نئی دہلی: ایران کے وزیر خارجہ سید عباس عراقچی اپنے وفد کے ساتھ پاکستان کے دورے پر ہیں، جبکہ امریکی وفد بھی اسلام آباد پہنچنے والا ہے۔ حالانکہ، ایران نے امریکہ کے ساتھ کسی بھی براہِ راست بات چیت سے صاف انکار کر دیا ہے۔
مصر اور پاکستان کے درمیان اہم رابطہ
اس دوران مصر کے وزیر خارجہ بدر عبد العاطی نے پاکستان کے نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ اسحاق سے فون پر بات چیت کی۔ اس بات چیت میں امریکہ اور ایران کے درمیان سفارتی عمل کو آگے بڑھانے کے طریقوں پر غور کیا گیا۔
کشیدگی کم کرنے اور جنگ بندی پر زور
مصر کی وزارت خارجہ کے مطابق، دونوں لیڈران نے اس بات پر اتفاق کیا کہ مذاکرات کے دوسرے دور کے امکانات تلاش کیے جائیں تاکہ دونوں فریقوں کے درمیان پائیدار جنگ بندی، کشیدگی میں کمی اور جاری تنازع کے خاتمے کے لیے سازگار ماحول بنایا جا سکے۔
علاقائی سلامتی اور بحری راستوں کی آزادی
بدرعبد العاطی نے بین الاقوامی جہاز رانی کی آزادی برقرار رکھنے اور خطے کے ممالک، خاص طور پر خلیجی ممالک کی سلامتی سے متعلق خدشات کو دور کرنے کی اہمیت پر بھی زور دیا۔
امریکی وفد کی متوقع آمد
یہ ٹیلیفونک رابطہ ایسے وقت میں ہوا ہے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے خصوصی نمائندے اسٹیو وٹکوف اور جریڈ کشنر پاکستان کے دورے پر روانہ ہونے والے ہیں۔ امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ نے کہا کہ ایران کے پاس اب بھی ایک موقع موجود ہے کہ وہ قابلِ تصدیق طریقے سے معاہدہ کرے اور جوہری ہتھیار بنانے کی کوششوں کو ترک کرے۔
ایران میں پروازوں کی بحالی
ادھر ایران کی نیم سرکاری خبر رساں ایجنسی مہر نیوز ایجنسی کے مطابق، تہران کے امام خمینی بین الاقوامی ہوائی اڈے سے ہفتہ کی صبح کچھ بین الاقوامی پروازیں دوبارہ شروع کر دی گئی ہیں۔
بین الاقوامی پروازوں کی روانگی
رپورٹ کے مطابق، تہران سے ابتدائی مسافر پروازیں مسقط، استنبول اور سعودی عرب کے مدینہ کے لیے روانہ ہوئیں۔ اسی طرح مشہد ایئرپورٹ، جو ملک کے شمال مشرق میں واقع ایک بڑے شہر کو خدمات فراہم کرتا ہے، رواں ہفتے کے آغاز میں دوبارہ کھول دیا گیا تھا۔
بھارت ایکسپریس۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔


