Bharat Express DD Free Dish

United States

دوسری جانب ایران کے قائم مقام وزیر دفاع سید ماجد ابن الرضا نے کہا کہ تہران ہر دشمن کی دھمکی کو حقیقی اور سنجیدہ سمجھتا ہے اور اسے محض نفسیاتی جنگ قرار نہیں دیتا۔ انہوں نے کہا کہ ایران نہ تو کسی ممکنہ حملے سے حیران ہوگا اور نہ ہی غفلت برتے گا، بلکہ ہر دھمکی کو اپنی دفاعی تیاری، مزاحمتی صلاحیت اور عسکری طاقت میں اضافے کا موقع سمجھتا ہے۔

دوستی کی عالمی اہمیت کو تسلیم کرتے ہوئے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے 2011 میں باضابطہ طور پر 30 جولائی کو انٹرنیشنل فرینڈشپ ڈے قرار دیا۔ اس کا مقصد صرف دوستی کا جشن منانا نہیں بلکہ مختلف ممالک، ثقافتوں اور برادریوں کے درمیان امن، تعاون اور باہمی احترام کو فروغ دینا بھی تھا۔

یوٹا کے شاپنگ مال میں حملہ آور نے مبینہ طور پر مسلمان ہونے کی تصدیق کے بعد سید سہیل الدین پر 15 سے زائد وار کیے۔ متاثرہ نوجوان کی حالت تشویشناک بتائی جارہی ہے۔ اہل خانہ نے حکومت ہند سے ایمرجنسی ویزا اور سفارتی مدد کا مطالبہ کیا۔

ایران کی جانب سے جنگ بندی کی خلاف ورزی کا الزام اور اسرائیل کی تازہ فوجی کارروائیوں نے خطے میں کشیدگی کو مزید بڑھا دیا ہے۔ مبصرین کے مطابق اگر صورتِ حال پر جلد قابو نہ پایا گیا تو تنازع مزید وسیع ہو سکتا ہے اور مشرقِ وسطیٰ میں امن کی کوششوں کو شدید دھچکا پہنچ سکتا ہے۔

ایران کی نیم سرکاری خبر رساں ایجنسی فارس نیوز ایجنسی نے ہفتہ کو رپورٹ دی کہ اگر واشنگٹن نے لچک نہ دکھائی تو تہران کے ساتھ امن مذاکرات ناکام ہو سکتے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق ایرانی مذاکراتی ٹیم کے قریبی ذرائع نے بتایا کہ ایران نے تین بنیادی شرائط پیش کی ہیں۔

ڈونلڈ ٹرمپ پہلے بھی جرمنی میں فوجی تعیناتی پر سخت موقف اختیار کر چکے ہیں۔ 2020 میں اپنے پہلے دورِ صدارت کے دوران انہوں نے جرمنی کو ’قصوروار‘ قرار دیتے ہوئے فوجیوں کی تعداد ایک تہائی کم کرنے کی بات کہی تھی۔ اس کی وجہ جرمنی کا کم دفاعی بجٹ اور نورڈ اسٹریم 2 کی حمایت تھی۔

ایران نے امریکہ کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ اس کی فوج پہلے سے زیادہ مضبوط اور تیار ہے اور وہ اپنی خودمختاری، قومی مفادات اور علاقائی سالمیت کے تحفظ کی پوری صلاحیت رکھتی ہے۔

مصر کی وزارت خارجہ کے مطابق، دونوں لیڈران نے اس بات پر اتفاق کیا کہ مذاکرات کے دوسرے دور کے امکانات تلاش کیے جائیں تاکہ دونوں فریقوں کے درمیان پائیدار جنگ بندی، کشیدگی میں کمی اور جاری تنازع کے خاتمے کے لیے سازگار ماحول بنایا جا سکے۔

عراقچی نے کہا کہ گزشتہ 37 دنوں کے دوران امریکہ اور اسرائیل نے ایران کے عوام کے خلاف متعدد حملے کیے ہیں، جن میں صنعتی ڈھانچے، فیکٹریاں، اسپتال، اسکول، رہائشی علاقے اور جوہری تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا۔

بازار میں عدم استحکام کے اثرات ایندھن کی قیمتوں میں واضح طور پر نظر آنے لگے ہیں۔ امریکہ میں خام تیل کی بڑھتی لاگت کے باعث پٹرول کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔