Bharat Express DD Free Dish

Taliban government

افغانستان میں طالبان کے دور حکومت میں خواتین اور لڑکیوں کی تعلیم، روزگار اور عوامی زندگی میں شرکت پر وسیع پابندیاں برقرار ہیں۔ ایسے میں سوال یہ ہے کہ حقیقی اقتدار پر کنٹرول اور بین الاقوامی قانونی حیثیت کے درمیان تعلق کو کس طرح سمجھا جائے؟

افغانستان کے داخلی وزیرنے کہا کہ اگر کوئی حملہ کرتا ہے تو ہم دنیا کے بادشاہوں سے لڑچکے ہیں اور اپنی زمین کی حفاظت کرنا ہمارے لئے کوئی مشکل کام نہیں ہے۔

طالبان کے وزیر خارجہ امیر خان متقی نے بھارت کے وزیر خارجہ ایس جے شنکر سے ملاقات کی ہے۔ اس دوران دونوں ممالک نے ترقی، تجارت اور سیکیورٹی تعاون بڑھانے پر اتفاق کیا۔ جے شنکر سے ملاقات کے بعد طالبان وزیر خارجہ نے پاکستان کو علاقائی سلامتی کے حوالے سے دھمکی بھی دی ہے۔

بگرام کے حوالے سے ٹرمپ کی دھمکی اور طالبان کی سخت مخالفت نے ایک بار پھر خطے میں اس اڈے کی حیثیت کو اجاگر کر دیا ہے۔ طالبان نے بیان کی سخت مذمت کی اور غیر ملکی فوجی موجودگی کو مسترد کر دیا۔

اگرچہ طالبان نے چین اور متحدہ عرب امارات کے ساتھ سفیروں کا تبادلہ کیا ہے اور قطر میں ایک طویل عرصے سے سیاسی دفتر قائم ہے، لیکن ان ممالک نے طالبان کو افغانستان کی حکومت کے طور پر تسلیم نہیں کیا۔

طالبان حکام نے بھارت کے ساتھ سیاسی اور اقتصادی تعلقات کو گہرا کرنے میں گہری دلچسپی کا اظہار کرتے ہوئے اسے "اہم علاقائی اور اقتصادی طاقت" کے طور پر بیان کیا۔بات چیت میں ایران کی چابہار بندرگاہ کے ذریعے تجارت کو وسعت دینے پر بھی بات کی گئی۔

اپنے ملک میں جنگ اور تنازعات سے بھاگ کر افغان تارکین وطن کئی دہائیوں سے بنیادی طور پر پاکستان اور ایران میں پناہ لے رہے ہیں۔ افغان میڈیا کے مطابق پناہ گزینوں کو خاص طور پر پاکستان میں شدید زیادتیوں اور ظلم و ستم کا سامنا کرنا پڑا ہے۔

حالانکہ افغان ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے اس کی تردید کی ہے اور کہا ہے کہ ہمارے پاس موجود معلومات کے مطابق ہمارے نائب وزیرخارجہ دبئی اپنے ذاتی اور خاندانی دورے پر گئے  ہیں اور امارت اور انتظامیہ کے درمیان کسی بھی قسم کا کوئی ٹکراو نہیں ہے۔

سیو دی چلڈرن کے ایک اور جائزے کے مطابق افغانستان کی نصف سے زیادہ آبادی تقریباً دو کروڑ 40 لاکھ افراد کو آنے والے مہینوں میں غربت اور غذائی عدم تحفظ سے بچنے کے لیے نقد رقم اور خوراک کی فراہمی جیسی انسانی امداد کی اشد ضرورت ہوگی۔

واضح رہے کہ یہ پہلا موقع نہیں ہے کہ ستانکزئی نے لڑکیوں اور خواتین کے تعلیم حاصل کرنے کے حق میں بیان دیا ہے۔اس سے قبل ستمبر 2022 میں بھی انہوں نے بچیوں کے اسکول کئی ماہ بند رکھنے اور یونیورسٹی تعلیم پر پابندی کے اقدامات کے بعد ایسے ہی بیانات دیے تھے۔