Bharat Express DD Free Dish

Indo-Pacific

وزیر اعظم نے مودی کہا کہ نیوزی لینڈ باغبانی، ڈیری سائنس اور جنگلات کے شعبے میں وسیع مہارت رکھتا ہے، جبکہ بھارت کے پاس بڑی صارف منڈی، فوڈ پارکس اور زرعی ٹیکنالوجی کی صلاحیت موجود ہے۔ دونوں ممالک مل کر کھیت سے بازار تک ویلیو چین اور عالمی برآمدی پلیٹ فارم قائم کر سکتے ہیں۔

مذاکرات کے دوران وزیر اعظم مودی نے جمعہ کی شام ہوائی اڈے پر خود استقبال کرنے پر وزیر اعظم لکسن کا شکریہ ادا کرتے ہوئے اسے دونوں ممالک کے درمیان گرمجوش تعلقات کی علامت قرار دیا۔ انہوں نے کہا، ’’گزشتہ رات آپ کا مجھے لینے کے لیے ہوائی اڈے آنا میرے لیے ایک خاص اشارہ تھا، جس کے لیے میں دل کی گہرائیوں سے آپ کا شکر گزار ہوں۔

دونوں ممالک نے جامع اقتصادی تعاون معاہدہ (CECA) کو جلد حتمی شکل دینے کے عزم کا بھی اعادہ کیا تاکہ تجارت اور سرمایہ کاری کو مزید فروغ دیا جا سکے۔ آسٹریلوی یورینیم کی برآمد، خلائی تعاون، اہم معدنیات، سائبر سکیورٹی اور ہند-بحرالکاہل میں مشترکہ حکمت عملی پر بھی اتفاق کیا گیا ہے۔

وزیراعظم نریندر مودی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر کہا کہ اس دورے کے دوران ہونے والے 18 اہم فیصلے اس بات کا ثبوت ہیں کہ بھارت اور آسٹریلیا مستقبل کو اعتماد کے ساتھ دیکھ رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک ترقی، اختراع اور مشترکہ خوشحالی کے نئے مواقع پیدا کرنے کے لیے مل کر کام کرتے رہیں گے۔

10 اور 11 جولائی پر مشتمل اس دو روزہ دورے کے دوران وزیر اعظم مودی کی "ایکٹ ایسٹ" پالیسی کے تحت انڈو پیسیفک خطے میں تعاون کو مزید وسعت دینے پر خصوصی توجہ رہے گی۔ دونوں ممالک کے درمیان سمندری سلامتی، اسٹریٹجک شراکت داری اور اقتصادی تعاون کو مضبوط بنانے کے امکانات پر بھی تبادلہ خیال کیا جائے گا۔

شترکہ اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ 2020 میں قائم ہونے والی جامع اسٹریٹجک شراکت داری کے بعد دونوں ممالک کے اسٹریٹجک، اقتصادی اور عوامی روابط مسلسل مستحکم ہوئے ہیں۔ بھارت اور آسٹریلیا نے کواڈ سمیت مختلف علاقائی اور کثیرالجہت پلیٹ فارمز پر اپنے تعاون کو خطے کی سلامتی اور خوشحالی کے لیے نہایت اہم قرار دیا۔

دونوں ممالک ہند-بحرالکاہل خطے میں قابلِ اعتماد شراکت دار کے طور پر ابھر رہے ہیں اور آزاد، محفوظ اور خوشحال ہند-بحرالکاہل کے قیام کے لیے مشترکہ طور پر کام کر رہے ہیں۔ کواڈ جیسے کثیر جہتی پلیٹ فارمز پر بھی دونوں ممالک کا اشتراک علاقائی استحکام اور عالمی امن کے فروغ میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔

مغربی ایشیا کی صورتِ حال پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے دونوں رہنماؤں نے مذاکرات اور سفارت کاری کے ذریعے کشیدگی کم کرنے کی حمایت کی اور بین الاقوامی قانون کے مطابق آبنائے ہرمز میں جہاز رانی اور آمدورفت کی آزادی برقرار رکھنے کی اہمیت پر زور دیا۔ 

وزیراعظم نریندر مودی اور انڈونیشیا کے صدر پرابوو سبیانتو نے ملاقات کے دوران تجارت، سرمایہ کاری، دفاع، سمندری تعاون، توانائی، صحت، ادویات، خلائی تحقیق، نایاب معدنیات، سیاحت، ثقافت اور عوامی روابط سمیت جامع اسٹریٹجک شراکت داری کے تمام پہلوؤں کا بھی جائزہ لیا۔

وزیراعظم آسٹریلیا میں ایک بڑے کمیونٹی پروگرام سے بھی خطاب کریں گے۔ آسٹریلیا میں تقریباً دس لاکھ بھارتی نژاد افراد آباد ہیں اور یہ ملک کی تیزی سے ترقی کرنے والی بڑی تارکینِ وطن برادریوں میں شمار ہوتے ہیں۔ بھارتی برادری کو دونوں ممالک کے تعلقات کا ایک مضبوط ستون تصور کیا جاتا ہے۔