PM Modi Encourages Malaysian Businesses: وزیر اعظم مودی کی ملائیشیائی بزنس لیڈرز سے ملاقات، بھارت میں سرمایہ کاری کی بھرپور ترغیب
وزیر اعظم مودی نے اپنے دو روزہ سرکاری دورۂ ملائیشیا کے دوران اتوار کو ملک کے سرکردہ بزنس لیڈرز سے ملاقات کی اور بھارت کی تیزی سے ابھرتی ہوئی معیشت، اصلاحات اور سرمایہ کاری کے وسیع مواقع پر تفصیلی تبادلۂ خیال کیا۔
India-Malaysia Relations: وزیر اعظم مودی کا ملائیشیا دورہ: تاریخی ثقافتی رشتوں سے مضبوط معاشی شراکت داری تک کا سفر رہا شاندار
وزیر اعظم مودی دو روزہ سرکاری دورۂ ملائیشیا مکمل کرنے کے بعد اتوار کو وطن واپس لوٹ آئے۔ اس دورے کو دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی، ثقافتی اور اسٹریٹجک تعلقات کو نئی توانائی دینے والا قرار دیا جا رہا ہے۔ وزیر اعظم نے کہا کہ یہ دورہ ہندوستان اور ملائیشیا کے باہمی تعاون کو مزید گہرائی اور رفتار فراہم کرے گا۔
India-Malaysia 6 Bilateral Agreements: سیمی کنڈکٹر سے ڈیجیٹل پیمنٹ تک: بھارت اور ملائیشیا کے درمیان چھ بڑے دوطرفہ معاہدوں پر دستخط
وزیراعظم مودی اور ملائیشیا کے وزیراعظم انور ابراہیم نے اتوار کو کوالالمپور میں ہونے والی دوطرفہ ملاقات کے دوران بھارت اور ملائیشیا کے درمیان تعاون کو نئی جہت دینے کے لیے چھ اہم دوطرفہ معاہدوں اور مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط کیے۔ ان معاہدوں کا مقصد تجارت، سرمایہ کاری، ڈیجیٹل ادائیگی، سلامتی، ماحولیات اور ثقافتی روابط کو مضبوط بنانا ہے۔
India-Malaysia ties: وزیراعظم مودی نے ملیشیا میں پرتپاک خیرمقدم کی جھلکیاں شیئر کیں، مشترکہ امنگوں پر مبنی شراکت داری کو مزید مضبوط بنانے پر زور
وزیر اعظم نریندر مودی کا یہ دورہ نہ صرف بھارت–ملیشیا تعلقات کو ایک نئی سمت دے رہا ہے بلکہ خطے میں امن، استحکام اور ترقی کے لیے بھی اہم ثابت ہو سکتا ہے۔ اعتماد، دوستی اور مشترکہ امنگوں پر مبنی یہ شراکت داری آنے والے وقت میں دونوں ملکوں کے لیے نئی کامیابیوں کے دروازے کھولنے کی امید دلا رہی ہے۔
PM Modi Malaysia visit: ملیشیا میں وزیراعظم مودی کا شاندار استقبال، وزیراعظم انورابراہیم سے اہم دو طرفہ مذاکرات، اسٹریٹجک شراکت داری کو نئی بلندیوں تک لے جانے پر زور
ملیشیا میں وزیر اعظم نریندر مودی کا پرتپاک استقبال اور اعلیٰ سطحی مذاکرات اس بات کی علامت ہیں کہ بھارت اور ملیشیا اپنے تاریخی تعلقات کو جدید تقاضوں کے مطابق نئی بلندیوں تک لے جانے کے لیے پُرعزم ہیں۔ یہ دورہ دونوں ممالک کے درمیان دوستی، اعتماد اور شراکت داری کے ایک نئے باب کا آغاز ثابت ہو سکتا ہے۔





