ایرانی صدر مسعود پزدشکان۔
تہران: ایرانی صدر مسعود پیزشکیان نے کہا کہ ایرانی عوام امریکی عوام کے ساتھ کوئی دشمنی نہیں رکھتے۔ انہوں نے امریکی انتظامیہ پر ایران کے خلاف ’’اسرائیل کے پراکسی‘‘ کے طور پر لڑنے کا الزام بھی لگایا۔ ژنہوا نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق ایرانی صدر نے یہ بات امریکی عوام کے نام ایک کھلے خط میں کہی، جس میں انہوں نے امریکہ اور اسرائیل کے ساتھ جاری کشیدگی پر ایران کا موقف تفصیل سے بیان کیا۔
ایرانی عوام کسی قوم سے دشمن نہیں
مسعود پزشکیان نے کہا، ’’ایرانی عوام امریکہ، یورپ یا ہمسایہ ممالک سمیت کسی بھی قوم کے عوام کے خلاف دشمنی نہیں رکھتے۔‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ اپنی شاندار تاریخ میں بارہا بیرونی دباؤ اور مداخلت کے باوجود ایرانی عوام نے ہمیشہ حکومتوں اور عوام کے درمیان فرق رکھا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایران نے اپنی جدید تاریخ میں کبھی جارحیت، توسیع پسندی یا نوآبادیاتی پالیسی نہیں اپنائی، حالانکہ اسے عالمی طاقتوں کی جانب سے دباؤ اور حملوں کا سامنا کرنا پڑا۔
اسرائیل پرایرانی صدرکا الزام
ایرانی صدر نے کہا کہ ایران کو عالمی خطرہ قرار دینا اسرائیل کی گھڑی ہوئی کہانی ہے، جس کا مقصد فلسطینیوں کے خلاف کیے جانے والے اقدامات سے عالمی توجہ ہٹانا ہے۔ انہوں نے ایران کے اردگرد امریکی فوجی اڈوں اور تعیناتیوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ان اڈوں سے ہونے والی امریکی کارروائیاں اس بات کا ثبوت ہیں کہ یہ فوجی موجودگی کس قدر خطرناک ثابت ہو سکتی ہے۔
حملوں کی دھمکی پر ردعمل
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کے توانائی مراکز پر ممکنہ بڑے حملے کی دھمکی پر ردعمل دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بنیادی ڈھانچے پر حملہ دراصل ایرانی عوام کو نشانہ بنانا ہوگا۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ اس طرح کے اقدامات’جنگی جرائم‘ کے زمرے میں آئیں گے اور ان کے اثرات ایران کی سرحدوں سے باہر بھی محسوس کیے جائیں گے۔
امریکہ اسرائیل کا پراکسی؟
پزشکیان نے الزام لگایا کہ امریکہ اسرائیل کے اثر میں آ کر ایران کے خلاف جنگ میں شامل ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسرائیل اپنے ’غیر قانونی مفادات‘ کے لیے ’آخری امریکی فوجی اور آخری امریکی ٹیکس دہندہ‘ تک ایران کے خلاف استعمال کرنا چاہتا ہے۔ انہوں نے سوال کیا کہ کیا ’امریکہ فرسٹ‘ واقعی امریکی حکومت کی ترجیح ہے؟ ان کے مطابق دنیا اس وقت ایک اہم موڑ پر کھڑی ہے جہاں اسے محاذ آرائی اور مذاکرات کے درمیان انتخاب کرنا ہوگا۔
کشیدگی کی حالیہ صورتحال
28 فروری کو تہران سمیت ایران کے مختلف شہروں پر امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے مشترکہ حملے کیے گئے تھے، جن میں علی خامنہ ای سمیت سینئر فوجی کمانڈرز اور شہریوں کی ہلاکت کی اطلاعات سامنے آئیں۔ اس کے جواب میں ایران نے اسرائیل اور مشرق وسطیٰ میں امریکی اڈوں اور مفادات کو نشانہ بناتے ہوئے میزائل اور ڈرون حملوں کا سلسلہ شروع کر دیا، جس کے بعد خطے میں کشیدگی مزید بڑھ گئی۔
بھارت ایکسپریس۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔




