US-China Conflict: کیا امریکہ ایٹمی حملہ کرنے کی تیاری کر رہا ہے ؟بی ۔52 بمبارہ ہیں تعینات،چین ہے حیران

اس وقت امریکہ اور چین کے تعلقات بہت اچھے نہیں چل رہے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ امریکی فوج ہند بحرالکاہل کے علاقے میں اپنی فوجی طاقت کو ہر طرف سے گھیرنے کے لیے بڑھا رہی ہے۔

امریکا نے چین کو سبق سکھانے کا فیصلہ کرلیا۔ یہی وجہ ہے کہ امریکی بحرالکاہل کی فضائیہ نے اپنا جوہری بمبار B-52 بحر الکاہل میں واقع گوام میں تعینات کر دیا ہے۔ اس سے قبل یہ بمبار طیارہ شمالی ڈکوٹا میں تعینات کیا گیا تھا۔ میڈیا رپورٹس پر یقین کیا جائے تو امریکہ کے اس قدم کے پیچھے اصل مقصد چین کو اس کی حیثیت دکھانا ہے۔

چین مسلسل تائیوان کی فضائی حدود کی خلاف ورزی کر رہا ہے۔

اس وقت چین تائیوان کی فضائی حدود کی مسلسل خلاف ورزی کر رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ امریکی فوج اس کی مدد کے لیے آگے آئی ہے۔ حال ہی میں تائیوان کی وزارت دفاع نے چین پر الزام لگایا تھا کہ اس کے J-10 اور J-11 لڑاکا طیاروں نے آبنائے میڈین لائن کو عبور کیا ہے۔ یہ قابل ذکر ہے کہ آبنائے میڈین لائن چین اور تائیوان کے درمیان ایک غیر سرکاری آبی سرحدی علاقہ ہے۔

بمبار B-52 کی خصوصیات

B-52 بمبار طویل فاصلے تک مار کرنے والا سبسونک جیٹ سے چلنے والا بمبار طیارہ ہے۔ یہ طیارہ امریکہ کے قدیم ترین طیاروں میں سے ایک ہے۔ اس طیارے کے ذریعے امریکی فوج تقریباً 50,000 فٹ (15,166.6 میٹر) کی بلندی سے دشمن کے علاقے پر آسانی سے حملہ کرنے میں ماہر ہے۔

امریکی فضائیہ کا بیان

امریکی فضائیہ کا کہنا ہے کہ B-52 بمبار کو نارتھ ڈکوٹا سے ہٹا کر پانچویں بم ونگ کو دے دیا گیا ہے۔ اس طیارے کو جنوری کے آخری ہفتے میں اینڈرسن ایئر فورس بیس پر تعینات کیا گیا تھا۔ اس کام کا بنیادی مقصد ہندوستان اور بحرالکاہل کے خطے میں قوانین کے مطابق بین الاقوامی نظام کو نافذ کرنا ہے۔

امریکہ نے یہ قدم کیوں اٹھایا؟

اس وقت امریکہ اور چین کے تعلقات بہت اچھے نہیں چل رہے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ امریکی فوج ہند بحرالکاہل کے علاقے میں اپنی فوجی طاقت کو ہر طرف سے گھیرنے کے لیے بڑھا رہی ہے۔ اس کے علاوہ وہ ان علاقوں میں اپنے اتحادی ممالک کے ساتھ مشقیں بھی کر رہا ہے۔ اس میں جاپان، جنوبی کوریا اور آسٹریلیا جیسے ممالک شامل ہیں۔

بھارت ایکسپریس۔

Also Read