Bharat Express DD Free Dish

international diplomacy

مصر، متحدہ عرب امارات، سعودی عرب اور قطر سمیت کئی عرب ممالک نے ایران اور امریکہ کے درمیان مذاکرات کا خیرمقدم کیا ہے۔ مصری وزیر خارجہ بدر عبدالعاطی نے عمان کے کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ مسئلۂ جوہری کا حل صرف مذاکرات کے ذریعے ممکن ہے۔

ملیشیا میں وزیر اعظم نریندر مودی کا پرتپاک استقبال اور اعلیٰ سطحی مذاکرات اس بات کی علامت ہیں کہ بھارت اور ملیشیا اپنے تاریخی تعلقات کو جدید تقاضوں کے مطابق نئی بلندیوں تک لے جانے کے لیے پُرعزم ہیں۔ یہ دورہ دونوں ممالک کے درمیان دوستی، اعتماد اور شراکت داری کے ایک نئے باب کا آغاز ثابت ہو سکتا ہے۔

دفاعی شعبے میں بھی بھارت اور بحرین مشترکہ تعاون کر رہے ہیں۔ خاص طور پر سمندری سلامتی، دہشت گردی کے خلاف مشترکہ کارروائیاں، خلیجی خطے میں استحکام، بحری افواج کے درمیان تربیتی پروگرام، ہائی لیول سکیورٹی ڈائیلاگ دونوں ممالک کی ترجیحات میں شامل ہیں۔ بحرین اور بھارت کے درمیان پیسج ایکسرسائزز، مشترکہ تربیت اور انٹیلی جنس تعاون بھی جاری ہے۔

گزشتہ 80 برسوں میں کسی شامی صدر کا امریکہ کا یہ پہلا سرکاری دورہ ہوگا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ ایک دہائی قبل احمدالشرع کے سر پر امریکہ نے 10 ملین ڈالر انعام مقرر کیا تھا اور وہ عراق جنگ کے دوران امریکی فوج کی قید میں بھی رہ چکے ہیں۔

امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ’’اگر بھارت نے روسی تیل کی خریداری جاری رکھی تو اسے بھاری قیمت چکانی ہوگی‘‘۔ بھارت نے رد عمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہم اپنے شہریوں کے مفاد میں سستا تیل خرید رہے ہیں، کسی ملک کو اعتراض کا حق نہیں ہے۔

وزیردفاع محمد یعقوب مجاہد نے واضح کیا کہ معاہدے کے تحت دونوں ممالک کے درمیان تجارت معمول کے مطابق ہوگی اور افغانستان، ایک آزاد ملک ہونے کے ناطے پاکستان سمیت تمام ممالک کے ساتھ اپنے قومی مفادات کی بنیاد پر مثبت تعلقات رکھے گا۔

کینیڈا کی وزیر خارجہ انیتا آنند 12 سے 17 اکتوبر تک بھارت، سنگاپور اور چین کے دورے پر ہیں، تاکہ کینیڈا کی انڈو-پیسیفک حکمت عملی کے تحت دوطرفہ تعلقات اور تعاون کو فروغ دیا جا سکے۔

سرجیو گور نے کہا ’’امریکہ بھارت کے تعلقات کو بہت اہمیت دیتا ہے۔ میں نے وزیراعظم مودی کے ساتھ شاندار ملاقات کی۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ وزیر اعظم مودی کو ایک عظیم اور ذاتی دوست سمجھتے ہیں۔‘‘

افغانستان کے وزیر خارجہ امیر خان متقی نےکہا ہے کہ ’’ہندوستان ہمیشہ افغانستان کے لوگوں کے ساتھ کھڑا رہا ہے۔ ہم ہندوستان کے خلاف کسی بھی سازش کو کامیاب نہیں ہونے دیں گے۔‘‘

بگرام کے حوالے سے ٹرمپ کی دھمکی اور طالبان کی سخت مخالفت نے ایک بار پھر خطے میں اس اڈے کی حیثیت کو اجاگر کر دیا ہے۔ طالبان نے بیان کی سخت مذمت کی اور غیر ملکی فوجی موجودگی کو مسترد کر دیا۔