Bharat Express DD Free Dish

defence cooperation

بھارت اور اٹلی اپنے خصوصی اسٹریٹجک پارٹنرشپ کے دائرہ کار کو وسیع کر رہے ہیں۔ دونوں ممالک کے درمیان تجارت، دفاعی تعاون، کنیکٹیویٹی اور بھارت-یورپی یونین تجارتی معاہدے کے تناظر میں تعلقات کو مزید مضبوط بنانے پر توجہ دی جا رہی ہے۔

دونوں ممالک نے جامع اقتصادی تعاون معاہدہ (CECA) کو جلد حتمی شکل دینے کے عزم کا بھی اعادہ کیا تاکہ تجارت اور سرمایہ کاری کو مزید فروغ دیا جا سکے۔ آسٹریلوی یورینیم کی برآمد، خلائی تعاون، اہم معدنیات، سائبر سکیورٹی اور ہند-بحرالکاہل میں مشترکہ حکمت عملی پر بھی اتفاق کیا گیا ہے۔

وزیراعظم نریندر مودی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر کہا کہ اس دورے کے دوران ہونے والے 18 اہم فیصلے اس بات کا ثبوت ہیں کہ بھارت اور آسٹریلیا مستقبل کو اعتماد کے ساتھ دیکھ رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک ترقی، اختراع اور مشترکہ خوشحالی کے نئے مواقع پیدا کرنے کے لیے مل کر کام کرتے رہیں گے۔

شترکہ اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ 2020 میں قائم ہونے والی جامع اسٹریٹجک شراکت داری کے بعد دونوں ممالک کے اسٹریٹجک، اقتصادی اور عوامی روابط مسلسل مستحکم ہوئے ہیں۔ بھارت اور آسٹریلیا نے کواڈ سمیت مختلف علاقائی اور کثیرالجہت پلیٹ فارمز پر اپنے تعاون کو خطے کی سلامتی اور خوشحالی کے لیے نہایت اہم قرار دیا۔

دونوں ممالک ہند-بحرالکاہل خطے میں قابلِ اعتماد شراکت دار کے طور پر ابھر رہے ہیں اور آزاد، محفوظ اور خوشحال ہند-بحرالکاہل کے قیام کے لیے مشترکہ طور پر کام کر رہے ہیں۔ کواڈ جیسے کثیر جہتی پلیٹ فارمز پر بھی دونوں ممالک کا اشتراک علاقائی استحکام اور عالمی امن کے فروغ میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔

مغربی ایشیا کی صورتِ حال پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے دونوں رہنماؤں نے مذاکرات اور سفارت کاری کے ذریعے کشیدگی کم کرنے کی حمایت کی اور بین الاقوامی قانون کے مطابق آبنائے ہرمز میں جہاز رانی اور آمدورفت کی آزادی برقرار رکھنے کی اہمیت پر زور دیا۔ 

وزیراعظم نریندر مودی اور انڈونیشیا کے صدر پرابوو سبیانتو نے ملاقات کے دوران تجارت، سرمایہ کاری، دفاع، سمندری تعاون، توانائی، صحت، ادویات، خلائی تحقیق، نایاب معدنیات، سیاحت، ثقافت اور عوامی روابط سمیت جامع اسٹریٹجک شراکت داری کے تمام پہلوؤں کا بھی جائزہ لیا۔

بھارت اور یو اے ای نے اسٹریٹجک ڈیفنس پارٹنرشپ فریم ورک پر کام کرنے پر بھی اتفاق کیا ہے، جس کے تحت دفاعی صنعت، جدید ٹیکنالوجی، تربیت و تعلیم، اسپیشل آپریشنز، سائبر سکیورٹی اور انسداد دہشت گردی جیسے شعبوں میں تعاون بڑھایا جائے گا۔

بھارت اور انڈونیشیا کے درمیان اس معاہدے پر کافی عرصے سے بات چیت جاری ہے۔ اس سال جنوری میں انڈونیشیا کے اعلیٰ سیاسی اور فوجی وفد کے دورۂ نئی دہلی کے دوران اس معاملے پر تفصیل سے غور کیا گیا تھا۔