Bharat Express DD Free Dish

United States

عراقچی نے کہا کہ گزشتہ 37 دنوں کے دوران امریکہ اور اسرائیل نے ایران کے عوام کے خلاف متعدد حملے کیے ہیں، جن میں صنعتی ڈھانچے، فیکٹریاں، اسپتال، اسکول، رہائشی علاقے اور جوہری تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا۔

بازار میں عدم استحکام کے اثرات ایندھن کی قیمتوں میں واضح طور پر نظر آنے لگے ہیں۔ امریکہ میں خام تیل کی بڑھتی لاگت کے باعث پٹرول کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔

ہفتہ کے روز امریکی فوج نے F-15 لڑاکا طیارہ کے ایک رکن کو تلاش کرنے کے لیے سرچ اور ریسکیو آپریشن تیز کر دیا۔ یہ طیارہ ایران کے اوپر مار گرایا گیا تھا۔ جمعہ کو دشمن کی فائرنگ میں امریکہ کے دو جنگی طیارے گرائے گئے تھے۔ ان میں سے ایک پائلٹ کو بچا لیا گیا، جبکہ دوسرا اب بھی لاپتا ہے۔

ایران کے توانائی مراکز پر ممکنہ بڑے حملے کی دھمکی پر ردعمل دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بنیادی ڈھانچے پر حملہ دراصل ایرانی عوام کو نشانہ بنانا ہوگا۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ اس طرح کے اقدامات’جنگی جرائم‘ کے زمرے میں آئیں گے اور ان کے اثرات ایران کی سرحدوں سے باہر بھی محسوس کیے جائیں گے۔

ایران کے وزیر خارجہ عباس اراغچی نے یورپی حکومتوں کو نشانہ بنایا اور ان پر ایران کے خلاف ایک ’غیر قانونی جنگ‘ کی حمایت کرنے کا الزام لگایا۔ انہوں نے کہا کہ یورپی ممالک اس امید میں ایسا کر رہے ہیں کہ اس حمایت کے بدلے انہیں روس کے ساتھ اپنے ٹکراؤ میں امریکہ کی مضبوط پشت پناہی حاصل ہوگی

امریکی صدر ٹرمپ نے کہا کہ براؤنس وِل بندرگاہ پر قائم ہونے والی یہ نئی ریفائنری امریکی منڈیوں کو مضبوط کرے گی اور ملک کی قومی سلامتی کو بھی تقویت دے گی۔ ان کے مطابق اس منصوبے سے امریکہ کی توانائی پیداوار میں نمایاں اضافہ ہوگا اور معیشت پر اربوں ڈالر کا مثبت اثر پڑے گا۔

رپورٹس کے مطابق جنگی جہاز ڈینا آندھرا پردیش کے وشاکھاپٹنم سے واپسی کے دوران 4 مارچ کو سری لنکا کے جنوبی ساحل کے قریب بین الاقوامی پانیوں میں تھا، جب اس پر حملہ کیا گیا۔ اس کے بعد امریکہ کے وزیر دفاع پیٹ ہیگسیتھ نے دعویٰ کیا کہ بحرِ ہند میں ایران کے ایک جنگی جہاز کو امریکی افواج نے ٹارپیڈو حملے کے ذریعے ڈبو دیا ہے۔

آصف مرچنٹ پر دہشت گردی سے متعلق الزامات عائد کیے گئے ہیں۔ اس پر 2024 کے صدارتی انتخابی مہم کے دوران ٹرمپ پر حملے کے لیے مبینہ طور پر شوٹرز کو کرائے پر لینے کی سازش میں ایران کے ساتھ کام کرنے کا الزام ہے۔

روس نے ایران کے خلاف مبینہ امریکی۔اسرائیلی مشترکہ کارروائی کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس فوجی مہم کی اصل قیمت عام شہریوں کو چکانی پڑ رہی ہے اور آئندہ بھی اس کے سنگین نتائج عوام کو ہی بھگتنا ہوں گے۔ روسی حکام نے الزام عائد کیا کہ ایران کی جانب سے بتائے گئے خطرات کو جواز بنا کر ایک خودمختار ملک کے اندرونی معاملات میں مداخلت کی جا رہی ہے۔

ابوظہبی نے کہا کہ یہ حملہ قومی خودمختاری اور بین الاقوامی قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ بیان میں واضح کیا گیا کہ ملک کو اپنی سرزمین، شہریوں اور مقیم افراد کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات اٹھانے کا مکمل حق حاصل ہے۔