Bharat Express DD Free Dish

bilateral relations

مشترکہ پریس بیان میں وزیراعظم نریندر مودی نے ہندوستان اور سوئٹزرلینڈ کے درمیان بڑھتے ہوئے دوطرفہ تعلقات کا ذکر کیا اور یورپی فری ٹریڈ ایسوسی ایشن (EFTA) کے ساتھ تاریخی تجارت و اقتصادی شراکت داری معاہدے (TEPA) کے نفاذ کو اہم پیش رفت قرار دیا۔

واضح رہے کہ اسرائیل کے وزیراعظم نیتن یاہو کی تقریر شروع ہوتے ہی کئی ممالک کے مندوبین اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے ہال سے باہر چلے گئے تھے، تاہم متحدہ عرب امارات کا وفد اپنی نشستوں پر موجود رہا۔

بھارت اور اٹلی اپنے خصوصی اسٹریٹجک پارٹنرشپ کے دائرہ کار کو وسیع کر رہے ہیں۔ دونوں ممالک کے درمیان تجارت، دفاعی تعاون، کنیکٹیویٹی اور بھارت-یورپی یونین تجارتی معاہدے کے تناظر میں تعلقات کو مزید مضبوط بنانے پر توجہ دی جا رہی ہے۔

وزیر اعظم مودی نے کہا کہ تمام مسائل کا جلد از جلد پرامن حل وقت کی اہم ضرورت ہے اور یہی ہندوستان کا پیغام بھی ہے۔ انہوں نے کہا، ’’تمام مسائل کا جلد از جلد پرامن حل انسانیت کی پکار ہے اور یہی ہندوستان کا پیغام ہے۔ گاندھی کی سرزمین اور بدھ کی سرزمین ایک ہی پیغام دیتی ہیں، اور وہ ہے امن کا راستہ۔ آج میں آپ کے ساتھ ان معاملات پر بات چیت کا منتظر ہوں۔‘‘

ولادیمیر پوتن نے پیر کو بھارت اور روس کے درمیان تعلقات کو مضبوط بنانے میں وزیر اعظم نریندر مودی کی ذاتی توجہ اور قیادت کو سراہتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان ’خصوصی اور مراعات یافتہ اسٹریٹجک شراکت داری‘ مسلسل مستحکم ہو رہی ہے۔

وزیراعظم مودی کا یہ بیان اسرائیلی صدر اسحاق ہرزوگ کی جانب سے بھارت کو یومِ آزادی کی مبارکباد دیے جانے کے بعد سامنے آیا۔ ہرزوگ نے بھارت کی آزادی کی 80ویں سالگرہ کے موقع پر دونوں ممالک کے درمیان قریبی دوستی کو سراہا۔

دنیا بھر سے موصول ہونے والے یہ مبارکبادی پیغامات ایسے وقت میں آئے ہیں جب بھارت اپنی آزادی کی 80ویں سالگرہ منا رہا ہے۔ مختلف ممالک کے رہنماؤں اور حکومتوں نے بھارت کے ساتھ مضبوط شراکت داری کے عزم کا اعادہ کیا۔ ان پیغامات سے بھارت کے وسیع سفارتی روابط اور دوستی، تعاون، امن اور خوشحالی پر مبنی خطے کے قیام کے لیے اس کی شراکت داری کی اہمیت بھی اجاگر ہوتی ہے۔

دونوں رہنماؤں نے جامع عالمی اسٹریٹجک شراکت داری کے اہم شعبوں میں تعاون بڑھانے کے طریقوں پر گفتگو کی۔ یہ گفتگو ایسے وقت میں ہوئی ہے جب وینس نے ہفتہ کو کہا کہ واشنگٹن آبنائے ہرمز سے تجارتی جہازوں کی محفوظ آمدورفت کے لیے ایک راستہ قائم کرنے کی کوشش کر رہا ہے اور خطے میں جاری کشیدگی کے درمیان ایران پر دباؤ بھی برقرار رکھے ہوئے ہے۔

نیپال کا نیشنل آئیڈینٹیٹی کارڈ بھارت کے آدھار کارڈ کی طرز پر تیار کیا گیا ہے، جس میں فنگر پرنٹس، چہرے کی شناخت اور آنکھوں کے اسکین سمیت بایومیٹرک معلومات محفوظ ہوتی ہیں۔ نیپالی حکومت نے پاسپورٹ کے اجرا، اراضی کی رجسٹریشن، بینک اکاؤنٹ کھلوانے اور متعدد سرکاری خدمات کے لیے اس کارڈ کو لازمی قرار دیا ہے۔

امریکی رکن کانگریس تھانیدار نے آئی اے این ایس کو خصوصی انٹرویو میں کہا کہ گزشتہ دس برسوں میں بھارت کی ترقی قابل ستائش رہی ہے۔ انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ امریکہ اور بھارت کو چین کے چیلنج کا مل کر مقابلہ کرنا چاہیے۔