کوالالمپور (ملیشیا): وزیراعظم نریندر مودی کو اتوار کے روز ملیشیا کے پردانا پترا میں ایک باوقار تقریبی استقبالیہ اور گارڈ آف آنر پیش کیا گیا۔ یہ استقبال ان کے جاری دو روزہ سرکاری دورۂ ملیشیا کا اہم حصہ ہے، جس کا مقصد دونوں ممالک کے درمیان جامع اسٹریٹجک شراکت داری کو مزید مستحکم بنانا ہے۔ وزیراعظم مودی ہفتہ کے روز کوالالمپور پہنچے تھے، جہاں ملیشیا کے وزیراعظم انور ابراہیم نے خود ہوائی اڈے پر ان کا پرتپاک استقبال کیا۔ اس موقع پر ملیشیا کے وزیر برائے انسانی وسائل رمنن رام کرشنن اور نائب وزیر خارجہ لکانسمان بن اوانگ ثونی بھی موجود تھے۔
ریڈ کارپٹ اور روایتی ثقافتی مظاہرہ
پردانا پترا میں منعقدہ استقبالیہ تقریب کے دوران وزیر اعظم مودی کو ریڈ کارپٹ ویلکم دیا گیا، جس کے ساتھ روایتی موسیقی اور رقص پیش کیا گیا۔ یہ ثقافتی مظاہرہ بھارت اور ملیشیا کے درمیان مشترکہ تہذیبی ورثے کی خوبصورت عکاسی کرتا نظر آیا۔ اس پُرتپاک استقبال پر اظہارِ تشکر کرتے ہوئے وزیر اعظم مودی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا: ’’میرے دوست وزیر اعظم انور ابراہیم کی جانب سے ہوائی اڈے پر دیے گئے گرمجوش استقبال سے بے حد متاثر ہوا ہوں۔ میں ہماری بات چیت اور بھارت-ملیشیا دوستی کو مزید مضبوط بنانے کے لیے پُرامید ہوں۔‘‘
بھارتی برادری کے پروگرام میں مشترکہ شرکت
استقبالیہ تقریب کے بعد وزیراعظم نریندر مودی اور وزیر اعظم انور ابراہیم ایک ہی گاڑی میں سوار ہو کر کوالالمپور میں منعقدہ بھارتی برادری کے پروگرام میں شرکت کے لیے روانہ ہوئے۔ اس موقع پر بھی دونوں رہنماؤں کی قربت اور دوستانہ تعلقات نمایاں نظر آئے۔ اس حوالے سے وزیر اعظم مودی نے ایک اور پوسٹ میں کہا: ’’بھارت-ملیشیا عوامی روابط کا جشن! وزیر اعظم انور ابراہیم اور میں کوالالمپور میں کمیونٹی پروگرام کے لیے روانہ ہو رہے ہیں۔‘‘
اہم دو طرفہ مذاکرات، کئی معاہدوں کی توقع
اتوار کے روز دونوں وزرائے اعظم کے درمیان وسیع البنیاد دو طرفہ مذاکرات ہونے والے ہیں، جن میں دفاع، سلامتی، تجارت، سرمایہ کاری، اختراع، ڈیجیٹل ٹیکنالوجی اور عوامی روابط سمیت مختلف شعبوں میں تعاون کو فروغ دینے پر بات چیت متوقع ہے۔ ذرائع کے مطابق ان مذاکرات کے دوران کئی اہم معاہدوں اور مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط کیے جا سکتے ہیں، جو دونوں ممالک کے تعلقات کو نئی سمت اور رفتار فراہم کریں گے۔
جامع اسٹریٹجک شراکت داری پر زور
دورے سے قبل اپنے بیان میں وزیر اعظم مودی نے کہا تھا کہ بھارت اور ملیشیا کے درمیان تاریخی تعلقات حالیہ برسوں میں مسلسل مضبوط ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا: ’’میں وزیراعظم انور ابراہیم کے ساتھ اپنی بات چیت کا منتظر ہوں اور ہماری جامع اسٹریٹجک شراکت داری کو مزید وسعت دینا چاہتا ہوں۔ ہم دفاع اور سلامتی کے تعلقات کو گہرا کریں گے، اقتصادی و اختراعی شراکت کو فروغ دیں گے اور تعاون کو نئے شعبوں تک پھیلائیں گے۔‘‘ وزارت خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال نے بھی اس دورے کو انتہائی اہم قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس کا ایجنڈا وسیع اور بامعنی ہے، جو بھارت-ملیشیا خصوصی شراکت داری کو نئی توانائی فراہم کرے گا۔
بھارت-ملیشیا تعلقات: ایک مضبوط بنیاد
یہ وزیراعظم نریندر مودی کا ملیشیا کا تیسرا دورہ ہے اور اگست 2024 میں دونوں ممالک کے تعلقات کو جامع اسٹریٹجک شراکت داری میں اپ گریڈ کیے جانے کے بعد یہ پہلا سرکاری دورہ ہے۔ بھارت اور ملیشیا کے تعلقات مشترکہ تاریخ، تہذیب اور ثقافت پر مبنی ہیں۔ ملیشیا میں تقریباً 29 لاکھ بھارتی نژاد افراد آباد ہیں، جو دنیا میں تیسری سب سے بڑی اوورسیز بھارتی برادری ہے۔ یہ برادری دونوں ممالک کے درمیان عوامی رابطوں کا مضبوط پل ثابت ہو رہی ہے۔
نئے دور کی شروعات کی امید
تجزیہ کاروں کے مطابق یہ دورہ نہ صرف دو طرفہ تعلقات کو نئی جہت دے گا بلکہ جنوب مشرقی ایشیا میں بھارت کے سفارتی اثر و رسوخ کو بھی مزید مستحکم کرے گا۔ دفاع، تجارت، ڈیجیٹل معیشت اور اسٹریٹجک تعاون کے میدان میں ہونے والے ممکنہ معاہدے خطے میں امن، ترقی اور استحکام کے لیے اہم سنگِ میل ثابت ہو سکتے ہیں۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔




