خلیجی خطے میں جاری ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی ایک بار پھر شدت اختیار کرتی دکھائی دے رہی ہے، جہاں عارضی جنگ بندی کے باوجود حالات مسلسل بگڑتے جا رہے ہیں۔ حالیہ پیش رفت میں متحدہ عرب امارات (یو اے ای) کی جانب سے دیا گیا سخت بیان اس نازک صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا رہا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر موجودہ حالات میں بہتری نہ آئی تو کسی بھی وقت یہ سیزفائر ٹوٹ سکتا ہے اور خطہ ایک بڑے تصادم کی لپیٹ میں آ سکتا ہے۔ گزشتہ ایک ماہ سے ایران اور امریکہ کے درمیان جاری کشیدگی کو کم کرنے کے لیے دو ہفتوں کا عارضی سیزفائر نافذ کیا گیا تھا۔ تاہم زمینی حقائق اس بات کی نشاندہی کر رہے ہیں کہ یہ جنگ بندی محض کاغذی حد تک محدود ہے اور عملی طور پر اس کی خلاف ورزیاں جاری ہیں۔ اسی دوران یو اے ای کی جانب سے سامنے آنے والا بیان عالمی برادری کی تشویش میں مزید اضافہ کر رہا ہے۔
بدھ کے روز یو اے ای کی وزارت خارجہ نے ایک باضابطہ بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ خطے میں پائیدار امن اسی وقت ممکن ہے جب ایران اپنے حملوں کی مکمل ذمہ داری قبول کرے، نقصانات کی تلافی کرے اور سمندری سلامتی کو مکمل طور پر بحال کرے۔ یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب آبنائے ہرمز کی صورتحال کے حوالے سے عالمی سطح پر شدید تشویش پائی جا رہی ہے، کیونکہ یہ آبی گزرگاہ عالمی توانائی کی ترسیل کے لیے نہایت اہم سمجھی جاتی ہے۔ یو اے ای کے بیان میں واضح کیا گیا کہ صرف سیزفائر کا اعلان کافی نہیں بلکہ خطے میں ہر قسم کی دشمنی کا فوری خاتمہ ضروری ہے۔ بیان میں بالواسطہ طور پر سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے اعلان کردہ جنگ بندی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا کہ آبنائے ہرمز کو بلا کسی شرط کے مکمل طور پر کھولا جانا چاہیے تاکہ عالمی تجارت اور توانائی کی ترسیل متاثر نہ ہو۔
مزید برآں، یو اے ای نے اس بات پر زور دیا کہ جنگ بندی کے معاہدے کی شقوں میں مزید وضاحت کی ضرورت ہے تاکہ مستقبل میں کسی بھی قسم کی غلط فہمی یا تصادم سے بچا جا سکے۔ بیان کے مطابق شفافیت اور اعتماد سازی کے اقدامات کے بغیر خطے میں امن کا قیام ممکن نہیں۔ یو اے ای نے اپنے بیان میں گزشتہ 40 دنوں کے دوران ہونے والے واقعات کا ذکر کرتے ہوئے ایران پر سنگین الزامات بھی عائد کیے۔ اس کے مطابق ایران نے یو اے ای کے بنیادی ڈھانچے، توانائی کے مراکز اور شہری علاقوں کو نشانہ بنایا۔ یو اے ای کا دعویٰ ہے کہ ان حملوں میں مجموعی طور پر 2,819 بیلسٹک اور کروز میزائل داغے گئے، جبکہ متعدد ڈرون حملے بھی کیے گئے، جس کے نتیجے میں بڑے پیمانے پر جانی و مالی نقصان ہوا۔ یو اے ای نے واضح کیا کہ ان حملوں کے لیے ایران کو جوابدہ ٹھہرایا جانا چاہیے اور نقصانات کی مکمل تلافی کی جانی چاہیے۔ اس کے ساتھ ہی وزارت خارجہ نے اس بات پر بھی زور دیا کہ موجودہ تنازعہ کے بنیادی اسباب کو حل کیے بغیر کوئی بھی عارضی جنگ بندی دیرپا ثابت نہیں ہو سکتی۔
اگرچہ یو اے ای نے یہ اعادہ کیا کہ وہ جنگ کا خواہاں نہیں ہے، تاہم اس نے اپنے قومی مفادات اور خودمختاری کے تحفظ کے عزم کو بھی دہرایا۔ بیان میں کہا گیا کہ یو اے ای نے اس بحران کو کم کرنے کے لیے دوطرفہ مذاکرات اور خلیج تعاون کونسل کے پلیٹ فارم پر سنجیدہ کوششیں کی ہیں، لیکن خطے میں پائیدار امن کے لیے تمام فریقین کو بین الاقوامی قوانین کی پاسداری کرنا ہوگی۔ یو اے ای نے ایران پر زور دیا کہ وہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں پر مکمل عمل درآمد کرے اور خطے میں استحکام کے لیے مثبت کردار ادا کرے۔ دوسری جانب عالمی تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ یو اے ای کا یہ سخت مؤقف آنے والے دنوں میں سیزفائر کے مستقبل کا تعین کر سکتا ہے۔ اگر ایران پر عائد الزامات اور مطالبات پر اتفاق رائے پیدا نہ ہوا تو یہ کشیدگی دوبارہ کھلی جنگ میں تبدیل ہو سکتی ہے، جس کے اثرات نہ صرف مشرق وسطیٰ بلکہ عالمی معیشت اور توانائی کی فراہمی پر بھی مرتب ہوں گے۔
بھارت ایکسپریس اردو-
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔



