US Fighter Jet downed in Iran: ایران میں طیارہ گرنے کے بعد داؤ پر امریکہ کی ساکھ، سرچ آپریشن تیز
ہفتہ کے روز امریکی فوج نے F-15 لڑاکا طیارہ کے ایک رکن کو تلاش کرنے کے لیے سرچ اور ریسکیو آپریشن تیز کر دیا۔ یہ طیارہ ایران کے اوپر مار گرایا گیا تھا۔ جمعہ کو دشمن کی فائرنگ میں امریکہ کے دو جنگی طیارے گرائے گئے تھے۔ ان میں سے ایک پائلٹ کو بچا لیا گیا، جبکہ دوسرا اب بھی لاپتا ہے۔
US Jets Shot Down Over Iran: ایران کے اوپر امریکی جیٹ طیارے مار گرائے گئے، ریسکیو آپریشن جاری
ایرانی سرکاری میڈیا کا کہنا ہے کہ موجودہ کشیدگی میں یہ پہلا موقع ہے جب ایران نے کسی امریکی لڑاکا طیارے کو مار گرایا ہے۔ بعض رپورٹس میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ جس علاقے میں طیارہ گرا، وہاں ایرانی فورسز لاپتہ امریکی اہلکار کی تلاش کر رہی ہیں۔
US-Israel vs Iran War: ایران جنگ میں چند دنوں کے لیے عارضی جنگ بندی کی کوشش تیز، جانئے کیوں؟
رپورٹس کے مطابق روس مکمل جنگ بندی کے بجائے محدود مدت کے لیے سیزفائر چاہتا ہے، تاکہ انخلا کے عمل کو بغیر کسی رکاوٹ کے مکمل کیا جا سکے۔ بتایا جا رہا ہے کہ بوشہر نیوکلیئر پاور پلانٹ میں 400 سے 700 کے درمیان روسی کارکن کام کر رہے تھے، جن میں سے کئی افراد کو پہلے ہی محفوظ مقامات پر منتقل کیا جا چکا ہے، جبکہ باقی عملے کو مرحلہ وار نکالنے کی تیاری جاری ہے۔
Trump address to the nation on Iran War: ’’ایران کے خلاف کارروائی بچوں کے مستقبل میں سرمایہ کاری…‘‘، ڈونلڈ ٹرمپ نے حملے تیز کرنے کی دی دھمکی
ٹرمپ نے کہا کہ جنگ تقریباً جیت لی گئی ہے اور امریکہ دنیا کو ایران کے ’خطرے‘ سے آزاد کرنے کے قریب پہنچ چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم امریکہ اور دنیا کے لیے ایران کے خطرناک خطرے کو ختم کرنے کے دہانے پر ہیں۔
Iranian President Pens Open Letter to US: ایران کے صدر نے امریکی عوام کے نام لکھا کھلا خط، کہا – ہمیں امریکی عوام سے کوئی دشمنی نہیں
ایران کے توانائی مراکز پر ممکنہ بڑے حملے کی دھمکی پر ردعمل دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بنیادی ڈھانچے پر حملہ دراصل ایرانی عوام کو نشانہ بنانا ہوگا۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ اس طرح کے اقدامات’جنگی جرائم‘ کے زمرے میں آئیں گے اور ان کے اثرات ایران کی سرحدوں سے باہر بھی محسوس کیے جائیں گے۔
Iran-US-Israel Conflict: برطانیہ نے ایران جنگ میں شامل ہونے سے کیا انکار، 35 ممالک کا عالمی اجلاس طلب، ٹرمپ کو بڑا سفارتی جھٹکا
کیئر اسٹارمر نے اعلان کیا کہ برطانیہ اس ہفتے تقریباً 35 ممالک کے ساتھ ایک عالمی اجلاس کی میزبانی کرے گا، جس میں آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے اور عالمی تجارت کو معمول پر لانے کے طریقوں پر غور کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ یہ سمندری راستہ عالمی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی ہے اور اس کی بندش سے دنیا بھر میں توانائی اور تجارتی نظام متاثر ہو رہا ہے۔
Iran vs US-Israel War: ایران جنگ بندی کا خواہاں، ڈونلڈ ٹرمپ نے کیا دعویٰ، رکھی سخت شرائط، ایران کا انکار، خلیج میں کشیدگی مزید بڑھنے کا خدشہ
ایران نے امریکی صدر کے اس دعوے کو مسترد کر دیا ہے۔ الجزیرہ کے مطابق ایرانی حکام نے کہا ہے کہ تہران نے کسی بھی سطح پر جنگ بندی کی درخواست نہیں کی۔ ایرانی حکام کے مطابق امریکہ کے یہ بیانات سیاسی دباؤ بڑھانے کی کوشش ہیں۔
UN Envoy Resigns Over Claims Of Planned Nuclear Strike On Iran: ایران پر ایٹمی حملے کا خدشہ! اقوام متحدہ کے نمائندے کا دعویٰ- ایران پر ایٹم بم گرانے کی تیاری کر رہے ہیں امریکہ اور اسرائیل
محمد صفا نے اپنے پیغام کے ساتھ تہران کی ایک تصویر بھی شیئر کی، جس میں انہوں نے ایٹمی حملے کے ممکنہ نتائج پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے لکھا کہ تہران کوئی خالی صحرا نہیں بلکہ ایک گنجان آباد شہر ہے جہاں لاکھوں خاندان رہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جنگ کی بات کرنے والے اکثر اس حقیقت کو نظر انداز کر دیتے ہیں کہ ایسے حملوں سے عام شہری سب سے زیادہ متاثر ہوتے ہیں۔
US-Israel vs Iran Conflict: ایران میں اقتدار کی تبدیلی کا دعویٰ، امریکی وزیر دفاع نے کہا- ’’میں نئی حکومت سے کہہ رہا ہوں کہ وہ معاہدہ کرے ورنہ مزید بڑے حملے ہوں گے‘‘
امریکی وزیر دفاع نے یہ بیان پینٹاگون میں پریس بریفنگ کے دوران دیا۔ انہوں نے کہا کہ ڈونلڈ ٹرمپ معاہدے کے لیے تیار ہیں اور ایران کو پہلے ہی امریکی شرائط سے آگاہ کیا جا چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر ایران نے سنجیدگی کا مظاہرہ نہ کیا تو امریکی فوج اپنی کارروائیوں کو مزید بڑھائے گی اور اہم اہداف کو نشانہ بنایا جائے گا۔
App to Track Airstrikes: ایران کے لوگ فضائی حملوں اور ضروری اپ ڈیٹس کو ٹریک کرنے کے لیے اس ایپ کا کر رہے استعمال
انٹرنیٹ مانیٹرنگ ادارے نیٹ بلاکس کے مطابق، ایران میں انٹرنیٹ کا استعمال معمول کے صرف تقریباً 1 فیصد رہ گیا ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ زیادہ تر لوگ انٹرنیٹ استعمال نہیں کر پا رہے اور ملک تقریباً دنیا سے ڈیجیٹل طور پر منقطع ہو گیا ہے۔





