امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ۔
صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے ہفتہ کو ایک سخت پیغام جاری کیا اور طالبان پر زور دیا کہ وہ بگرام فوجی ایئر بیس کا کنٹرول امریکہ کو واپس سونپ دے ورنہ ’’سنگین نتائج‘‘ بھگتنے ہوں گے۔ اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر پوسٹ کرتے ہوئے ٹرمپ نے لکھا ’’اگر افغانستان بگرام ایئر بیس ان لوگوں کو نہیں دیتا جنہوں نے اسے بنایا یعنی امریکہ کو تو بُری چیزیں ہوں گی۔‘‘ انہوں نے دو دن قبل بھی کہا تھا کہ بگرام ایئر بیس کو چھوڑ دینا بائیڈن انتظامیہ کی بڑی غلطی تھی اور اس کو درست کیا جائے گا۔ ٹرمپ نے اس جگہ کی اسٹریٹجک اہمیت کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ بگرام چین کے قریب ہے اور امریکہ کے لیے ضروری ہے، اس لیے امریکہ کی فوجی واپسی ممکن ہے۔
طالبان کا رد عمل اور سرکاری موقف
ٹرمپ کے بیانات پر افغانستان کے ایک سینئر افسر اور طالبان قیادت نے سخت رد عمل ظاہر کیا۔ طالبان کے ایک سینئر سفارت کار جلالی نے کہا کہ افغان کبھی بھی اپنی سرزمین پر غیر ملکی فوجی موجودگی قبول نہیں کریں گے۔ انہوں نے حکومتوں کے درمیان تعاون اور باہمی احترام کی بنیاد پر صرف اقتصادی اور سیاسی تعلقات رکھنے کی ضرورت پر زور دیا۔ سرکاری ریڈیو و ٹیلی ویژن (آر ٹی اے) نے بھی طالبان کی مذمت کی خبر نشر کی اور افغان موقف کو نمایاں کیا۔
بگرام ایئر بیس کی تاریخی اور اسٹریٹجک حیثیت
بگرام ایئر بیس کابل سے تقریباً 50 کلومیٹر شمال میں واقع ہے اور امریکی قیادت والے اتحادی دستے تقریباً دو دہائی تک اسی اڈے پر موجود رہے۔ یہ اڈہ امریکی فوجیوں کے لیے اگست 2021 تک اہم فوجی اڈے کے طور پر کام کرتا رہا۔ اگست 2021 میں امریکی فوج کی واپسی کے بعد بگرام کا کنٹرول افغانستان کی موجودہ حکومت کے پاس منتقل ہو گیا۔ اس اڈے کی اسٹریٹجک پوزیشن اور ہوابازی و لاجسٹک اہمیت کی وجہ سے اس کی ملکیت اور کنٹرول کے معاملے میں بین الاقوامی حساسیت پائی جاتی ہے۔
فوجی ماہرین کا اندازہ اور ممکنہ لاگت
امریکی فوجی افسروں کے مطابق، اگر بگرام ایئر بیس پر دوبارہ قبضہ کرنے کی ضرورت پڑی تو اس کے لیے تقریباً 10 ہزار فوجی درکار ہوں گے۔ ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ بگرام کے معاملے پر افغانستان سے بات چیت جاری ہے، مگر اگر افغانستان اصرار نہ کرے تو امریکہ ’’اپنے طریقے سے راستے نکالے گا۔‘‘ اس بیان نے علاقائی سطح پر کشیدگی اور خدشات بڑھا دیے ہیں۔
مقامی و بین الاقوامی حوالہ کاری اور صورت حال کا جائزہ
بگرام کے حوالے سے ٹرمپ کی دھمکی اور طالبان کی سخت مخالفت نے ایک بار پھر خطے میں اس اڈے کی حیثیت کو اجاگر کر دیا ہے۔ دونوں فریقین کے بیانات کے بعد علاقائی استحکام، دوطرفہ تعلقات اور ممکنہ فوجی حرکات کے حوالے سے بین الاقوامی برادری میں تشویش پائی جاتی ہے۔ افغان حکام اور طالبان کی طرف سے غیر ملکی فوجی موجودگی کی تردید نے واضح کیا ہے کہ بگرام کے کنٹرول کا معاملہ افغان خودمختاری اور علاقائی سیاست کے حساس تناظر میں دیکھا جائے گا۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔


