Bharat Express DD Free Dish

bilateral relations

دونوں ممالک نے جامع اقتصادی تعاون معاہدہ (CECA) کو جلد حتمی شکل دینے کے عزم کا بھی اعادہ کیا تاکہ تجارت اور سرمایہ کاری کو مزید فروغ دیا جا سکے۔ آسٹریلوی یورینیم کی برآمد، خلائی تعاون، اہم معدنیات، سائبر سکیورٹی اور ہند-بحرالکاہل میں مشترکہ حکمت عملی پر بھی اتفاق کیا گیا ہے۔

وزیراعظم نریندر مودی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر کہا کہ اس دورے کے دوران ہونے والے 18 اہم فیصلے اس بات کا ثبوت ہیں کہ بھارت اور آسٹریلیا مستقبل کو اعتماد کے ساتھ دیکھ رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک ترقی، اختراع اور مشترکہ خوشحالی کے نئے مواقع پیدا کرنے کے لیے مل کر کام کرتے رہیں گے۔

بھارتی وزارتِ خارجہ کے مطابق وزیراعظم مودی آکلینڈ میں اپنے ہم منصب کرسٹوفر لکسن کے ساتھ دوطرفہ مذاکرات کریں گے، جن میں تجارت، سرمایہ کاری، دفاع، عوامی روابط اور دیگر شعبوں میں تعاون کا جائزہ لیا جائے گا۔

شترکہ اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ 2020 میں قائم ہونے والی جامع اسٹریٹجک شراکت داری کے بعد دونوں ممالک کے اسٹریٹجک، اقتصادی اور عوامی روابط مسلسل مستحکم ہوئے ہیں۔ بھارت اور آسٹریلیا نے کواڈ سمیت مختلف علاقائی اور کثیرالجہت پلیٹ فارمز پر اپنے تعاون کو خطے کی سلامتی اور خوشحالی کے لیے نہایت اہم قرار دیا۔

دونوں ممالک ہند-بحرالکاہل خطے میں قابلِ اعتماد شراکت دار کے طور پر ابھر رہے ہیں اور آزاد، محفوظ اور خوشحال ہند-بحرالکاہل کے قیام کے لیے مشترکہ طور پر کام کر رہے ہیں۔ کواڈ جیسے کثیر جہتی پلیٹ فارمز پر بھی دونوں ممالک کا اشتراک علاقائی استحکام اور عالمی امن کے فروغ میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔

وزیراعظم نے کہا کہ بھارت توسیع پسندی نہیں بلکہ ترقی کی پالیسی پر یقین رکھتا ہے اور ’’سب کا ساتھ، سب کا وکاس‘‘ کے اصول پر عمل پیرا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگرچہ نئی دہلی اور جکارتہ کے درمیان ہزاروں کلومیٹر کا فاصلہ ہے، لیکن دونوں ممالک کو جدا کرنے والا سمندر درحقیقت انہیں جوڑنے والا ایک مضبوط پل ہے، جو مستقبل میں بھی ان کے تعلقات کو نئی بلندیوں تک لے جانے میں اہم کردار ادا کرے گا۔

وزیراعظم مودی نے کہا کہ بھارت اور انڈونیشیا پائیدار زراعت اور جدید زرعی ٹیکنالوجی کے شعبے میں ایک دوسرے کے بہترین تجربات سے فائدہ اٹھائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ اکیسویں صدی ٹیکنالوجی کی صدی ہے اور دونوں ممالک کے نوجوان جدید ٹیکنالوجی کے استعمال میں غیر معمولی دلچسپی رکھتے ہیں۔

انڈونیشیائی صدر نے بھارت کے انتخابی نظام اور جمہوری عمل کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ ان کا ملک بھارت کے الیکشن کمیشن سے بہت کچھ سیکھ رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایک ارب چالیس کروڑ سے زائد آبادی، مختلف نسلوں، زبانوں اور ثقافتوں کے باوجود بھارت میں پرامن طریقے سے اقتدار کی منتقلی ایک غیر معمولی کامیابی ہے۔ صدر سوبیانتو نے کہا کہ وہ بھارت کی اس کامیاب جمہوری روایت اور اس کی نمایاں کامیابیوں کا مسلسل مطالعہ کر رہے ہیں اور ان سے رہنمائی حاصل کر رہے ہیں۔

مشترکہ بیان کے مطابق سائنس و ٹیکنالوجی کے شعبے میں تعاون کو مزید وسعت دینے پر بھی اتفاق کیا گیا۔ دونوں ممالک نے خلائی تحقیق میں جاری شراکت داری کا جائزہ لیا اور پرامن مقاصد کے لیے خلا کے استعمال سے متعلق اپنے معاہدے میں توسیع کی۔

وزیراعظم نے کہا کہ بھارت اور انڈونیشیا صدیوں پرانے تہذیبی، ثقافتی اور عوامی روابط سے جڑے ہوئے ہیں۔ انہوں نے دونوں ممالک کے درمیان جامع اسٹریٹجک شراکت داری کو مزید مضبوط بنانے، آزاد اور ضابطہ پر مبنی ہند-بحرالکاہل کے فروغ اور باہمی تعاون کے نئے باب کے آغاز کے عزم کا اعادہ کیا۔