Bharat Express DD Free Dish

India-Australia Joint Declaration: بھارت اور آسٹریلیا کے درمیان دفاعی صنعتوں کے انضمام پر اتفاق، بھارت-بحرالکاہل کے لیے مشترکہ اعلامیہ جاری

شترکہ اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ 2020 میں قائم ہونے والی جامع اسٹریٹجک شراکت داری کے بعد دونوں ممالک کے اسٹریٹجک، اقتصادی اور عوامی روابط مسلسل مستحکم ہوئے ہیں۔ بھارت اور آسٹریلیا نے کواڈ سمیت مختلف علاقائی اور کثیرالجہت پلیٹ فارمز پر اپنے تعاون کو خطے کی سلامتی اور خوشحالی کے لیے نہایت اہم قرار دیا۔

میلبورن: بھارت اور آسٹریلیا نے اپنی جامع اسٹریٹجک شراکت داری کو مزید مضبوط بناتے ہوئے سال 2026 کے لیے دفاع اور سلامتی کے تعاون سے متعلق مشترکہ اعلامیہ جاری کیا ہے۔ دونوں ممالک کے وزرائے اعظم نے آزاد، پُرامن، مستحکم اور خوشحال ہند-بحرالکاہل خطے کے مشترکہ وژن کا اعادہ کرتے ہوئے دفاع، سمندری سلامتی، سائبر سکیورٹی، انسدادِ دہشت گردی اور آفات سے نمٹنے کے شعبوں میں تعاون کو مزید تیز کرنے کے عزم کا اظہار کیا۔

جامع اسٹریٹجک شراکت داری کو مزید وسعت

مشترکہ اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ 2020 میں قائم ہونے والی جامع اسٹریٹجک شراکت داری کے بعد دونوں ممالک کے اسٹریٹجک، اقتصادی اور عوامی روابط مسلسل مستحکم ہوئے ہیں۔ بھارت اور آسٹریلیا نے کواڈ سمیت مختلف علاقائی اور کثیرالجہت پلیٹ فارمز پر اپنے تعاون کو خطے کی سلامتی اور خوشحالی کے لیے نہایت اہم قرار دیا۔ دونوں ممالک نے خطے میں بڑھتی ہوئی جغرافیائی و سیاسی غیر یقینی صورتحال اور امن و استحکام کو درپیش چیلنجز پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے تمام ممالک پر زور دیا کہ وہ بین الاقوامی قانون کے مطابق طاقت یا دباؤ کے بجائے بات چیت کے ذریعے تنازعات کا پُرامن حل تلاش کریں۔

دفاعی اور سمندری تعاون کو نئی رفتار

اعلامیے میں قواعد پر مبنی بین الاقوامی نظام، ممالک کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے احترام، نیز 1982 کے اقوام متحدہ کے سمندری قانون (UNCLOS) کے مطابق سمندری راستوں اور فضائی آمدورفت کی آزادی کے عزم کا اعادہ کیا گیا۔ اس کے ساتھ ہی ہند بحرِ ہند رم ایسوسی ایشن (IORA)، آسیان اور پیسیفک آئی لینڈز فورم (PIF) کے علاقائی کردار کی حمایت بھی کی گئی۔ دونوں ممالک نے دفاعی تعاون کو مزید گہرا کرنے کے لیے ہند-بحرالکاہل سے متعلق دفاعی امور پر باقاعدہ مشاورت، مشترکہ فوجی مشقوں کی وسعت، مسلح افواج کے درمیان باہمی عملی صلاحیت (Interoperability) اور معلومات کے تبادلے کو مضبوط بنانے، فوجی طیاروں کی تعیناتی، دفاعی اہلکاروں کے تبادلے، تربیت اور دفاعی شعبے کے لیے ہنرمند افرادی قوت تیار کرنے پر اتفاق کیا۔ سمندری سلامتی کو دونوں ممالک کے دفاعی، اقتصادی اور اسٹریٹجک مفادات کا اہم ستون قرار دیتے ہوئے بھارت-آسٹریلیا میری ٹائم سکیورٹی کوآپریشن روڈ میپ تیار کرنے کا فیصلہ کیا گیا، جس کے ذریعے سمندری تعاون کی گہرائی، تسلسل اور تکنیکی صلاحیت میں اضافہ کیا جائے گا۔

دفاعی صنعت، سائبر سکیورٹی پر خصوصی توجہ

مشترکہ اعلامیے میں دفاعی صنعتوں کے انضمام، دفاعی سپلائی چین کو زیادہ مضبوط اور لچکدار بنانے، دفاعی اختراع، سائنس اور جدید ٹیکنالوجی میں تعاون بڑھانے کا بھی عزم ظاہر کیا گیا۔ اسی طرح سائبر سکیورٹی، اہم اور ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز اور سپلائی چین کے شعبوں میں تعاون کو آسٹریلیا-بھارت معاہدوں کے تحت مزید مضبوط بنانے پر اتفاق ہوا۔ دونوں ممالک نے دہشت گردی سے متعلق معلومات کے تبادلے کو بڑھانے، دہشت گردی کی مالی معاونت، اہم بنیادی ڈھانچے کے تحفظ، سمندری سلامتی، آن لائن انتہا پسندی، غیر قانونی ہجرت، انسانی اسمگلنگ اور بین الاقوامی منظم جرائم کے خلاف مشترکہ اقدامات جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا۔ اعلامیے میں جوہری ہتھیاروں سے پاک دنیا، جوہری عدم پھیلاؤ اور قابلِ تصدیق عالمی جوہری تخفیفِ اسلحہ کی حمایت کا بھی اعادہ کیا گیا۔ اس کے علاوہ امریکہ، جاپان اور دیگر ہند-بحرالکاہل شراکت داروں کے ساتھ تعاون بڑھانے، کواڈ کے تحت انسانی امداد اور آفات سے نمٹنے (HADR) کی کارروائیوں کو مضبوط بنانے، مشترکہ مشقوں کے انعقاد اور قدرتی آفات یا ہنگامی حالات میں مربوط ردعمل اور تیسرے ممالک سے انخلا کی مشترکہ منصوبہ بندی پر بھی اتفاق کیا گیا۔ مشترکہ اعلامیے میں کہا گیا کہ اس جامع اور پرعزم ایجنڈے کا مقصد ایک پُرامن، محفوظ، مستحکم اور خوشحال ہند-بحرالکاہل خطے کی تشکیل میں مؤثر کردار ادا کرنا ہے۔

بھارت ایکسپریس اردو۔



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read