Bharat Express DD Free Dish

PM Modi Highlights Investment Goal: ہندوستان کا یورپ کے کسی اقتصادی بلاک کے ساتھ پہلا ایف ٹی اے، سوئس صدر گائے پارمیلن سے ملاقات میں پی ایم مودی نے 100 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کا بتایا ہدف

مشترکہ پریس بیان میں وزیراعظم نریندر مودی نے ہندوستان اور سوئٹزرلینڈ کے درمیان بڑھتے ہوئے دوطرفہ تعلقات کا ذکر کیا اور یورپی فری ٹریڈ ایسوسی ایشن (EFTA) کے ساتھ تاریخی تجارت و اقتصادی شراکت داری معاہدے (TEPA) کے نفاذ کو اہم پیش رفت قرار دیا۔

نئی دہلی: وزیراعظم نریندر مودی اور سوئٹزرلینڈ کے صدر گائے پارمیلن کی موجودگی میں پیر کے روز دارالحکومت کے حیدرآباد ہاؤس میں ہندوستان اور سوئس کنفیڈریشن کے درمیان متعدد مفاہمت کی یادداشتوں (MoUs) پر دستخط کیے گئے۔ وفد کی سطح پر مذاکرات کے بعد مشترکہ پریس بیان میں وزیراعظم نریندر مودی نے ہندوستان اور سوئٹزرلینڈ کے درمیان بڑھتے ہوئے دوطرفہ تعلقات کا ذکر کیا اور یورپی فری ٹریڈ ایسوسی ایشن (EFTA) کے ساتھ تاریخی تجارت و اقتصادی شراکت داری معاہدے (TEPA) کے نفاذ کو اہم پیش رفت قرار دیا۔ وزیر اعظم مودی نے کہا، ’’سب سے پہلے میں ہندوستان-سوئٹزرلینڈ تعلقات کے لیے ان کے عزم کی قدر کرتا ہوں۔ گزشتہ سال اکتوبر میں ان کی ذاتی حمایت سے ہم نے یورپی فری ٹریڈ ایسوسی ایشن کے ساتھ ایک تاریخی تجارت و اقتصادی شراکت داری معاہدہ نافذ کیا۔ یہ یورپ کے کسی اقتصادی بلاک کے ساتھ ہندوستان کا پہلا ایف ٹی اے ہے۔‘‘ انہوں نے کہا کہ یہ معاہدہ سرمایہ کاری، اختراع، روزگار اور باہمی خوشحالی کے لیے ایک پرعزم منصوبہ بھی ہے۔

15 برس میں 100 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری، 10 لاکھ ملازمتیں

وزیر اعظم نے کہا، ’’اس کے ذریعے ہم اگلے 15 برس میں ہندوستان میں 100 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری اور 10 لاکھ براہِ راست ملازمتوں کے ہدف کو حاصل کریں گے۔‘‘ تجارتی تعلقات کو وسعت دینے کے لیے کیے گئے اقدامات کا ذکر کرتے ہوئے پی ایم مودی نے کہا کہ سوئٹزرلینڈ میں ہندوستانی مصنوعات کے لیے مارکیٹ تک رسائی بہتر بنانے اور دونوں ممالک کے درمیان سرمایہ کاری کو مزید آسان بنانے کے لیے کئی اہم فیصلے کیے گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس سے سوئٹزرلینڈ کو ہندوستان کی زرعی، فارما، ٹیکسٹائل اور انجینئرنگ مصنوعات کی برآمد میں اضافہ ہوگا۔ ساتھ ہی بایوٹیک، لائف سائنسز، بینکنگ، انشورنس، فوڈ پروسیسنگ اور پائیداری جیسے اہم شعبوں میں سوئٹزرلینڈ کی نئی سرمایہ کاری ہندوستان میں لانے میں مدد ملے گی۔

’لوگوں کے درمیان تعلقات شراکت داری کی سب سے بڑی طاقت‘

وزیر اعظم مودی نے نوجوان پیشہ ور افراد اور اسکالرز کی سرحد پار آمدورفت کو آسان بنانے کے مقصد سے کیے گئے معاہدوں کا بھی ذکر کیا۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کے عوام کے درمیان روابط دوطرفہ شراکت داری کی بنیاد ہیں۔ انہوں نے کہا، ’’لوگوں کے درمیان تعلقات ہماری شراکت داری کی سب سے بڑی طاقت ہیں۔ آج دستخط کیے گئے مائیگریشن اینڈ موبیلیٹی پارٹنرشپ ایگریمنٹ اور ینگ پروفیشنلز ایگریمنٹ کے ذریعے ہندوستانی طلبہ، محققین، پیشہ ور افراد اور نوجوانوں کے لیے سوئٹزرلینڈ میں بہت سے نئے مواقع پیدا ہوں گے۔‘‘ وزیر اعظم مودی کی دعوت پر پیر کے روز ہندوستان پہنچنے والے صدر گائے پارمیلن تین روزہ سرکاری دورے پر ہیں۔ ان کے دورے کا مقصد تجارت، سرمایہ کاری، سائنسی ترقی، تکنیکی اختراع اور افرادی قوت کی نقل و حرکت سمیت مختلف شعبوں میں دوطرفہ تعاون کو مزید فروغ دینا ہے۔ وزارت خارجہ کے مطابق صدر پارمیلن کے ہمراہ اعلیٰ عہدیداروں اور کاروباری شعبے کے سرکردہ افراد پر مشتمل وفد بھی ہندوستان آیا ہے۔ یہ ہندوستان کا ان کا پہلا سرکاری دورہ اور رواں سال ہندوستان کا دوسرا دورہ ہے۔ اس سے قبل انہوں نے فروری 2026 میں نئی دہلی میں منعقدہ اے آئی امپیکٹ سمٹ میں شرکت کی تھی۔ دورے کے دوران صدر پارمیلن صدر دروپدی مرمو سے بھی ملاقات کریں گے، جو ان کے اعزاز میں ایک رسمی ضیافت کا اہتمام کریں گی۔ وہ 7 اکتوبر کو دوسرے انڈیا-ای ایف ٹی اے پراسپیریٹی سمٹ میں بھی شرکت کریں گے، جو TEPA کے نفاذ کی پہلی سالگرہ کے موقع پر منعقد کیا جا رہا ہے۔ وزارت خارجہ کے مطابق ای ایف ٹی اے کے رکن ممالک میں سوئٹزرلینڈ ہندوستان کا سب سے بڑا تجارتی اور سرمایہ کاری شراکت دار ہے۔ وزارت نے کہا کہ ہندوستان اور سوئٹزرلینڈ کے درمیان دیرینہ دوستانہ تعلقات ہیں اور یہ دورہ باقاعدہ اعلیٰ سطحی تبادلوں کی بنیاد پر دوطرفہ تعلقات کو مزید مضبوط کرے گا اور باہمی دلچسپی کے نئے شعبوں میں تعاون کو گہرا کرے گا۔

بھارت ایکسپریس اردو۔



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read