوں کے بعد ایران کی سفارتی حکمت عملی کو مضبوط کرنے کی کوشش کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ روس، جو ایران کا اہم اتحادی ہے، نے پہلے ہی امریکی حملوں کی مذمت کی ہے اور ایران کے ساتھ تعاون کو مزید گہرا کرنے کا عندیہ دیا ہے۔
Last week, we were in negotiations with the US when Israel decided to blow up that diplomacy.
This week, we held talks with the E3/EU when the US decided to blow up that diplomacy.
What conclusion would you draw?
To Britain and the EU High Rep, it is Iran which must “return”…
— Seyed Abbas Araghchi (@araghchi) June 22, 2025
عراقچی نے مزید کہا کہ ایرانی مسلح افواج مکمل چوکس ہیں اور کسی بھی ممکنہ خطرے سے نمٹنے کے لیے تیار ہیں۔ جب ان سے ابنائے ہرمز کو بند کرنے کے بارے میں سوال کیا گیا تو انہوں نے کہا، “ایران کے پاس متعدد اختیارات موجود ہیں۔” یہ بیان ایران کی جانب سے ابنائے ہرمز، جو عالمی تیل کی ترسیل کا اہم راستہ ہے، کو بند کرنے کی دھمکیوں کے تناظر میں اہم ہے۔ تاہم، انہوں نے اس حوالے سے کوئی واضح فیصلہ ظاہر نہیں کیا۔سفارت کاری کے بارے میں بات کرتے ہوئے عراقچی نے سخت موقف اپنایا اور کہا، “پہلے ہمارے جواب کا انتظار کریں، جب جارحیت ختم ہو گی، تب ہم سفارت کاری کے بارے میں فیصلہ کریں گے۔” یہ بیان اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ ایران فی الحال فوجی ردعمل کو ترجیح دے رہا ہے اور سفارتی مذاکرات کے لیے حالات کو سازگار بننے کا انتظار کرے گا۔
موجودہ تنازع میں ایران کی جانب سے اسرائیل پر میزائل حملوں اور اسرائیل کے جوابی حملوں کے بعد علاقائی کشیدگی عروج پر ہے۔ عراقچی کی پیوتن سے ملاقات ممکنہ طور پر فوجی اور سیاسی تعاون کو مضبوط کرنے کے ساتھ ساتھ بین الاقوامی سطح پر ایران کے موقف کو تقویت دینے کے لیے اہم ہوگی۔ عالمی برادری اس ملاقات کے نتائج پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے، کیونکہ اس سے تنازع کا رخ متاثر ہو سکتا ہے۔اس دوران، ایران کی جانب سے مکمل چوکس رہنے اور ابنائے ہرمز کے حوالے سے غیر واضح لیکن دھمکی آمیز بیانات نے عالمی معیشت، خاص طور پر تیل کی منڈیوں پر دباؤ بڑھا دیا ہے۔ ماہرین کا خیال ہے کہ اگر ایران آبنائے ہرمز کو بند کرتا ہے تو اس کے عالمی معیشت پر سنگین اثرات ہو سکتے ہیں، کیونکہ دنیا کا تقریباً 20 فیصد تیل اسی راستے سے گزرتا ہے۔
واضح رہے کہ اسرائیل اور ایران کے درمیان جاری تنازع اپنی شدت میں اضافے کے ساتھ دوسرے ہفتے میں داخل ہو چکا ہے۔ 21 جون 2025 کو امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے اعلان کیا کہ امریکہ نے ایران کے تین اہم جوہری تنصیبات—فورڈو، نطنز، اور اصفہان—پر کامیاب حملے کیے۔ ان حملوں میں بی-2 بمبار طیاروں اور 30,000 پاؤنڈ وزنی “بنکر بسٹر” بم کا استعمال کیا گیا۔ اس کے جواب میں ایران نے اسرائیل پر متعدد بیلسٹک میزائلوں سے حملے کیے، جن میں سے کچھ تل ابیب اور دیگر شہری علاقوں میں گرے، جس سے متعدد افراد زخمی ہوئے۔ ایرانی حکام نے ان حملوں کو “آپریشن ٹرو پرامس 3” کا حصہ قرار دیا، جبکہ اسرائیل نے اپنے دفاع میں آئرن ڈوم سسٹم کو متحرک کیا۔ادھر دوسری جانب ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای نے امریکی حملوں پر ابھی تک کوئی سرکاری بیان جاری نہیں کیاہے۔
بھارت ایکسپریس۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

