Bharat Express DD Free Dish

international diplomacy

یوکرینی صدر نے زور دیتے ہوئے کہا کہ سب سے اہم بات یہ ہے کہ اجلاس میں ہونے والی گفتگو کو عملی اقدامات میں تبدیل کیا جائے۔ ان کے مطابق روس کو یہ واضح پیغام جانا چاہیے کہ اس کی جانب سے شروع کی گئی جنگ کو کبھی معمول کا حصہ تسلیم نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے ان تمام ممالک اور رہنماؤں کا شکریہ ادا کیا جو یوکرین کے امن اور خودمختاری کے لیے کوششیں کر رہے ہیں۔

وزیراعظم نے کہا کہ اس تنازع کی وجہ سے عالمی معیشت کو شدید دھچکا پہنچا اور کئی ممالک میں انسانی جانوں کا نقصان بھی ہوا۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ اور ایران کے درمیان طے پانے والی نئی سمجھ بوجھ ایک مثبت پیش رفت ہے، جس سے خطے میں معمول کے حالات بحال ہونے کی توقع ہے۔

تاج محل مغلیہ فنِ تعمیر کی بہترین مثال سمجھی جاتی ہے، جس میں فارسی، ہندوستانی اور اسلامی طرزِ تعمیر کے حسین امتزاج کو پیش کیا گیا ہے۔ سال 1983 میں اسے یونیسکو کے عالمی ثقافتی ورثے کی فہرست میں شامل کیا گیا تھا، جہاں اسے ’’بھارت میں مسلم فن کا نگینہ‘‘ اور عالمی ورثے کے عظیم شاہکاروں میں شمار کیا گیا۔

حکم نامے میں کہا گیا کہ اسماعیل بقائی عالمی سطح پر اسلامی جمہوریہ ایران کے موقف کی وضاحت اور مذاکرات سے متعلق عوامی سوالات کے جواب دینے میں اہم کردار ادا کریں گے۔ قالیباف کے حکم نامے میں کہا گیا: ’’مجھے امید ہے کہ آپ اپنی ذمہ داری اور توجہ کے ساتھ دنیا میں ایران کے موقف کو واضح کرنے اور ایرانی عوام کے سوالات کے جواب دینے میں کامیاب ہوں گے۔‘‘

ولادیمیر پوتن اور شی جن پنگ نے اس بات پر زور دیا کہ روس اور چین کے درمیان جامع اسٹریٹجک شراکت داری غیر معمولی بلندی تک پہنچ چکی ہے۔ یہ اہم سربراہی ملاقات ایسے وقت میں ہوئی ہے جب دنیا تیزی سے بدلتی ہوئی جغرافیائی سیاست کا سامنا کر رہی ہے، جبکہ چند روز قبل ہی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی بیجنگ کا دورہ کیا تھا۔

نریندر مودی منگل کے روز اپنے پانچ ملکی دورے کے آخری مرحلے میں روم پہنچے تھے، جہاں ان کی ملاقات جارجیا میلونی سے عشائیے پر ہوئی۔ اس کے بعد دونوں رہنماؤں نے تاریخی کولوزیم (روم میں واقع دنیا کا سب سے قدیم ایمفی تھیٹر) کا بھی دورہ کیا اور مختلف عالمی و دوطرفہ امور پر تبادلۂ خیال کیا۔

وزیراعظم مودی کا یہ دورہ ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب ہندوستان اور اٹلی کے تعلقات میں تیزی سے پیش رفت دیکھی جا رہی ہے۔ دونوں ممالک 2025-2029 کے مشترکہ اسٹریٹجک ایکشن پلان پر فعال طور پر کام کر رہے ہیں۔ اس منصوبے کے تحت تجارت، سرمایہ کاری، دفاع و سلامتی، صاف توانائی، اختراع، سائنس و ٹیکنالوجی اور عوامی روابط سمیت مختلف شعبوں میں تعاون کو فروغ دیا جا رہا ہے۔

برکس اس وقت دنیا کی گیارہ بڑی ابھرتی ہوئی معیشتوں پر مشتمل ایک اہم عالمی پلیٹ فارم ہے، جس میں برازیل، چین، مصر، ایتھوپیا، بھارت، انڈونیشیا، ایران، روس، سعودی عرب، جنوبی افریقہ اور متحدہ عرب امارات شامل ہیں۔

وزارت خارجہ کی فوری جنگ بندی، مکالمے اور سفارت کاری کی اپیل۔ بیان میں کہا گیا کہ 28 فروری 2026 کو ایران اور خلیجی خطے میں شروع ہونے والے تنازع کے بعد بھارت نے تمام فریقین سے تحمل، کشیدگی میں کمی اور عام شہریوں کے تحفظ کی اپیل کی تھی، تاہم رمضان المبارک کے مقدس مہینے میں صورتحال مزید سنگین ہو گئی ہے۔

نیتن یاہو نے واضح کیا کہ یہ دورہ ہائی ٹیک، مصنوعی ذہانت (اے آئی) اور کوانٹم کمپیوٹنگ جیسے جدید شعبوں میں تعاون کو فروغ دے گا تاکہ دونوں ممالک عالمی سطح پر قیادت برقرار رکھ سکیں۔ یہ دورہ بھارت اور اسرائیل کے درمیان بڑھتے ہوئے اسٹریٹجک اور سفارتی تعلقات میں ایک اہم سنگِ میل تصور کیا جا رہا ہے۔